واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو 4 لاکھ مہاجرین کو ملک بدر کرنے کی اجازت دے دی۔ خبررساں اداروں کے مطابق امریکی عدالت نے مہاجرین کے لیے عارضی تحفظ کا پروگرام ختم کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے متنازع اقدامات کی توثیق کردی۔ عدالت کے فیصلے میں ایک جج نے مخالفت اور 2 نے ٹرمپ انتظامیہ کے حق میں فیصلہ دیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق عدالت نے ایک جج کی مخالفت کے باوجود فیصلہ سنا کر ٹرمپ انتظامیہ کے متنازع مؤقف کی حمایت کردی۔ امریکی میڈیا کے مطابق متنازع فیصلے سے ایل سلواڈور، ہیٹی ،نکارا گوا اور سوڈان کے تارکین وطن براہ راست متاثر ہوں گے، جب کہ شام، جنوبی سوڈان، صومالیہ اور یمن اس کی زد میں آنے سے محفوظ رہیں گے۔ اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے مہاجرین کے عارضی تحفظ کے پروگرام کو چیلنج کیا ہوا تھا۔ سرکاری وکلا نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ تارکین وطن کے آبائی ممالک میں ہنگامی کی صورت حال ختم ہوچکی ہے اور انہیں اب مزید تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد اب انہیں 5 مارچ 2021 تک امریکا میں رہنے کی اجازت ہوگی۔ واضح رہے کہ عارضی تحفظ کا پروگرام 1990ء میں سابق صدر جارج بش نے شروع کیا تھا ۔ اس سے قبل واشنگٹن حکومت نے 2018 ء میں بھی ایل سلواڈور کے 2لاکھ شہریوں کے اجازت نامے منسوخ کیے تھے۔ انہیں 2001 ء میں زلزلے آنے کے بعد عارضی تحفظ پروگرام کے تحت امریکا میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق فیصلے کا اثر ہنڈوراس اور نیپال کے تارکین وطن پر بھی پڑ سکتا ہے، جنہوں نے اس حوالے سے مقدمہ دائر کیا ہوا تھا اور عدالت نے اپیل کورٹ کے فیصلے تک ان کے مقدمے کی سماعت ملتوی کر دی تھی۔ اپیل کورٹ کے فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ تارکین وطن کے رہنے کی قانونی حیثیت ختم کردی جائے گی اور اس کے بعد انہیں وہاں رہنے کے لیے دیگر ذرائع اختیار کرنے پڑیں گے۔
امریکی عدالت نے 4 لاکھ مہاجر ملک بدر کرنے کی اجازت دے دی
القمر
