ایک تقریب میں وزیر اعظم عمران خان نے بڑے فخر سے اپنی تین سالہ کارکردگی کی طلسم ہو شربا سنائی جس میں ہمیشہ کی طرح انہوں نے بلند و بانگ دعوے کیے جو وہ گزشتہ بائیس سال سے کرتے آرہے ہیں۔ درحقیقت ان کو دیکھ کر خیال چوہدری کے انڈوں کی یاد آرہی تھی۔ عمران خان نے بہت سارے ایسے اقدامات گنوائے ہیں جن کا دور دور تک کوئی اتا پتا نہیں اور نہی ہی ان کا عوام کی حالت پر کوئی اثر ہے۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں اور خود عمران خان بھی اس سے آگاہ ہیں کہ تحریک انصاف کا 3 سالہ معاشی دور بدترین رہا ہے۔ پاکستان کے اندرونی اور بیرونی قرضے تشویش ناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ ریاستی ادارے اربوں روپے کے خسارے پر چل رہے ہیں۔ امیر اور غریب کے درمیان فرق روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ صحت اور تعلیم پر کوئی کام نہیں ہوا آج بھی دو کروڑ سے زیادہ بچے سکولوں سے باہر ہیں، مریضوں کو ہسپتالوں سے ادویات نہیں مل رہی اور مارکیٹ میں اتنی مہنگی ہیں کہ غریب مریض خرید ہی نہیں سکتا۔ ٹیکس نیٹ میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا جا سکا کیوں کہ عمران خان کے قریبی دوستوں کی کمپنیاں ٹیکس نہیں دیتی بغیر ٹیکس کے سگریٹ مارکیٹ میں سیل کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) نے موجودہ مالی سال میں پاکستان کا جی ڈی پی ایک فیصد تک بڑھنے کی توقع کی ہے تو دوسری جانب عالمی بینک نے ملک کے جی ڈی پی کی منفی ایک فیصد ہونے کی پیش گوئی کی ہے حکومت ملک میں جاری مہنگائی کے طوفان کو کنٹرول نہ کر سکی اور رواں ہفتے بھی آٹے اور چینی سمیت کئی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔ ادارہ شماریات کی جانب سے جاری ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے آٹا، چینی، گھی، کوکنگ آئل، تازہ دودھ، دہی، مرغی کا گوشت، انڈے، پیاز اور لہسن سمیت 22 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں۔ناقدین کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے دور میں مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا جب کہ ڈالر کی قدر بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جس کی وجہ سے امپورٹڈ اشیاء اور گاڑیاں بے پناہ مہنگی ہو گئی ہیں۔
۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ عوام کا جو یہ خیال تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے آتے ہی یہاں غریب عوام کو گزشتہ حکومتوں کی روش و کارکردگی سے ہٹ کر غیر معمولی اقدامات دیکھنے کو ملیں گی وہ تو نہ ہوسکا اور یہ بات موئیدیں و مخالفین سب کے سامنے ہے ۔ اس حکومت نے تین برسوں میں پشاور کی بی آر ٹی کے علاوہ کوئی بڑا منصوبہ مکمل نہیں کیا ۔ عمران خان نے عوام سے جتنے بھی وعدے کیے تھے وہ سبز باغ سے زیادہ کچھ ثابت نہیں ہوئے۔ مہنگائی کو ایک طرف رکھ کر اگر کرپشن یا لاء اینڈ آرڈر کی بات کی جائے تو وہ سابقہ ادوار کی نسبت بدحال ہی ہوا ہے اور اس میں بہتری آنے کی بجائے ابتری آئی ہے۔ درحقیقت عمران خان کا اقتدار اس شریر بچے کی ڈھیلی ڈھالی شلوار ہے جس کو سنبھالتے سنبھالتے وہ کسی اور طرف توجہ ہی نہ دے سکے اور ان کی تمام تر توجہ صرف اپوزیشن کو نیچا دکھانے پر مرکوز رہی ہے۔
حکومت اور ان کے وزراء خیالی ترقی دکھاتے ہیں لیکن عالمی مالیاتی ادارہ کہتا ہے پاکستان کی ترقی منفی رہے گی۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ غربت میں اضافہ ہو رہا ہے زندگی بچانے والی ادویات کے بعد کھانے پینے کی اشیاء بھی غریبوں کی پہنچ سے دور ہو رہی ہیں۔ لیکن عمران خان غریب عوام کا اربوں روپے لگا کر کارکردگی پروگرام کرتے ہیں اخباروں میں بڑے اشتہار لگاتے ہیں۔ کارکردگی پروگرام میں وہی باتیں مخالفین کے خلاف مقدمات کی ویڈیو چلا کر دکھائی دیں گئی اور اخباروں میں اشتہار دیا گیا وہ کسی اور ملک کی ترقی کے فوٹو لگا کر دکھا دیے گئے سوال یہاں یہ بنتا ہے کہ پرانے مقدمات کی ویڈیوز اور دوسرے ملکوں کی ترقی کے فوٹو سے غریب عوام کو کیا ہونے والا ہے جب ان کو آٹا چینی اور بجلی اور گیس سستی نہیں ملے گی روزگار نہیں ملے گا تو غریب عوام کیا ان کی ویڈیوز اور دوسرے ملک کے فوٹو کو کھائیں گے، ان سے تعلیم حاصل کریں گے یا ان سے اپنے بیماروں کا علاج کریں گے۔
