واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والا پُرتشدد احتجاج ایک تحریک کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ اس احتجاج کی ایک تازہ پیش رفت میں مظاہرین نے امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر سیاٹل میں کیپٹل ہل کے مقام پر ’’کیپٹل ہل خودمختار علاقہ‘‘ کے نام سے ایک علاقہ قائم کرلیا ہے، جہاں پولیس کا داخلہ ممنوع قرار دیا ہے۔ اس علاقے پر مظاہرین 48گھنٹوں سے قابض ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وہاں کی میئر کو مظاہرین کو ہٹانے ورنہ فوج بھیجنے کی دھمکی دینے کے باوجود صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ جمعہ کے روز بھی مظاہرین نے اس علاقے میں اپنا دھرنا جاری رکھا۔ انہوں نے سڑکوں، دیواروں اور مختلف مقامات پر چاکنگ کی۔ انہوں نے مرکزی سڑک پر جلی حروف میں ’’سیاہ فام کی زندگی معنی رکھتی ہے‘‘ لکھ رکھا ہے۔ جب کہ کہیں’’ہم سانس نہیں لے سکتے‘‘، ’’عوامی جمہوریہ‘‘ اور ’’کیپٹل ہل خود مختار علاقے میں خوش آمدید‘‘ لکھا۔ مظاہرین نے سڑکوں پر لگے بورڈ اتار کر نئے بورڈ بھی آویزاں کردیے۔ انہوں نے آزادی کے حق میں نعرے بھی لگائے۔ واضح رہے کہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان چند روز سے جاری جھڑپوں کے بعد سیاٹل کے پولیس اسٹیشن خالی پڑے ہیں اور وہاں کوئی اہل کار موجود نہیں۔ امریکی صدر نے مظاہرین پر حملہ کرتے ہوئے انہیں دہشت گرد اور بلوائی قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سیاٹل پر مقامی دہشت گردوں نے قبضہ کر لیا ہے، جنہیں انتہا پسند ڈیموکریٹ سیاستدانوں کی حمایت حاصل ہے۔ ٹرمپ نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں واشنگٹن کے گورنر جے انسلی اور سیاٹل کی میئر جنی ڈرکن پر تنقید اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے دھمکی دی کہ وہ شہر کو فورا کنٹرول میں لیں اور اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ٹرمپ خود یہ کام کریں گے۔ جب کہ جینی ڈرکن نے ٹرمپ کو جواب دیا کہ ٹرمپ غلط راستے پر گامزن ہیں۔
امریکا،مظاہرین کا خودساختہ پولیس سے آزاد علاقے پر قبضہ برقرار
القمر
