کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے باہر 2 خودکش دھماکوں کے نتیجے میں 12 امریکی فوجیوں سمیت 60 افراد ہلاک اور 140 زخمی ہوگئے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے (سی این این) کے مطابق امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والا دھماکا خودکش تھا جو حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ابتدائی گیٹ کے باہر ہوا جہاں سیکڑوں کی تعداد میں افغان عوام ایئرپورٹ میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے جب کہ دوسرا دھماکا ایئرپورٹ کے قریب ہوٹل کے باہر ہوا۔
We can confirm that the explosion at the Abbey Gate was the result of a complex attack that resulted in a number of US civilian casualties. We can also confirm at least one other explosion at or near the Baron Hotel, a short distance from Abbey Gate. We will continue to update.
— John Kirby (@PentagonPresSec) August 26, 2021
عرب میڈیا کے مطابق خودکش دھماکے کے بعد فائرنگ کی آواز بھی سنائی دی۔ دھماکوں اور فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 60 افراد ہلاک اور 140 زخمی ہوگئے جب کہ زخمیوں میں 3 امریکی فوجی اہل کار بھی شامل ہیں۔ امدادی ذرائع کے مطابق زخمیوں اور لاشوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں زخمیوں کے علاج اور لاشوں کی شناخت کا سلسلہ جاری ہے۔
دولت اسلامیہ نے دھماکوں کی ذمے داری قبول کرلی
سی این این کے مطابق دولت اسلامیہ نے کابل ائیرپورٹ پر ہونے والے بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔ انہوں نے یہ دعوی اپنے ٹیلی گرام چینل پر دیئے گئے پیغام میں کیا ہے۔ شدت پسند گروپ کا کہنا ہے کہ ایک خود کش بمبار نے افغان اور امریکی فوجیوں کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑایا۔
واضح رہے کہ امریکی دفاعی حکام کا بھی یہی کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ ان بم دھماکوں میں دولت اسلامیہ کے دہشت گرد ملوث ہیں
Photos: Casualties from blast near Kabul airport this evening. #Afghanistan pic.twitter.com/ZnbQrKf2Yh
— TOLOnews (@TOLOnews) August 26, 2021
اس سے قبل امریکا اور برطانیہ سمیت مغربی ممالک نے دہشت گردی کے پیش نظراپنے شہریوں کو کابل ایئرپورٹ سے دوررہنے کی سخت ہدایت جاری کی تھیں۔
دھماکوں میں کم ازکم 12 امریکی فوج ہلاک
کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دھماکوں میں کم ازکم 12 فوجی ہلاک ہوئے، امریکی فوجی حکام نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں؛ مغربی ممالک کی اپنے شہریوں کو کابل ایئرپورٹ سے دوررہنے کی ہدایت
واضح رہے کہ ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے چند روز قبل امریکا سمیت تمام غیر ممالک کو خبردار کیا تھا کہ وہ افغان شہریوں کو ملک سے لے جانے سے گریز کریں جب کہ افغان عوام کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کردی تھی۔
