لندن/ عمان (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانوی حکومت نے 1967ء کی جنگ میں قبضہ کیے گئے فلسطینی علاقوں میں قائم یہودی کالونیوں میں تیار ہونے والی مصنوعات کو متنازع قرار دے کرانہیں دوسری مصنوعات سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانوی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ مقبوضہ عرب علاقوں میں قائم کی گئی یہودی کالونیوں کو اسرائیل کا حصہ تسلیم نہیں کرتی۔ مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں تیار کی گئی اسرائیلی مصنوعات کو متنازع قرار دے کرانہیں دوسری مصنوعات سے الگ رکھا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی بیت المقدس اور مغربی کنارے میں قائم کی گئی یہودی کالونیوں کی مصنوعات کو برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان تجارتی معاہدوں میں شامل اسرائیلی مصنوعات کی فہرست میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ برطانوی حکومت کی وزارت خزانہ، عالمی تعاون اور انکم ٹیکس نے تجارتی اداروں کو مکتوب ارسال کر دیے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ عرب علاقوں میں قائم اسرائیلی کارخانوں میں تیار ہونے والی مصنوعات پر متنازع کا ٹیگ لگائے جائیں۔ دوسری جانب اردن نے ایک بار پھراسرائیل کو خبر دار کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں پراپنی خود مختاری کے قیام سے باز رہے، ورنہ اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں امن کی تمام کوششیں تباہ ہوجائیں گی۔ اردنی وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے ایک بیان میں کہا کہ غرب اردن کے بعض علاقوں پر اسرائیلی خود مختاری کا منصوبہ امن عمل کی بنیادوں کو ختم کردے گا۔ فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس سے ملاقات کے بعد ایک بیان میں ایمن الصفدی کا کہنا تھا کہ عمان حکومت غرب اردن پر اسرائیلی خود مختاری کے قیام کو روکنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل کا استعمال کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اردن اور بعض دوسرے ممالک مل کر امن کے حصول کے لیے حقیقی مذاکرات کی فضا ہموار کرنے کی کوشش کرے گی، تاکہ اسرائیل کے ساتھ ساتھ اس کے پڑوس میں ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی مملکت قائم کی جاسکے۔ اردن نے تمام فلسطینی قوتوں پراپنی صفوں میں اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
