English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایف سی کالج یونیورسٹی: کیمپس بند ہونے کے باوجود فیسوں میں بھاری اضافہ، طلبہ سراپا احتجاج

ایف سی کالج یونیورسٹی نے ایک بار پھر فیسوں میں بیش بہا اضافہ کر دیا جس کے بعد طلبہ اور انکے والدین میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پچھلے چار سال سے انتظامیہ ہر سال فیسوں میں بیس ہزار سے زیادہ اضافہ کر رہی ہے۔ چار سال قبل فیس ایک لاکھ تھی جو اب ایک لاکھ پینسٹھ ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ مزید برآں گزشتہ دو سال سے کورونا وبا نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے انتظامیہ داخلوں کے بعد ایک ماہ کے لیے یونیورسٹی کھولتی ہے اور اس کے بعد بند کر دی دیتی ہے۔ جب بھی فیس درکار ہو تو کیمپس کھول دیا جاتا ہے اور فیس لینے کے بعد چھٹیاں دے دی جاتی ہیں۔

طلبہ کا مطالبہ ہے کہ اول تو فیسوں میں اتنا زیادہ اضافہ ناجائز ہے اور اس کا مقصد مڈل کلاس طلبا کو تعلیم سے محروم کرنا ہے۔ مزید یہ کہ جب کورونا وبا کی وجہ سے یونیورسٹی بند ہو جاتی ہے تو طلبا بجلی، ہاسٹل، ٹرانسپورٹ، لیبارٹری اور دیگر سہولیات کا استعمال نہیں کرتے، ان کی فیس کم ہونی چاہئیے جبکہ انتظامیہ الٹا فیسیں بڑھا رہی ہے۔

اس معاملے پہ ایف سی کالج کی طالبہ سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب پوری قوم معاشی بدحالی کا شکار ہے، فیسوں میں اضافہ کرنا انتہائی غیر انسانی عمل ہے۔ پورا سال یونیورسٹی بند رہی اور اب جب تمام کیمپس کھولے جا چکے ہیں، ایف سی کو بند رکھنا بلا جواز ہے۔ طلبہ اس عمل کے خلاف بھرپور ردعمل دیں گے۔ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کیا جائے گا جس کی ذمہ دار انتظامیہ ہوگی۔

پروگریسو اسٹوڈنٹس کولیکٹو کے صدر محسن ابدالی کا کہنا تھا کہ اس موقع پہ ہم ایف سی کے مظلوم طلبا کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر حد تک ان کا ساتھ دیں گے اور مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔

مصنف پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم ہیں اور صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے