لاہور(نمائندہ جسارت)لاہور سمیت پنجاب بھر میں کورونا وائرس کے خطرات کے باوجود اپوزیشن ارکان اسمبلی کی ریکوزیشن پر بلایا جانے والا پنجاب اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی دوپہر 2 بجے منعقد ہوا، اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کی زیرصدارت9 روز تک جاری رہنے والے اس اجلاس کے پہلے روز طے کیے گئے ایس او پیز کے تحت حکومت اور اپوزیشن کے 100 ارکان اسمبلی نے اجلاس کی کارروائی میں شرکت کی۔ جن میں سے 52 ارکان اسمبلی کا تعلق حکومتی اور 48 ارکان اسمبلی کا تعلق اپوزیشن کے بینچوں سے تھا۔ طے کیے گئے معاملات کے مطابق اپوزیشن یا حکومتی بنچوں میں سے کسی ایک رکن نے بھی کورم کی نشاندہی نہ کی۔ موجودہ حکومت کی 2سالہ تاریخ میں گزشتہ روز پہلی بار پنجاب اسمبلی کا اجلاس اچھے اور پرامن ماحول میں منعقد ہوا۔ جس میں صوبائی وزیر برائے محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر نے اپنے محکمے سے متعلق مختلف ارکان اسمبلی کے سوالات کے جوابات دیے۔ اجلاس میں متعدد مسودات قانون اور آرڈیننس بھی ایوان میں پیش کیے گئے، اس طرح اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز پروڈکشن آرڈر پر پنجاب اسمبلی پہنچے، جہاں انہوں نے اجلاس میں شرکت کی۔ واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے لیے خصوصی طور پر ایس او پیز تیار کیے گئے تھے۔ جس کے تحت تمام ارکان اسمبلی کو ماسک اور دستانے پہننا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ ارکان اسمبلی پر اپنے ساتھ مہمان لانے پر پابندی عاید تھی۔ اجلاس میں صرف اس وزیر کو شرکت کی اجازت تھی، جس کے محکمے سے متعلق سوالات ہونا تھے۔ اس طرح میڈیا کے داخلے پر مکمل پابندی عاید رہی جبکہ صرف سرکاری میڈیا کو اسمبلی میں داخلے کی اجازت تھی، یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اجلاس سے قبل اسمبلی سیکرٹریٹ کے تمام ملازمین کا کرونا ٹیسٹ لیا گیا۔
پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں 100 ارکان کی شرکت
القمر
