طرابلس (انٹرنیشنل ڈیسک) لیبیا کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ وزیر اعظم فائز سراج نے جنگ بندی کے موضوع پر ہونے والے اجلاس میں مزید شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق وزیراعظم فائز سراج کا کہنا ہے کہ طرابلس پر تازہ حملے کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں مذاکرات کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا۔ منگل کے روز طرابلس پر کئی راکٹ داغے گئے تھے۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں یہ مذاکراتی سلسلہ منگل کے روز شروع ہوا تھا۔ اس موقع پر لیبیا کی فوج کے اعلیٰ افسران اور باغی رہنما خلیفہ حفتر بھی جنیوا میں موجود ہیں، تاہم فریقین کے مابین براہِ راست ملاقات نہیں ہوئی۔ لیبیا کی متحدہ قومی حکومت کے پریس آفس سے جاری کردہ تحریری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے دارالحکومت طرابلس میں اپنے دفتر میں الجزائر کے و زیر خارجہ صابری بوقادوم سے ملاقات کی۔ اس موقع پر حملوں کے سد باب کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر اپنے گھر بار کو ترک کرنے پر مجبور ہونے والے شہریوں کی واپسی تک دارالحکومت پر حملے نہ کیے جانے کی ضمانت لیے بغیر محض امن کا تذکرہ کرتے ہوئے کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ الجزائری وزیر خارجہ نے بھی ملاقات کے دوران اپنے ملک کی جانب سے لیبیا کی متحدہ قومی حکومت کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ لیبیا کے بحران کا عسکری حل ایک متبادل نہیں ہے۔ الجزائر حالیہ جنگ کا سدباب کرنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائے گا۔
لیبیا ،قومی حکومت نے جنیوا مذاکرات کا بائیکاٹ کردیا
القمر
