طالبان نے افغانستان بھر میں ‘عام معافی’ کا اعلان کردیا اور خواتین کو دعوت دی ہے کہ وہ ان کی حکومت میں شامل ہوں۔
غیرملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق یہ بیان طالبان کے ثقافتی کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی کی جانب سے سامنے آیا۔
جہاں کابل میں زیادتیوں یا لڑائی جھگڑوں کی کوئی بڑی رپورٹس سامنے نہیں آئی ہیں وہیں بہت سے افراد گھروں میں ہی ہیں اور طالبان کے قبضے کے بعد جیل خالی اور حکومتی اسلحہ لوٹ لیے جانے کے بعد خوفزدہ ہیں۔
واضح رہے کہ 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بعد افغانستان میں امریکی قیادت میں حملے سے قبل طالبان کے دور حکومت میں خواتین کو اسکول جانے یا گھر سے باہر کام کرنے سے روکا جاتا تھا۔
Another day in #Kabul HKIA airport. Situation under control #Afghanistan pic.twitter.com/PewkXN5F16
— Stefano Pontecorvo (@pontecorvoste) August 17, 2021
انہیں گھر سے نکلتے وقت برقعہ پہننا ضروری ہوتا تھا اور جب بھی وہ باہر جاتے تھے ان کے ساتھ ایک محرم کا ہونا لازمی تھا۔
طالبان نے موسیقی پر پابندی لگا رکھی تھی، چوروں کے ہاتھ کاٹے اور زانیوں کو سنگسار کیا جاتا تھا۔
انعام اللہ نے افغانستان میں ان کی حکومت کے لیے امارات اسلامیہ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ امارات اسلامیہ نہیں چاہتی کہ خواتین متاثر ہوں، شرعی قوانین کے مطابق انہیں حکومتی اسٹرکچر میں ہونا چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘حکومت کا اسٹرکچر مکمل طور پر واضح نہیں ہے تاہم تجربے کی بنیاد پر ایک مکمل اسلامی قیادت ہونی چاہیے اور تمام فریقین کو اس میں شامل ہونا چاہیے’۔
انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں جس سے یہ تاثر جاتا ہے کہ لوگ پہلے ہی اسلامی قوانین کو جانتے ہیں۔
طالبان نے حالیہ برسوں میں مزید اعتدال پسندی کی پیشکش کی ہے تاہم بہت سے افغانوں کو اس حوالے سے شکوک و شبہات ہیں۔
دریں اثنا منگل کے روز افغانستان کے لیے نیٹو کے سینئر سویلین نمائندے اسٹیفانو پونٹیکوروو نے ایک ویڈیو آن لائن پوسٹ کی حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر رن وے خالی دکھائی دیا اور ایک فوجی کارگو طیارہ وہاں فوٹیج میں زنجیر سے لگی باڑ کے پیچھے سے فاصلے پر دیکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ رن وے ‘کھلا ہے، میں نے ہوائی جہازوں کو اترتے اور پرواز بھرتے دیکھا ہے’۔
گزشتہ رات کے فلائٹ ٹریکنگ کے ڈیٹا سے پتا چلتا ہے کہ یو ایس میرین کور کا سی -130 جے ہرکولیس ہوائی اڈے پر موجود تھا اور بعد ازاں قطر کے لیے روانہ ہوا۔
افغان فضائی حدود میں دیگر کوئی پروازیں نظر نہیں آئیں۔
واضح رہے کہ پیر کے روز ہزاروں افغان کابل کے مرکزی ایئرپورٹ پر پہنچے اور چند لوگوں نے ایک فوجی طیارے پر زبردستی سوار ہونے کی کوشش کی اور اس دوران متعدد کی موت ہو گئی۔
امریکی حکام نے بتایا کہ افراتفری میں کم از کم 7 افراد ہلاک ہوئے۔
ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے کہا کہ افغانستان بھر میں لڑائی میں ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز اور سیاستدانوں نے اپنے صوبوں اور اڈوں کو بغیر کسی لڑائی کے حوالے کردیا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ دنیا افغانستان میں ہونے والے پیش رفت کی پیروی کر رہی ہے جس کے بارے میں گہری تشویش ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کے روز کہا تھا کہ وہ امریکی افواج کے انخلا کے اپنے فیصلے کی ‘مکمل طور پر حمایت’ کے لیے کھڑے ہیں اور کابل میں سامنے آنے والی ‘انتشار پھیلانے والی’ تصویر کو تسلیم کرتے ہیں۔
جو بائیڈن نے کہا تھا کہ انہیں پہلے مذاکرات کے بعد حاصل کیے گئے معاہدے کا احترام کرنے یا تیسری دہائی کی جنگ شروع کرنے کے لیے ہزاروں فوجی واپس بھیجنے کے درمیان انتخاب کا سامنا کرنا پڑا۔
جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس سے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ ’20 سالوں کے بعد میں نے بہت مشکل سے یہ سیکھا ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کا کبھی اچھا وقت نہیں ہوا’۔
طالبان اور افغان حکومت کے کئی عہدیداروں کے درمیان بات چیت جاری ہے بشمول سابق صدر حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ جو کبھی ملک کی مذاکراتی کونسل کے سربراہ تھے۔
صدر اشرف غنی اس سے قبل طالبان کی پیش قدمی کے دوران ملک سے بھاگ گئے تھے اور ان کا ٹھکانہ نامعلوم ہے۔
مذاکرات کا براہ راست علم رکھنے والے ایک عہدیدار جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سینئر طالبان رہنما امیر خان متقی قطر سے کابل پہنچ چکے ہیں۔
وہ طالبان کے آخری دور حکومت میں وزیر تعلیم تھے۔
انہوں نے اشرف غنی کے بھاگنے سے پہلے ہی افغان سیاسی رہنماؤں سے رابطہ کرنا شروع کر دیا تھا۔
افغان ٹی وی چینلز پر خواتین اینکرز کی واپسی
کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد مختلف خدشات کے پیشِ نظر افغانستان کے اکثر ٹی وی چینلز نے خواتین اینکرز کو ٹی وی اسکرینز سے ہٹادیا تھا تاہم 2 روز بعد خواتین اینکرز کی ٹی وی اسکرین پر واپسی کو خوش آئند قرار دیا جارہا ہے۔
15 اگست کو کابل میں داخلے اور ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد گزشتہ روز طالبان نے سرکاری ریڈیو اور ٹی وی پر نشریات کا آغاز کردیا تھا۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی تصاویر میں سرکاری چینل پر ایک مرد کو خبریں پڑھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
Video – TOLOnews’ Hasiba Atakpal reports on the situation in Kabul pic.twitter.com/IqbGJbqlUX
— TOLOnews (@TOLOnews) August 17, 2021
کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد یہ خدشات ظاہر کیے جارہے تھے کہ صحافیوں، بالخصوص خواتین کو فرائض کی انجام دہی میں شدید مشکلات پیش آسکتی ہیں اور شاید انہیں کام سے روک دیا جائے گا۔
تاہم طالبان کے قبضے کے 2 روز بعد 17 اگست کو افغان نشریاتی ادارے ‘طلوع نیوز’ کے سینئر عہدیدار کی جانب سے خاتون اینکر کی تصویر شیئر کی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹی وی اسکرینز پر طالبان کے دور میں خواتین واپس آگئی ہیں۔
CNN’s @clarissaward reports on what Afghanistan looks like as the Taliban take over.https://t.co/pJuaHC3iBC pic.twitter.com/zx9shFE8Lj
— New Day (@NewDay) August 16, 2021
طلوع نیوز کے ہیڈ آف نیوز مراکا پوپل نے آج صبح خاتون اینکر کی تصویر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘ہم نے آج خواتین اینکرز کے ساتھ اپنی نشریات دوبارہ شروع کردیں’۔
بعدازاں انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں کچھ تصاویر شیئر کیں جس میں طلوع نیوز کی خاتون اینکر کو طالبان رہنما کا انٹرویو لیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق تصویر میں موجود نیوز اینکر بہشتہ ارغند ہیں، جو طالبان کی میڈیا ٹیم کے رکن مولوی عبدالحق حماد سے کابل شہر کی صورتِ حال پر بات چیت کررہی ہیں۔
From the streets of Kabul Monday as Taliban solidified their hold on the city. Taliban presence significantly increased by late afternoon. #Afghanistan. pic.twitter.com/xGyP8DdmVE
— Ayesha Tanzeem (@atanzeem) August 16, 2021
