پولن گرین، گرد و غباراور پنسلین وغیرہ ایسے الرجی ایجنٹس ہیں جن سے سامنے پر اکثر لوگ خوفزدہ ہوتے ہیں۔ الرجی کی قسم پر منحصر ہے کہ بعض اوقات جلد کس رد عمل کا مظاہرہ کرے ہو سکتا ہے ہے چھینکیں آئیں، چھاتی جکڑی جائے یا زود حساسیت پیدا ہوجائے ۔ بعض اوقات اگر اس کا فوری علاج نہ کرایا جائے تو یہ الرجی جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ جیسے جیسے ویکسینیشن کا عمل رفتار پکڑتا جا رہا ہے ویسے ویسے ایسےلوگ جنہیں الرجی کے مسائل ہیں وہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ ویکسین ان کے لیے نقصان دہ ہے؟ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ مضر اثرات کے خوف سے اس ویکسین کا استعمال ترک نہیں کرنا چاہیے۔ اس کی درجہ ذیل وجوہات ہیں۔
کسی ایک چیز سے الرجی کا مطلب ہر چیز سے الرجی نہیں ہے
چھاتی کی بیماریوں کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر محمد امین اکویونلو کا کہنا ہے کہ اس بات کو سمجھنا اہم ہے کہ کوئی بھی شخص کسی چیز سے الرجک ہو سکتا ہے ۔ الرجی خوراک، کاسمیٹکس یا خوشبو سے بھی ہو سکتی ہے۔ لوگوں کو صرف اسی صورت میں ویکسین لینا ترک کرنی چاہیے اگر وہ اس ویکسین کے اجزاء سے الرجی محسوس کرتے ہوں وگرنہ نہیں۔
ترکی میں جہاں سینویک کی کرونا ویکسین بڑے پیمانے پر استعمال کی جارہی ہے وہاں ایک ٹویٹ وائرل ہوئی جس کا متن یہ تھا کہ ایسے صحت کے کارکنان جن کو پینسلین سے الرجی ہے ان پر اس ویکسین کی خوراک لینے کے 15 منٹ بعد خارجی حسیات کو شدید حملہ ہوا ۔ ایک خاتون کی بیٹی نے بتایا کہ اس کی والدہ کو پینسلین سے الرجی تھی اور اور اس نے کرونا کی خوراک لی تو وہ مرنے کے قریب پہنچ گئی تاہم فوری طبی امداد سے اس کی جان بچ گئی۔ اس لیے پنسلین سے الرجی والے افراد پریشان ہیں کہ انہیں یہ ویکسین استعمال کرنی چاہیے یا نہیں۔ ایسے ایک آدھ واقعے میں پنسلین الرجی کو زود حسیانہ حملوں سے جوڑنا درحقیقت طب کو غلط انداز میں بیان کرنا ہے۔ڈاکٹر امین کے مطابق اس طرح کا رد عمل بہت ہی کم دیکھنے کو ملتا ہے اور قریب قریب دس لاکھ افراد میں سے کسی ایک کو ہوتا ہےاس لیے ویکسین کا استعمال ہر گز خطرناک نہیں ہے۔
امریکی کالج برائے الرجی، دمہ اور مدافعت کے مطابق فائزر اور بائیو این ٹیک کی ویکسینوں سے عام الرجی کے شکار لوگوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا اور یہی بات ڈاکٹر امین نے بھی کہی ہے۔ کسی ایک چیز سے الرجک ہونے کا مطلب نہیں ہے کہ آپ کو ہر چیز سے الرجی ہے۔ بعض اوقات ویکسین کا بھی اپنا رد عمل ہوتا ہے یا ویکسین میں موجود کسی خاص اجزا کا رد عمل ہو سکتا ہے جس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ ہر ویکسین کے استعمال سے یہ رد عمل سامنے آ سکتے ہیں۔
تیس منٹ کا مشاہدہ ضروری ہے
اگر ویکسین میں موجود کسی ایک جزو ترکیبی کی وجہ سے کسی شخص کو الرجی کا سامنا ہوتا ہے تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے۔ انقرہ یونیورسٹی کے سربراہ برائے انفیکشنز ڈزیزڈاکٹر اسماعیل بالک کے مطابق اس طرح کے مسائل کا حل علم اور مشاہدے سے کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے یہ ویکسین کسی صحت کے ادارے میں لینی چاہیے جہاں صحت کے کارکنان آس پاس موجود ہوں تاکہ کسی فوری رد عمل کا توڑ کر سکیں۔ تمام ایمرجنسی استعمال کی ادویات کے لیے یہی طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے۔
سینٹر برائے ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے ہدایات دی ہیں کہ جس کسی کو بھی کرونا کی ویکسین دی جائے اس کا 15 منٹ تک مشاہدہ کیا جائے اور جن لوگوں کو الرجی کے مسائل ہیں ان کو کم ازکم 30 منٹ تک زیر مشاہدہ رکھا جائے۔ ماہرین کے مطابق الرجی کے شکار افراد کو ویکسین سے قبل ڈاکٹر کو اپنی الرجیز سے متعلق آگاہ کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر بالکن کے مطابق اس وقت تک ویکسین کا سب سے سخت رد عمل جو ویکسین الرجی کے افراد میں ظاہر ہوا ہے وہ زود حسی ہے۔ اگر اس رد عمل کا علاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے مگر جب اس کو کسی ہیلتھ کئیر فیسیلیٹی میں دیا جائے تو یہ اس طرح جان لیوا نہیں رہتا اور کوئی مستقل نقصان نہیں پہنچاتا۔
پروفیسر صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ مخلف اقسام کی 5 کروڑ خوراکیں دنیا کے مختلف حصوں میں استعمال کی گئی ہیں۔ سرکاری طور بیان کیے گئے مضر صحت اثرات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ زیادہ خطرناک نہیں ہیں اور ان کے لیے ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ اثراد دو دن کے اندر ختم ہو جاتے ہیں۔ ناروے میں 23 بزرگ افراد اور جرمنی میں کم از کم دس افراد فائزر ویکسین سے ہلاک ہو چکے ہیں تاہم ابھی تک ویکسینز اور ان اموات میں براہ راست کوئی تعلق قائم نہیں کیا جاسکا۔ ناروے میں اوسطا 400 افراد ہر ہفتے نرسنگ ہومز اور دیگر صحت کی سہولیات میں جاں بحق ہوتے ہیں۔ جرمنی میں بھی جن افراد کی اس ویکسین سے ہلاکت ہوئی ان کی عمریں 79 سے 93 برس کے مابین تھیں۔
پہلی خوراک سے سب پتا چلے گا
اس وقت سب سے زیادہ عام اور مشہور ویکسینیں فائزر بائیو این ٹیک اور موڈرنا ویکسین ہیں ۔ دونوں کو میسنجر آر این اے ویکسین کہا گیا ہے یا انکو ایم آر این اے بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کرونا وائرس کی سطح پر پائے جانے والی پروٹین کو کوڈ کی شکل دینا جس کو پڑھ کر کرونا کے خلاف مدافعتی قوت پیدا کی جاسکتی ہے۔ دوسری طرف تمام روایتی ویکسینز وائرس کا ہی تھوڑا سا یا پورا حصہ استعمال کرتی ہیں اور ان کو جسم میں داخل کیا جاتا ہے جو انسان کے مدافعتی نظام کو تیز کر دیتے ہیں۔ سینویک کی جانب سے تیار کی گئی کرونا وائرس کی ویکسین اس مقصد کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کی جارہی ہے۔
فائزر نے اپنے کلینکل ٹرائل میں ایسے لوگوں کو خارج کر دیا جن کو ماضی میں زود حسی کا سامنا رہا ہے تاہم موڈرنا کے حوالے سے ایسا نہیں ہے۔ موڈرنا کی جانب سے ابھی ایسی کوئی ہدایت نہیں آئی کہ مختلف قسم کی الرجیز کے شکار لوگوں کو کرونا ویکسین نہ دی جائے۔ تاہم امریکہ میں ایسے افراد جنہوں نے ماضی میں کاسمیٹکس فشیل فلرز استعمال کیے ہیں انہیں اس ویکسین کے استعمال اور مضر صحت اثرات سے خبردار کیا گیا ہے۔ ترکی میں ایسے افراد جنہیں پہلی خوراک سے رد عمل کا سامنا کرنا پڑا ان کو دوسری خوراک نہیں دی جائے گی۔ اس فیصلے کی وجہ یہ ہے کہ اگر پہلی خوراک میں الرجی کا سامنا کرنا پڑا ہے تو دوسری خوراک سے یہ الرجی شدید شکل اختیار کر سکتی ہے۔
اتوار، 24 جنور 2021
