English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مینارِ پاکستان واقعہ: ‘پاکستان ہماری خواتین اور بچوں کے لیے محفوظ نہیں’

پاکستان کے سوشل میڈیا پر منگل کو لاہور میں واقع مینارِ پاکستان میں خاتون کو ہراساں کرنے کی ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملک میں خواتین کے تحفظ اور تشدد سے متعلق بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس بحث میں پاکستان کے ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے اپنے انداز پر اس پر بات کر رہے ہیں۔

مینار پاکستان پر ٹک ٹاکر کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز ساجد کیانی نے وائس آف امریکہ کے نمائندے عاصم علی رانا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔

ان کے بقول یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب 14 اگست کی شام کو مینارِ پاکستان کے اطراف مال روڈ اور دیگر مقامات پر لاکھوں افراد نکلے ہوئے تھے اور متاثرہ خاتون کے ساتھ ان کے کیمرہ مین اور دیگر افراد بھی موجود تھے۔

ڈی آئی جی آپریشنز ساجد کیانی کے مطابق خاتون جب ویڈیو بنا رہی تھیں تو بہت سے افراد ان کے گرد جمع ہوئے جس کے بعد چند افراد نے ان سے بدتمیزی کرنا شروع کر دی تھی۔

بعد ازاں پورا ہجوم اس میں شامل ہو گیا اور جب پولیس کو اطلاع ملی تو انہوں نے انتہائی مشکل حالات میں خاتون کو ریسکیو کیا اور اسپتال پہنچایا۔ لیکن خاتون کے میڈیکل میں کوئی سنگین چوٹ سامنے نہیں آئی۔

ساجد کیانی کا کہنا تھا کہ مدعیہ پہلے ایف آئی آر درج نہیں کروانا چاہتی تھی جس کے بعد پولیس نے فیصلہ کیا کہ اگر وہ ایف آئی آر درج نہیں کروائیں گی تو ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا جائے گا۔

لیکن اپنے اہل خانہ سے مشاورت کے بعد متاثرہ خاتون نے ایف آئی آر درج کرانے کا فیصلہ کیا جس پر فوری مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کیا گیا ہے۔

واقعے کی تفتیش سے متعلق ساجد کیانی کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس بہت سی فوٹیجز موجود ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس نے علاقے میں جیو فینسنگ کا بھی فیصلہ کیا ہے اور جن افراد کے موبائل فونز کا ریکارڈ ملے گا انہیں گرفتار کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر خاتون کو سیف سٹی کیمروں اور موبائل فوٹیجز سے ملنے والے بعض چہروں کی شناخت کروائی گئی ہے لیکن تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جن افراد کے چہرے سامنے آ رہے ہیں پولیس ان کی تفصیلات نادرا ڈیٹا بیس کو بھی بھجوا رہی ہے۔ جن افراد کی بھی شناخت ہو گی انہیں گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔

ساجد کیانی کا مزید کہنا تھا کہ ایسے واقعات ہونے کی بڑی وجہ ملزمان کو سزا نہ ہونا ہے۔ کئی کیسز میں ملزمان گرفتار ہو جاتے ہیں لیکن قانونی موشگافیوں کی وجہ سے وہ سزا سے بچ جاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سزا دے کر ہی ایسے افراد کو سنگین جرائم سے روکا جاسکتا ہے۔ ساجد کیانی نے اس طرح کے واقعات کا ذمہ دار کہیں نہ کہیں والدین کو ٹھیراتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچوں کی بہتر تربیت کریں تا کہ انہیں خواتین کا احترام کرنا آئے۔

ایف آئی آر میں خاتون نے نا معلوم افراد پر موبائل فون، سونے کے ٹاپس چھیننے اور زیادتی کا الزام عائد کیا ہے۔

ایف آئی آر میں خاتون نے نا معلوم افراد پر موبائل فون، سونے کے ٹاپس چھیننے اور زیادتی کا الزام عائد کیا ہے۔

دوسری جانب ترجمان پنجاب حکومت شہباز گِل نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ بہت جلد گریٹر اقبال پارک مینار پاکستان کے واقعے میں ملوث ملزمان کو پولیس گرفتار کر کے سخت ترین کارروائی کرے گی۔ پولیس ویڈیوز کی مدد سے ملزمان کی شناخت کر رہی ہے۔

انہون نے کہا کہ یہ وہ رویے ہیں جن پر پورے معاشرے نے مل کر کام کرنا ہے۔ سیاست دانوں، میڈیا، صحافیوں، اساتذہ اور والدین سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

اس واقعے کے بعد مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر ‘مینارِ پاکستان’، ‘لاہور انسیڈینٹ’، ‘400 مرد’ اور اس واقعے سے متعلق دیگر ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی ہدایت کی ہے کہ ویڈیو فوٹیجز کے ذریعے واقعے میں ملوث افراد کی شناخت کر کے ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔

خاتون کو ہراساں کرنے کے اس واقعے پر فن کار، سیاست دان، قانون دان اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے مذمت کی جا رہی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ "مینارِ پاکستان میں ایک ہجوم کی جانب سے خاتون پر حملے پر ہر پاکستانی کو شرمندہ ہونا چاہیے۔”

انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ہمارے معاشرے میں موجود خرابی کی عکاسی کرتا ہے اور اس کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

سیاست دان و رکنِ پارلیمنٹ منزہ حسن نے کہا کہ مینارِ پاکستان پر پیش آنے والے واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث تمام درندوں کو عبرت کا نشانہ بنانا چاہیے۔ ان کے لیے چھوٹ اور معافی نہیں جو ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کا تقدس پامال کرتے ہیں۔

آصفہ بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان ہماری خواتین اور بچوں کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ ہمارے بچے مرنے کے بعد بھی عصمت دری سے محفوظ نہیں ہیں۔ یہ ایک شرم ناک حقیقت ہے۔

رکنِ پارلیمنٹ عامر لیاقت حسین نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ مینارِ پاکستان کے واقعے سے متعلق وزیرِ اعظم عمران خان سے گفتگو ہوئی ہے۔ وہ غم و غصے میں ہیں۔ متاثرہ خاتون کو جلد انصاف ملے گا۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا ہے کہ لاہور کے گریٹر پارک میں سیکڑوں افراد کی جانب سے ایک نوجوان خاتون اور اس کے ساتھیوں کو ہراساں کرنے کا واقع بے حد پریشان کُن ہے۔

شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اس سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ کس سمت جا رہا ہے، خواتین پر تشدد اور زیادتی کے حالیہ واقعات اس بات کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ بد حالی معاشرے کی جڑ میں ہے اور یہ بے حد شرم ناک ہے۔

پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے تنقیدی انداز اپناتے ہوئے کہا کہ یہ خاتون کی ہی غلطی ہے، وہاں موجود 400 بے چارے مرد اس کی مدد نہیں کر سکے۔

یو ٹیوبر شاہ ویر جعفری نے بھی مینارِ پاکستان پر پیش آنے والے واقعے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکڑوں مردوں کے ہاتھوں ہراساں ہوتے وقت لڑکی مدد کے لیے چیخ و پکار کر رہی تھی اور اسی لمحے پیچھے اذان کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ میرے لیے اس منظر کے بارے میں سوچنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔

گلوکار فرحان سعید نے مینارِ پاکستان کے واقعے کو شرمناک اور دل دہلا دینے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج خود کو مرد کہنے پر شرم محسوس ہو رہی ہے۔ مجھے شرم آتی ہے کہ اس ملک کے مرد ہر دوسرے دن اس طرح کے خوف ناک کام کرتے ہیں۔

فرحان سعید کا کہنا تھا کہ ’’مجھے اپنے ملک کے قانون پر بھی شرم آتی ہے جو ان درندوں کو پھانسی نہیں دیتا تا کہ ایسا کبھی دوبارہ نہ ہو۔‘‘

سماجی کارکن منیبہ مزاری نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’’ایک اور دن، ایک اور واقعہ۔ اور اس بار یہ مینارِ پاکستان پر یومِ آزادی کے موقع پر ہوا۔ اس بار یہ ایک ایسی عورت سے متعلق ہے جسے ایک یا دو نہیں بلکہ 400 مردوں نے درندگی کا نشانہ بنایا۔‘‘

پاکستانی اداکارہ ماورا حسین نے مینارِ پاکستان کے واقعے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین غیر محفوظ ہیں چاہے جو بھی لباس، حالات یا طبقہ ہو، حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں پھانسی جیسی سزاؤں کی ضرورت ہے۔

ماورا کا یہ بھی کہنا ہے کہ میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہوں اور میں ایسی کسی خاتون کو نہیں جانتی جو ایسا نہ محسوس کرتی ہو۔

اداکار عمران عباس نے لاہور میں ہونے والے اس واقعے کے حوالے سے کہا کہ وہ خوف زدہ، شرمندہ اور کچھ بھی کہنے کے قابل نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قائداعظم! ہم آپ سے معافی چاہتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے