English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

طالبان کا افغانستان میں ‘عام معافی’ کا اعلان، خواتین کو حکومت میں شامل ہونے کی دعوت

القمر

طالبان نے افغانستان بھر میں ‘عام معافی’ کا اعلان کردیا اور خواتین کو دعوت دی ہے کہ وہ ان کی حکومت میں شامل ہوں۔

غیرملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق یہ بیان طالبان کے ثقافتی کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی کی جانب سے سامنے آیا۔

جہاں کابل میں زیادتیوں یا لڑائی جھگڑوں کی کوئی بڑی رپورٹس سامنے نہیں آئی ہیں وہیں بہت سے افراد گھروں میں ہی ہیں اور طالبان کے قبضے کے بعد جیل خالی اور حکومتی اسلحہ لوٹ لیے جانے کے بعد خوفزدہ ہیں۔

واضح رہے کہ 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بعد افغانستان میں امریکی قیادت میں حملے سے قبل طالبان کے دور حکومت میں خواتین کو اسکول جانے یا گھر سے باہر کام کرنے سے روکا جاتا تھا۔

انہیں گھر سے نکلتے وقت برقعہ پہننا ضروری ہوتا تھا اور جب بھی وہ باہر جاتے تھے ان کے ساتھ ایک محرم کا ہونا لازمی تھا۔

طالبان نے موسیقی پر پابندی لگا رکھی تھی، چوروں کے ہاتھ کاٹے اور زانیوں کو سنگسار کیا جاتا تھا۔

انعام اللہ نے افغانستان میں ان کی حکومت کے لیے امارات اسلامیہ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ امارات اسلامیہ نہیں چاہتی کہ خواتین متاثر ہوں، شرعی قوانین کے مطابق انہیں حکومتی اسٹرکچر میں ہونا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘حکومت کا اسٹرکچر مکمل طور پر واضح نہیں ہے تاہم تجربے کی بنیاد پر ایک مکمل اسلامی قیادت ہونی چاہیے اور تمام فریقین کو اس میں شامل ہونا چاہیے’۔

انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں جس سے یہ تاثر جاتا ہے کہ لوگ پہلے ہی اسلامی قوانین کو جانتے ہیں۔

طالبان نے حالیہ برسوں میں مزید اعتدال پسندی کی پیشکش کی ہے تاہم بہت سے افغانوں کو اس حوالے سے شکوک و شبہات ہیں۔

دریں اثنا منگل کے روز افغانستان کے لیے نیٹو کے سینئر سویلین نمائندے اسٹیفانو پونٹیکوروو نے ایک ویڈیو آن لائن پوسٹ کی حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر رن وے خالی دکھائی دیا اور ایک فوجی کارگو طیارہ وہاں فوٹیج میں زنجیر سے لگی باڑ کے پیچھے سے فاصلے پر دیکھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ رن وے ‘کھلا ہے، میں نے ہوائی جہازوں کو اترتے اور پرواز بھرتے دیکھا ہے’۔

گزشتہ رات کے فلائٹ ٹریکنگ کے ڈیٹا سے پتا چلتا ہے کہ یو ایس میرین کور کا سی -130 جے ہرکولیس ہوائی اڈے پر موجود تھا اور بعد ازاں قطر کے لیے روانہ ہوا۔

افغان فضائی حدود میں دیگر کوئی پروازیں نظر نہیں آئیں۔

واضح رہے کہ پیر کے روز ہزاروں افغان کابل کے مرکزی ایئرپورٹ پر پہنچے اور چند لوگوں نے ایک فوجی طیارے پر زبردستی سوار ہونے کی کوشش کی اور اس دوران متعدد کی موت ہو گئی۔

امریکی حکام نے بتایا کہ افراتفری میں کم از کم 7 افراد ہلاک ہوئے۔

ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے کہا کہ افغانستان بھر میں لڑائی میں ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سیکیورٹی فورسز اور سیاستدانوں نے اپنے صوبوں اور اڈوں کو بغیر کسی لڑائی کے حوالے کردیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ دنیا افغانستان میں ہونے والے پیش رفت کی پیروی کر رہی ہے جس کے بارے میں گہری تشویش ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کے روز کہا تھا کہ وہ امریکی افواج کے انخلا کے اپنے فیصلے کی ‘مکمل طور پر حمایت’ کے لیے کھڑے ہیں اور کابل میں سامنے آنے والی ‘انتشار پھیلانے والی’ تصویر کو تسلیم کرتے ہیں۔

جو بائیڈن نے کہا تھا کہ انہیں پہلے مذاکرات کے بعد حاصل کیے گئے معاہدے کا احترام کرنے یا تیسری دہائی کی جنگ شروع کرنے کے لیے ہزاروں فوجی واپس بھیجنے کے درمیان انتخاب کا سامنا کرنا پڑا۔

جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس سے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ ’20 سالوں کے بعد میں نے بہت مشکل سے یہ سیکھا ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کا کبھی اچھا وقت نہیں ہوا’۔

طالبان اور افغان حکومت کے کئی عہدیداروں کے درمیان بات چیت جاری ہے بشمول سابق صدر حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ جو کبھی ملک کی مذاکراتی کونسل کے سربراہ تھے۔

صدر اشرف غنی اس سے قبل طالبان کی پیش قدمی کے دوران ملک سے بھاگ گئے تھے اور ان کا ٹھکانہ نامعلوم ہے۔

مذاکرات کا براہ راست علم رکھنے والے ایک عہدیدار جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سینئر طالبان رہنما امیر خان متقی قطر سے کابل پہنچ چکے ہیں۔

وہ طالبان کے آخری دور حکومت میں وزیر تعلیم تھے۔

انہوں نے اشرف غنی کے بھاگنے سے پہلے ہی افغان سیاسی رہنماؤں سے رابطہ کرنا شروع کر دیا تھا۔

افغان ٹی وی چینلز پر خواتین اینکرز کی واپسی

کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد مختلف خدشات کے پیشِ نظر افغانستان کے اکثر ٹی وی چینلز نے خواتین اینکرز کو ٹی وی اسکرینز سے ہٹادیا تھا تاہم 2 روز بعد خواتین اینکرز کی ٹی وی اسکرین پر واپسی کو خوش آئند قرار دیا جارہا ہے۔

15 اگست کو کابل میں داخلے اور ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد گزشتہ روز طالبان نے سرکاری ریڈیو اور ٹی وی پر نشریات کا آغاز کردیا تھا۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی تصاویر میں سرکاری چینل پر ایک مرد کو خبریں پڑھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد یہ خدشات ظاہر کیے جارہے تھے کہ صحافیوں، بالخصوص خواتین کو فرائض کی انجام دہی میں شدید مشکلات پیش آسکتی ہیں اور شاید انہیں کام سے روک دیا جائے گا۔

تاہم طالبان کے قبضے کے 2 روز بعد 17 اگست کو افغان نشریاتی ادارے ‘طلوع نیوز’ کے سینئر عہدیدار کی جانب سے خاتون اینکر کی تصویر شیئر کی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹی وی اسکرینز پر طالبان کے دور میں خواتین واپس آگئی ہیں۔

طلوع نیوز کے ہیڈ آف نیوز مراکا پوپل نے آج صبح خاتون اینکر کی تصویر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘ہم نے آج خواتین اینکرز کے ساتھ اپنی نشریات دوبارہ شروع کردیں’۔

بعدازاں انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں کچھ تصاویر شیئر کیں جس میں طلوع نیوز کی خاتون اینکر کو طالبان رہنما کا انٹرویو لیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق تصویر میں موجود نیوز اینکر بہشتہ ارغند ہیں، جو طالبان کی میڈیا ٹیم کے رکن مولوی عبدالحق حماد سے کابل شہر کی صورتِ حال پر بات چیت کررہی ہیں۔

بعض ماہرین کے مطابق طالبان کو خواتین کے ٹیلی ویژن اسکرین پر آنے سے بظاہر اب کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

افغانستان میں خواتین نہ صرف اسٹوڈیو سے اینکرز کے فرائض انجام دے رہی ہیں بلکہ وہ کابل کی سڑکوں سے بھی رپورٹنگ کررہی ہیں۔

مراکا پوپل نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ ہماری خواتین صحافی حسیبہ اتکپل اور زہرہ راحمی، کابل شہر سے براہ راست رپورٹنگ کررہی ہیں۔

افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد خواتین صحافیوں کے لیے میڈیا کی آزادی سوشل میڈیا پر زیر بحث رہی ہے۔

اس حوالے سے مختلف آرا کا اظہار کیا جارہا تھا جبکہ 15 اگست کے بعد سی این این کی رپورٹر کلاریسا وارد برقعے میں رپورٹنگ کرتی ہوئی نظر آئی تھیں جس نے سب کو حیران کردیا تھا۔

علاوہ ازیں سوشل میڈیا پر وائس آف امریکا کی بیورو چیف برائے افغانستان و پاکستان عائشہ تنظیم کی ایک ویڈیو بھی گردش کررہی ہیں جس میں وہ گاڑی میں برقع پہنے سفر کررہی ہیں اور کابل کی صورتحال بیان کرتی نظر آرہی ہیں۔

مذکورہ تصاویر و ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد افغانستان پر طالبان کے قبضے اور متوقع حکومت کے دوران بھی آزادی اظہار رائے کی امید کی جارہی ہے۔

مشرف زیدی نے لکھا کہ ‘یہ ایک طاقتور ویڈیو ہے، شکریہ طلوع نیوز’۔

سمیع یوسفزئی نے لکھا کہ ‘یہ بڑی خبر ہے کہ طالبان کو ٹی وی اسکرین پر خاتون کی موجودگی بری نہیں لگی’۔

وجاہت کاظمی نے لکھا کہ ‘افغانستان سے اچھی رپورٹس آرہی ہیں، صورتحال پرسکون ہے اور خواتین صحافیوں کو کام کی اجازت دی جارہی ہے، میں اُمید کرتا ہے کہ طالبان کے نئے دورِ حکومت میں ملک میں امن قائم ہوگا۔

سعد محسینی نے لکھا کہ ‘طلوع نیوز اور طالبان دوبارہ تاریخ رقم کررہے ہیں، عبدالحق حماد طالبان کے سینئر نمائندے نے آج صبح خاتون اینکر بہشتہ سے گفتگو کی، 2 دہائیاں قبل جب طالبان اقتدار میں تھے اس وقت یہ ناقابلِ تصور تھا۔

طالبان کے کنٹرول سنبھالتے ہی خاتون رپورٹر نے افغانستان میں برقع پہن لیا

افغانستان میں طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد جہاں حیران کن طور پر ایک دم بہت ساری تبدیلیاں دیکھی گئیں، وہیں دنیا امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی خاتون رپورٹر کی جانب سے برقع پہننے پر بھی حیران دکھائی دی۔

سی این این کی رپورٹر 40 سالہ کلاریسا وارد (Clarissa Ward) افغانستان کے حالات پر رپورٹنگ کے لیے امریکی انخلا کے بعد پہنچی تھیں اور وہ گزشتہ کئی دن سے رپورٹنگ کرتی دکھائی دیں۔

کلاریسا وارد نے افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی سمیت بعض طالبان عہدیداروں کے انٹرویوز بھی دیے، تاہم 15 اگست کے بعد انہیں ٹی وی پر برقع میں دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے۔

طالبان کی جانب سے صدارتی محل کے انتظامات سنبھالے جانے کے بعد کلاریسا وارد کو نہ صرف خصوصی رپورٹس بلکہ لائیو رپورٹنگ کے دوران بھی سیاہ برقع میں ملبوس دیکھا گیا۔

رپورٹنگ کے دوران خاتون رپورٹر نے نہ صرف عام افراد بلکہ بعض طالبان عہدیداروں سے بھی باتیں کیں اور ان سے مستقبل میں خواتین کے تحفظ اور تعلیم سے متعلق پوچھا۔

برقع میں تصاویر وائرل ہونے کے بعد کلاریسا وارد نے ٹوئٹ میں اپنی دو تصاویر شیئر کرتے ہوئے برقع والی تصویر کو ان کی دوسری تصاویر کے ساتھ شیئر کرکے میمز بنائے جانے پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔

خاتون رپورٹر نے اپنی دونوں تصاویر شیئر کرتے ہوئے واضح کیا کہ جس میں انہیں برقع نہیں ہے وہ نجی کمپائونڈ میں بنائی گئی تصویر ہے جب کہ جس میں انہیں برقع میں دیکھا جا سکتا ہے وہ کابل کی سڑکوں پر بنائی گئی تصویر ہے۔

انہوں نے دونوں تصاویر کا موازنہ کرنے اور ان پر میمز بنائے جانے پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور ساتھ ہی واضح کیا کہ وہ ماضی میں بھی پردہ کرتی رہی ہیں۔

انہوں نے ٹوئٹ میں لکھا کہ وہ ماضی میں بھی نقاب کرتی رہی ہیں مگر اب انہوں نے مکمل طور پر پردہ کرتے ہوئے عبایا بھی پہنا ہو ا ہے لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے پہلی بار برقع کیا۔

خاتون رپورٹر نے 15 اگست سے قبل بھی برقع میں ملبوس اپنی تصاویر شیئر کی تھیں۔

کلاریسا وارد سی این این سے قبل دیگر مغربی نشریاتی اداروں میں بھی خدمات دے چکی ہیں جب کہ انہیں جنگ اور تشدد زدہ علاقوں کی رپورٹنگ کرنے پر کافی دسترس ہے۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے