English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فضائی حملوں میں 35 طالبان جاں بحق،بھارت نے ہمیشہ غداروں کی مدد کی،افغان طالبان

القمر

کابل(صباح نیوز)افغانستان میں فضائی حملوں کے نتیجے میں35طالبان جاں بحق اور21زخمی ہوگئے۔افغان میڈیا کے مطابق افغان صوبوں پکتیکا اور پکتیا میں افغان فورسز نے طالبان پر فضائی حملہ کیے۔اس سے قبل افغانستان کے صدر اشرف غنی نے افغان فورسز کو احکامات دیے تھے کہ وہ اپنا دفاع کرنے کے بجائے جارحانہ کارروائیاں تیز کردیں۔ادھر قطر میں طالبان کے سیاسی دفترکے نائب سربراہ شیر محمد عباس استنکزئی نے کہا ہے کہبھارت نے افغانستان میں ہمیشہ غداروں کی مدد کی۔غیر ملکی نیوز ویب سائٹ کو انٹریو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ افغانستان میں بھارت کا کردار ہمیشہ منفی رہا ہے تاہم بھارت اگر افغانستان میں مثبت کردار ادا کرے تو افغان طالبان کو ان سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔شیر عباس استنکزئی نے کہا کہ اگر بھارت نئے افغانستان کی تعمیر کے لیے امن مذاکرات میں مثبت کردار ادا کرنا شروع کردے تو طالبان بھی مذاکرات کے لیے تیار ہوجائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت گزشتہ 40 سال سے افغانستان میں موجود ہے جہاں وہ افغانیوں کے بجائے ایک کرپٹ گروپ کے ساتھ سیاسی، عسکری اور معاشی تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں۔دوسری جانب افغان میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان امن عمل کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے اس سلسلے میں بھارتی قیادت سے ملاقات کی ہے اور امریکا نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت بھی افغان امن عمل کا حصہ بنے۔علاوہ ازیں افغان صدر اشرف غنی اور ان کے سیاسی حریف عبداللہ عبداللہ کے درمیان ایک بار پھر شرکت اقتدار کا معاہدہ طے پاگیا۔ صدر اشرف غنی کے ترجمان صادق صدیقی نے ٹویٹر پوسٹ میں بتایا ہے کہ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔ترجمان کے مطابق عبداللہ عبداللہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے والی افغان قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ ہوں گے اور ان کی ٹیم کے ارکان کو کابینہ میں بھی شامل کیا جائے گا جب کہ معاہدے کی مزید تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں رہنما حکومت بنانے پر رضامند ہوئے ہیں۔زلمے خلیل زاد نے کہا کہ ہم نئی حکومت کا خیر مقدم کرتے ہیں اور نیک تمناؤں کے خواہش مند ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں کو ماضی کی غلطیاں دوبارہ نہیں دہرانی چاہیں۔ عبداللہ عبداللہ کو سنجیدگی اور سرعت کے ساتھ قیام امن کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے