ویب ڈیسک —
امریکی صدر جو بائیڈن افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کے بارے میں، جسے طالبان جنگجوؤں کی پیش قدمی کے باعث تنقید کا سامنا ہے، آج (جمعرات) کو خطاب کریں گے۔
اپنے اس خطاب سے قبل صدر بائیڈن اور نائب صدر کاملا ہیرس نے انخلا کے بارے میں قومی سلامتی کے راہنماؤں سے تازہ ترین صورت حال کی تفصیل معلوم کی ہے۔
منگل کو امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ انخلا کا 90 فیصد کام مکمل ہو گیا ہے اور عہدے دار کہہ چکے ہیں کہ اگست کے آخر تک فوجیوں کی واپسی کا عمل مکمل ہو جائے گا۔
وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری جین ساکی نے بدھ کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکہ افغانستان کے تنازعے کو سفارتی بات چیت سے حل کرنے کی حمایت کرتا ہے اور یہ کہ وہ فوجی انخلا کے بعد اس ملک میں سفارتی اور انسانی ہمدردی کے کاموں سے متعلق اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ صدر یہ سمجھتے ہیں کہ اس 20 سالہ جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔
یکم مئی کے بعد سے، جب سے افغانستان سے امریکی اور نیٹو فوجیوں کا انخلا شروع ہوا ہے، طالبان نے کئی علاقوں میں تیزی سے زمینی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

صورت حال پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ جنگ سے متاثرہ اس ملک میں، جہاں اضلاع کی تعداد 400 سے زیادہ ہے، طالبان 150 اضلاع پر قابض ہو چکے ہیں۔
کابل میں حکام نے بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ انہوں نے کئی علاقوں میں طالبان کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق صوبہ بادغیس میں شدید لڑائی جاری ہے۔ گورنر حسام الدین شمس نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ طالبان نے صوبائی صدر مقام قلعہ نو کے گرد واقع تمام اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے، جس سے وہ قلعہ نو پر حملے کے قابل ہو گئے تھے۔ قلعہ نو میں جہاں شدید لڑائی کی خبریں ہیں، افغان فورسز کو فضائی مدد بھی حاصل ہے۔
کابل میں تعنیات قائم مقام امریکی سفیر راس ولسن نے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے نیک نیتی کے ساتھ تشدد میں کمی کر کے مذاکرات کی طرف آئیں۔
طالبان کے حملوں کی وجہ سے افغانستان بھر میں ان لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے جنہیں خشک سالی، غربت اور کرونا وائرس کی وبا کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
