کراچی پریس کلب کے ممبر اور سنئیر صحافی وارث رضا کو رات گئے ان کے گھر سے حراست میں لے لیا گیا۔
صحافی وارث رضا کی بیٹی لیلہ رضا نے سوشل میڈیا پر اپنے والد کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے حراست میں لیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ وہ تمام ترقی پسند آوازوں کو دبانا چاہتے ہیں، میرے والد نے سچ بولنے کے علاوہ کوئی غلط کام نہیں کیا۔
It’s been ten hours now, my papa, senior journalist and columnist Waris Raza was abducted by law enforcement agencies last night, they want to suppress all progressive voices! My father has done nothing but speak truth to powers that be!#ReleaseWarisRaza
— Laila Raza (@LylaRaza) September 22, 2021
کراچی یونین آف جنرنلسٹ کے مطابق 70 سالہ تاریخی جدوجہد کو بطور مدیر کتابی شکل دینے والے وارث رضا کو رات گئے گھر سے حراست میں لے لیا گیا نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ کے یو جے کی طرف سے اس گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سینئر صحافی کراچی پریس کلب اور @OfficialKUJ کے رکن @OfficialPfuj کی 70 سالہ تاریخی جدوجہد کو بطور مدیر کتابی شکل دینے والے وارث رضا کو رات گئے گھر سے حراست میں لے لیا گیا نامعلوم مقام پر منتقل،کے یو جے کی مذمت فوری رہائی کا مطالبہ @HamidMirPAK @MazharAbbasGEO @geofahmigeo pic.twitter.com/7aI0rC7VIh
— Karachi Union of Journalists (@OfficialKUJ) September 22, 2021
اینکر پرسن حامد میر نے بھی وارث رضا کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے.
A senior journalist Waris Raza who compiled a book recently about the 70 years struggle of @OfficialPfuj for the Press Freedom in Pakistan, arrested from his home in Karachi last night.I stand by @OfficialKUJ and strongly condemn the arrest of Waris Raza @RSF_inter @pressfreedom https://t.co/QMQt7yA9Ok
— Hamid Mir (@HamidMirPAK) September 22, 2021
وارث رضا سندھی ترقی پسند حلقوں میں بطور اپ رائٹ صحافی کے پورے ملک میں پہچان رکھتے ہیں۔ تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انہیں کس جرم میں، کس نے گرفتار کیا ہے۔ اس بارے سندھ حکومت نے بھی کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
کامریڈ وارث رضا مشہور صحافی، سابق ممبر کمیونسٹ پارٹی اور عوامی ورکرز پارٹی کراچی کی انفارمیشن سیکریٹری لیلی رضا کے والد، کو کل رات رینجرز کے اہلکار غیر قانونی طور پر اغوا کر کے لے گئے ہیں۔
ہم اس اغوا نما گرفتاری سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ـ#ReleaseWarisRaza pic.twitter.com/SK2JNxM6Oa— Hafeez Baloch AWP (@BalochHafeez201) September 22, 2021
پی یو ایف جے کے صدر شہزادہ ذولفقار نے کہا ہے کہ وارث رضا آزادی صحافت کے ہراول دستہ میں ہمیشہ پیش پیش رہے ان کی گرفتاری پر تشویش ہے۔
کے یو جے کے صدر نظام الدین صدیقی اور جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی سمیت مجلس عاملہ کے تمام اراکین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وارث رضا ایک سینئر صحافی ہیں جو پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا میں مختلف اداروں سے وابستہ رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی ملک میں آزادی صحافت کی 70 سالہ جدوجہد کو کتابی شکل میں لانے کا اہم کام بطور مدیر انجام دیا ہے وہ آزادی صحافت اور اظہار رائے کیلئے اٹھنے والی ہر تحریک میں ہر اوّل دستے کا حصہ رہے ہیں۔
ان کی گرفتاری انتہائی تشویشناک ہے اور کراچی یونین آف جرنلسٹس اسے آزادی صحافت پر حملہ تصور کرتی ہے۔ ملک میں اس وقت ہر اس توانا آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے جو آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے کے یو جے نے مطالبہ کیا ہے کہ سینئر صحافی وارث رضا کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
صحافی وارث رضا کو جبری حراست میں لئے جانے کے خلاف صحافی تنظیموں نے ملک گیر احتجاج کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ اس مد میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے ملک بھر کے صحافیوں کو احتجاج کی کال دے دی ہے۔

