English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

دورہ پاکستان ترک کرنے کا فیصلہ ای سی بی کا ہے برطانوی حکومت کا نہیں، کرسچن ٹرنر

القمر

اسلام آباد: نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کرکٹ بورڈز (ای سی بی) کی جانب سے پاکستان میں شیڈول سیریز منسوخ کرنے پر پاکستان نے قانونی کارروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے جس کے بعد برطانوی حکومت نے انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ کے اقدام سے دوری اختیار کرتے ہوئے اسے بورڈ کا ’ذاتی‘ فیصلہ قرار دے دیا۔

پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنر نے کہا کہ دورے کو ترک کرنے کا فیصلہ ای سی بی کا ہے جو برطانیہ کا خود مختار ادارہ ہے اور یہ کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے خدشات کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا۔

کرسچن ٹرنر نے کہا کہ برطانوی حکومت اور اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن نے دورے کی حمایت کی تھی اور ای سی بی کو سیکیورٹی کی بنیاد پر کوئی مشورہ نہیں دیا۔

انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستان کا سفر کرنے کی ہماری ایڈوائزری تبدیل نہیں ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر میں انگلینڈ کے دورہ پاکستان کی منسوخی پر گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہوں، میں نے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) رمیز راجا اور چیف ایگزیکٹو افسر وسیم خان کے ساتھ سخت محنت کی اور ان کے تعاون کی تعریف کی اور میں ذاتی طور پر میچز کا منتظر تھا۔

کرسچن ٹرنر نے کہا کہ دورہ پاکستان منسوخ ہونے سے پیدا ہونے والی مایوسی کو سمجھ سکتا ہوں، میں اس کی تائید نہیں کرتا، میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ دورے کی منسوخی میں برطانوی حکومت کا کوئی کردار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام واقعات پر کوئی کنٹرول نہیں ہے، تمام ایونٹس میں شامل ہونا اور اسے دلچسپ بنانا آسان ہے، میری توجہ اب ای سی بی کے 2022 کے موسم خزاں میں پاکستان کے دورے پر ہے۔

دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈز کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائی کے جواب میں برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ یہ حکومت پاکستان اور ای سی بی کے درمیان کا معاملہ ہے۔

خیال رہے کہ چند دن قبل ہی نیوزی لینڈ نے ون ڈے سیریز کے آغاز سے چند گھنٹے قبل دورہ پاکستان ‘سیکیورٹی وجوہات’ کے باعث منسوخ کردیا تھا اور ہفتے کو نیوزی لینڈ کی ٹیم وطن واپس لوٹ گئی تھی۔

بعد ازاں انگلینڈ نے آئندہ ماہ دورہ پاکستان سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ حالات میں ہم نے انتہائی ہچکچاہٹ کے ساتھ خواتین اور مرد، دونوں ٹیموں کے دورہ پاکستان سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے۔

انگلینڈ کی ٹیم کو دو ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے لیے آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرنا تھا۔

انگلش کرکٹ بورڈ نے کہا تھا کہ ہمارے کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف کی ذہنی اور جسمانی صحت کی نگہداشت ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم جن موجودہ حالات سے گزررہے ہیں اس میں یہ مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔

اس حوالے سے پی سی بی کے چیئرمین رمیز راجا نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کرکٹ برادری اس طرح رویہ اختیار کرے گی تو ہم بھی آگے چل کر کسی بات کا لحاظ نہیں کریں گے۔

پی سی بی کی ویب سائٹ پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا تھا کہ سیکیورٹی کو جواز بنا کر نیوزی لینڈ کی ٹیم چلی گئی جبکہ انہوں نے سیکیورٹی خدشات سے متعلق کوئی معلومات شیئر نہیں کیں۔

انگلش کرکٹ بورڈ بھارتی کھلاڑیوں اور انڈین پریمیئر لیگ سے زیادہ متاثر ہے، برطانوی صحافی

برطانوی صحافی اور براڈ کاسٹر پیٹر اوبرن نے انگلش کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ پاکستان کے لیے ’انتہائی افسردگی‘ کا باعث ہے جس کے لیے انگلش کرکٹ بہت بڑی مقروض ہے۔

اسکائی نیوز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ای سی بی کا فیصلہ صرف پاکستان کرکٹ کے لیے نہیں بلکہ عالمی کرکٹ کے لیے ایک دھچکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسا نہیں لگتا کہ یہ فیصلہ سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ای سی بی نے اپنی ہفتہ وار اجلاس کے بعد جاری کیے گئے بیان میں سیکیورٹی کا کوئی ذکر نہیں کیا تو انگلینڈ نے پاکستان سے کیے گئے وعدے کو پورا کیوں نہیں کیا؟

انہوں نے کہا کہ ’انگلینڈ کرکٹ بورڈ پاکستان کا بہت زیادہ مقروض ہے کیونکہ پاکستان گزشتہ موسم گرما میں کووڈ وبا کے دوران بھی یہاں آیا اور اگلینڈ کرکٹ بورڈ نے بدلے میں کیا کیا؟

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد کچھ واقعات رونما ہو رہے تھے لیکن برطانوی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ پاکستان کا سفر کرسکتے ہیں۔

صحافی نے ای سی بی کے چیئرمین ایان واٹمور کو عوام کے سامنے نہ آنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

اگر سیکیورٹی کے خدشات نہ ہوتے تو ای سی بی یہ قدم کیوں اٹھا سکتا تھا؟ پر رد عمل دیتے ہوئے اوبرن نے کہا کہ ’اس کی وجہ یہ ہے کہ ای سی بی بدمعاش ہیں، وہ کھلاڑیوں سے ڈرتے ہیں، وہ بھارتیوں سے متاثر ہوتے ہیں خاص طور پر آئی پی ایل (انڈین پریمیئر لیگ) سے متاثر ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے یقین ہے، یہ کھلاڑیوں کی طاقت ہے، ایک متنازع، بدمعاش، بزدلانہ بورڈ جو ہمارے قریبی کرکٹ کے ساتھیوں کو لات مارنے کے لیے تیار ہے ہم پر پاکستان کا شکر اور عزت کا بہت بڑا قرض ہے‘۔

علاوہ ازیں ای ایس پی این کریک انفو کے سینئر نامہ نگار جارج ڈوبیل نے اپنے مضمون میں انگلینڈ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کرکٹ بورڈ کی منافقت اور دوہرا معیار انہیں دوستوں سے محروم کرسکتا ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 2017 کے چیمپئنز ٹرافی کے تمام میچ لندن برج حملے کے باوجود انگلینڈ میں کھیلے گئے تھے۔

جارج ڈوبیل نے کہا کہ ’اس وقت ہم میں سے بہت سے لوگوں نے ہمت پکڑی اور دھمکیوں کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا‘۔

صحافی نے لکھا کہ ’لیکن اگر یہ ضروری ہے کہ کرکٹ لیسٹر اور لندن میں جاری رہے تو یہ یقینی طور پر اہم ہے کہ میچز لاہور اور لاڑکانہ میں بھی جاری رہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ای سی بی کی جانب سے ان کے دورے کی منسوخی کا اعلان دراصل دوہرے معیار کا کلچر ہے جو محض کچھ اقوام کو دیکھنے کے لیے ظاہر ہوتا ہے جبکہ دوسروں کے مقابلے میں بہت کم اہم ہے۔

ای ایس پی این کریک انفو کے سینئر نامہ نگار جارج ڈوبیل نے کہا کہ برطانوی دفتر خارجہ اور نہ ہی ای سی بی کے اپنے سیکیورٹی ماہرین نے پاکستان کے لیے اپنی ٹریول ایڈوائزری کو تبدیل کیا تھا۔

انہوں نے مضمون میں اپنے قارئین کو یاد دلایا کہ پاکستان نے ’2020 میں انگلینڈ کی مدد کے مطالبات کا جواب دیا تھا‘۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے وعدہ کیا اور برطانیہ میں کرکٹ کی روشنی بحال رکھنے کے لیے برمنگھم کے حیات ہوٹل میں 10 دن قرنطینہ میں گزارے، انہوں نے ملک میں 7 ہفتے گزارے اور یہ وہ وقت تھا جب ملک میں ویکسین نہیں تھی لیکن انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ انگلینڈ کے گراؤنڈز میں لائٹس روشن رکھی جا سکیں۔

خیال رہے کہ چند دن قبل ہی نیوزی لینڈ نے ون ڈے سیریز کے آغاز سے چند گھنٹے قبل دورہ پاکستان سیکیورٹی وجوہات کے سبب منسوخ کردیا تھا اور ہفتے کو نیوزی لینڈ کی ٹیم وطن واپس لوٹ گئی تھی۔

بعد ازاں انگلینڈ نے آئندہ ماہ دورہ پاکستان سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ حالات میں ہم نے انتہائی ہچکچاہٹ کے ساتھ خواتین اور مرد دونوں ٹیموں کے دورہ پاکستان سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے۔

انگلینڈ کی ٹیم کو دو ٹی20 میچوں کی سیریز کے لیے آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرنا تھا۔

انگلش کرکٹ بورڈ نے کہا تھا کہ ہمارے کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف کی ذہنی اور جسمانی صحت کی نگہداشت ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم جن موجودہ حالات سے گزررہے ہیں اس میں یہ مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔

اس حوالے سے پی سی بی کے چیئرمین رمیز راجا نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کرکٹ برادری اس طرح رویہ اختیار کرے گی تو ہم بھی آگے چل کر کسی بات کا لحاظ نہیں کریں گے۔

پی سی بی کی ویب سائٹ پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا تھا کہ سیکیورٹی کو جواز بنا کر نیوزی لینڈ کی ٹیم چلی گئی جبکہ انہوں نے سیکیورٹی خدشات سے متعلق کوئی معلومات شیئر نہیں کیں۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے