مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ بیت المقدس میں قائم کی گئی نئی کالونی میں ایک ہزار مکانات کی تعمیر کے لیے تیاریاں شروع کردیں۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزارت ہائوسنگ اور وزیراعظم ہائوس جلد ہی بیت المقدس میں یہودی کالونی میں ایک ہزار مکانات کی تعمیر کی منظوری دیں گے۔ عبرانی میڈیا کے مطابق جمعرات کے روز وزیراعظم نیتن یاہو نے یہودی کالونیوں میں مزید 5ہزار گھروں کی تعمیر کا اعلان کیا گیا تھا،جس کے پہلے حصے کی تکمیل کے لیے حکومت جلد ہی ایک ہزار مکانات کی تعمیر کا کام شروع کرنا چاہتی ہے۔ دوسری جانب یورپین یونین نے اسرائیل کی جانب سے نئی تعمیرات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات سے فلسطینی محصور ہو کر رہ جائیں گے۔ یورپین خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل سمیت فرانس، جرمنی، اٹلی اور آئرلینڈ نے اسرائیل کی جانب سے ہار ہوما اور جیوات ہاماتوس میں بنائے جانے والے 5200 نئے گھروں کی تعمیر کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی ان نئی تعمیرات کے نتیجے میں مشرقی بیت المقدس اور بیت الحم میں رہنے والے فلسطینی مغربی کنارے سے کٹ جائیں گے اور دو ریاستی حل ناممکن ہو جائے گا۔ فرانس کا کہنا تھا کہ الاقوامی قوانین کے تحت ہر طرح کی نو آبادیات بنانا غیر قانونی ہے۔ یورپین یونین ان تعمیرات کی عرصے سے مخالفت کر رہی ہے جس کے نتیجے میں اب تک 6لاکھ 30ہزار فلسطینی گھر بار چھوڑ کر مغربی کنارے میں جانے پر مجبور ہوئے۔ چند روز قبل لکسمبرگ اجلاس میں اسرائیل کو روکنے کے طریقوں پر غور کیا گیا تھا۔
بیت المقدس میں یہود کے 1000 مکان بنانے کی تیاری
القمر
