دمشق/ غزہ (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی فوج نے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی اور شام کے دارالحکومت دمشق میں اسلامی جہاد کے مراکز پر بم باری کی، جس کے نتیجے میں 2 فلسطینی کمانڈر شہید ہوگئے۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائی ادرعی نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے دمشق میں اسلامی جہاد کے عسکری ونگ القدس بریگیڈ کے اسلحہ سازی کے مراکز کو نشانہ بنایا۔ اسلامی جہاد نے اسرائیلی فوج کی طرف سے اتوار اور پیر کی درمیانی شب دمشق میں کی گئی بم باری کے دوران جماعت کے 2 کارکنوں کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ پیر کی صبح جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ قابض اسرائیلی فوج نے دمشق میں جماعت کے عسکری ونگ القدس بریگیڈ کے مراکز پر وحشیانہ بم باری کی، جس کے نتیجے میں 2کمانڈر 24 سالہ سلیم احمد سلیم اور 23 سالہ زیاد احمد منصور شہید ہوگئے۔اسلامی جہاد نے اسرائیلی فوج کی بم باری کو وحشیانہ اور بزدلانہ حملہ قرار دیا، اور کہا کہ جماعت اپنے شہدا کے خون کو رائے گاں نہیں جانے دے گی، بلکہ القدس بریگیڈ کے جانثار صہیونی دشمن کو اس کی سفاکیت کا سبق سکھائیں گے۔ اتوار کی شام اسرائیلی فوج نے غزہ پر بھی کئی مقامات پر فضائی حملے کیے۔ یہ حملے فلسطینیوں کی طرف سے یہودی کالونیوں پر راکٹ حملوں کے بعد کیے گئے۔ یہ سلسلہ پیر کے روز بھی جاری رہا۔ فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیل میں درجنوں مقامات پر راکٹ داغے، جن کے نتیجے میں کئی یہودی آبادکار زخمی ہوگئے اور ان کی املاک کو نقصان پہنچا۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بھی غزہ پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ جنگی طیاروں نے مختلف رہایشی علاقوں پر بم باری کی، جس میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
غزہ: رہایشی علاقے پر اسرائیلی بم باری کے نتیجے میں شعلے اور دھواں بلند ہورہا ہے‘ صہیونی دفاعی نظام فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹوں کا تعاقب کررہا ہے‘ یہودی آبادکار حملوں سے ہونے والا نقصان دیکھ رہے ہیں
شام اور غزہ پر اسرائیلی بمباری ،2 فلسطینی کمانڈر شہید
القمر
