English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کے ڈی اے میں عہدوں کی خرید و فروخت کا انکشاف

محکمہ لینڈ، ریکوری، انجینئرنگ سمیت دیگر محکموں میں تعیناتی کیلئے عہدوں کی بولیاں لگنے لگیں
ادارے میں افسران کے صبح تبادلے اور شام میں مک مکا کے بعد احکامات واپس لئے جانا معمول بن گیا
کراچی(وقا ئع نگار خصوصی)ادارہ ترقیات کراچی کے محکمہ لینڈ،محکمہ ریکوری،محکمہ انجینئرنگ سمیت دیگر محکموں میں عہدوں کی خریدوفروخت کا انکشاف،محکمہ لینڈ میں تعیناتی کیلئے عہدوں کی بولیاں لگنے لگیں،ادارے میں افسران کے صبح تبادلے اور شام میںمک مکا کے بعد احکامات واپس لئے جانا معمول بن گیا،منافع بخش عہدے بچانے کیلئے افسران نے خزانوں کے منہ کھول دیئے،ممبر ایڈ منسٹریشن کی ہدایت پر تبادلے وتقرریاں کی جارہی ہیں،ڈی جی کے ڈی اے صورتحال سے پریشان۔انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق ادارہ ترقیات کراچی میں سابق ڈی جی بندر جمیل میندھروکی طرح ایک مرتبہ پھر ادارے کے منافع بخش عہدوں پر تعینات افسران کے صبح تبادلے اور شام میں مبینہ مک مکا کے بعد تبادلے کے احکامات واپس لئے جانے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ بلخصوص محکمہ لینڈ،محکمہ ریکوری اور محکمہ انجینئرنگ میں عہدوں کی خریدوفروخت کا سلسلہ جاری ہے اس سلسلے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند روز قبل محکمہ لینڈ گلشن اقبال کے ایک سپریٹنڈنٹ کے تبادلے کے احکامات ممبر ایڈ منسٹریشن قدیر منگی کی جانب سے جاری کئے گئے تاہم اچانک اگلے ہی روز مذکورہ افسر کے تبادلے کے احکامات واپس لئے جانے کی ہدایت کردی گئی اسی طرح دیگر محکموں جس میں محکمہ لینڈ ،محکمہ ریکوری،محکمہ اسٹیٹ،محکمہ انجینئرنگ کے دیگر افسران کے تبادلے کے بعد ان احکامات کوواپس لے لیا گیا، اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ڈی اے میں افسران کے تبادلے کے احکامات جاری اوربعد ازاں مک مکا کے بعد احکامات واپس لئے جانا معمول بن گیا ہے، ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ممبر ایڈمنسٹریشن وڈائریکٹر لینڈ قدیر منگی کی ہدایت پر محکمہ اسٹیٹ انفورسمنٹ کے ایک افسر بشیر سیپوکو محکمہ لینڈ قصبہ میں اے ڈی تعینات کیا گیا ہے جبکہ مذکورہ افسر پر سنگین بدعنوانیوں کے الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں،واضح رہے کہ ممبر ایڈ منسٹریشن قدیر منگی جن کے پاس ڈائریکٹر لینڈ کا چارج بھی ہے مذکورہ تمام تبادلے ومنسوخی کے احکامات ان کی ہدایت پر جاری کئے جاتے ہیں جبکہ موجودہ صورتحال سے ڈی جی کے ڈی اے ڈاکٹر سیف الرحمن کو مکمل طور پر لاعلم رکھا جارہا ہے،کے ڈی اے کے افسران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے عہدے بچانے کیلئے بھاری فرمائشیں پوری کرنے پر مجبور ہیں۔اس سلسلے میں ممبر ایڈ منسٹریشن وڈائریکٹر لینڈ قدیر منگی سے ان کا موقف جاننے کیلئے رابطہ کیا گیا تاہم انہوں نے کال اٹینڈ نہیں کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے