English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

یکساں نصاب۔۔۔کیا حکومت ترجیحات طے کرنے میں جلد بازی کر رہی ہے؟

 تعلیم انسان کی سوچ سمجھ میں نکھار پیدا کرتی ہے اوراس کی معاشی زندگی کا رخ متعین کرتی ہے۔ ایک ملک میں تین مختلف نظام تعلیم کا ہونا دراصل معاشرے کی اجتماعی نفسیات کی توڑ پھوڑ میں کلیدی کردار ادا کرتاہے۔یہی وجہ تھی کہ پی ٹی آئی حکومت کے ایجنڈے میں ملک بھر میں یکساں نظام تعلیم کا نفاذ بھی شامل تھا۔ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکل کام ہے جسے حکومت اپنی ترجیحات کے مطابق مرحلہ وار نافذ کرنا چاہ رہی ہے۔تاحال حکومت نے پرائمری جماعت تک کا نصاب تیار کرنے کا مژدہ سنایا ہے جسے مرحلہ وار نافذ کرنا ہے۔

یکساں قومی نصاب در حقیقت قومی ضروریات کی ترجیحات اورایک خاص آئیڈیالوجی کی بنیاد پر بنتاہے اور اس کا مرکزافراد کی تخلیقی صلاحیتوں سے زیادہ متوقع واضح نظر آنے اور جانچے جانے والے نتائج ہوتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں کامیابی اور ترقی کا تصور زیادہ نمبروں کا حصول ہے۔ کیونکہ بہتر گریڈز اور پرسنٹیج بہتر یونیورسٹی اوربہتر معاشی مستقبل کا ضامن سمجھی جاتی ہے۔حالانکہ سماج کو اس تعلیمی نظام میں سے لیڈر،پیروکار، ہیرو،تخلیق کار،پروڈیوسر،خدمت کار سب کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ معاشرہ آپس میں جڑا رہے اور متنوع ضروریات پوری ہوتی رہیں۔ایک اعتدال پسند تعلیمی پالیسی ہی ان مقاصد کو حاصل کرنے میں معاون ہو سکتی ہے۔

موجودہ پیش کیے جانے والے قومی نصاب پر اہل علم اور ماہرین تعلیم کی طرف سے کافی تنقید کی جارہی ہے۔سب سے بڑی تنقید یہ ہے کہ یہ نصاب حکومت وقت کی مذہبی اورسیاسی سوچ سے مطابقت رکھتا ہے نہ کہ طالب علموں کی علمی ضرورت اور تخلیقی صلاحیتوں کو اُجاگرکرنے سے۔ ناقدین کے مطابق فرقوں اور اقلیتوں کو ایک ہی نصاب پڑھایا جائے گاجوقومی بھائی چارہ کی فضا پیدا کرنے کے بجائے مذہبی منافرت کو بڑھائے گا۔مدارس کے فارغ التحصیل اصحاب کوقرآن و حدیث کی تعلیم کے لیے ملازمتیں دی جائیں گی۔والدین فکر مند ہیں کہ مدارس کی شدت پسندی اور فریسٹریشن طالب علموں کو عام طور طور پر متاثر کرے گی تاہم وزیر تعلیم نے اس خیال کی نفی کی ہے۔

نئے قومی نصاب میں طالب علموں کی فکری اور تخلیقی صلاحیتوں کے پنپنے کی بہت کم گنجائش ہے۔ معلومات حاصل کرنا اور ان کو سوچ وبچار سے علم میں بدلناہی جدید دنیا کی ضرورت ہے۔رٹہ لگا کر امتحان پاس کرنے والوں میں کچھ نیا کرنے کی صلاحیت والے بہت کم لوگ ہوں گے جو اس وقت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔جدید دنیا میں معلومات تو سب کی انگلیوں کی پہنچ میں ہیں ان کو استعمال کرنے کی صلاحیت بڑھاناتعلیمی اداروں کا م ہے۔اب کامیابی زیادہ نمبر لینے میں نہیں بلکہ اپنی تخلیقی صلاحیت سی مسائل کاعملی حل ڈھونڈنے میں ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ نئے نصاب میں چونکہ ایک اسلامی فرقہ کے طریقہ پر زور دینے سے دوسرے مسالک اور غیر مسلم کمیونٹی کے لیے مسائل بڑھ گئے ہیں۔1959اور1979 کی تعلیمی پالیسیوں میں قومی یکجہتی کے لیے مساویانہ مذہبی رواداری پرزور دیا گیا تھا۔ اس عمل سے فرقہ واریت کی نئی سوچ پیدا ہو گی۔ نا قدین کے مطابق نصاب معاشرتی شعور اور بنیادی انسانی حقوق پر خاموش ہےجس کے بغیر اچھے شہری کا تصور مکمل نہیں ہوتا۔

 نصاب میں اتنے بڑے پیمانے پر تبدیلی لانے کے بجائے تدریسی طریقہ کار اور اساتذہ کی اہلیت بڑھانے کی ضرورت تھی تاکہ طالب علم رٹہ سسٹم کے بجائے جدید طریقہ تعلیم سے

 جدید علوم پر مہارت حاصل کر سکیں۔ پہلے مرحلے پر مدارس کے نصاب اور طریقہ تدریس کو بدلنے کی ضرورت تھی۔وہاں مین اسٹریم ٹیچرز کی تعیناتی اور جدیدطریقہ تدریس سے تخلیقی صلاحیتوں کواُجاگر کرنے کی ضرورت تھی تاکہ لاکھوں بچے جو وسائل کی کمی کے باعث محدود نصاب اور انداز تدریس سے متاثر ہو رہے ہیں ان کے لیے معاشرے میں انضمام کے بہتر مواقع پیدا ہوں۔

شفقنا اردو

ur.shafaqana.com

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے