مرکزی اطلاعات سیکریٹری پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز و رکن قومی اسمبلی شازیہ عطا مری نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے 18 اکتوبر کے شہیدوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے کراچی میں جلسہ عام کیا جارہا ہے جس میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ شریک ہونگے، 18 اکتوبر کے دن ہمارے کہیے کارکنان شہید اور زخمی ہوئے تھے اور 18 اکتوبر کے دردناک واقع پر بی بی بے نظیر بھٹو شہیداء کے لواحقین کے ساتھ کھڑی رہی، جو عزم ذوالفقار بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا تھا آج بھی وہی عزم ہے، انہوں نے کہا کہ آج ملک میں نااہل حکومت مسلط ہے جس نے عوام کا جینا محال کردیا ہے اور آج پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے اس اضافے کو مسترد کرتے ہیں ۔ ان باتوں کا اظہار آج انہوں نے سانحہ 18 اکتوبر کے حوالے سے کل منقعد کئے جانے والے جلسہ عام کے سلسلے میں فیصل کریم کنڈی، شھلا رضا، عاجز دامراھ، سعدیہ جاوید، فدا ڈکھن و دیگر پیپلز پارٹی رہنماوں کے ہمراہ باغ جناح میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ شازیہ مری نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہمیشہ عوام کے حقوق کی بات کی ہے اور پیپلزپارٹی کامقصد عوام کی بھلائی ہے ۔ مزید کہا کہ موجودہ کٹھپتلی حکومت نے ملک کے عوام کو مہنگائی کرکے اتنارلایا ہے کہ چیخیں نکال دی ہیں اور لوگ انہیں بد دعائیں دے رہے ہیں۔ اگر یہ چور مزید مسلط رہے توملک کانقصان ہوگا، ملک میں چالیس فیصد غربت میں اضافہ ہوا ہے ، یہ حکومت یوٹرن ماسٹر ہیں ۔ شازیہ مری نے کہا کہ جنرل مشرف نے اس ملک کا بہت نقصان کیا وہ ملک کے ساتھ غداری کی مترادف ہے اور جنرل مشرف قانون سے بالاتر نہیں ہے ۔

شازیہ مری نے مزید کہا کہ اب وقت آچکا ہے قانونی اور آئینی طریقے سے اسکو پپٹ حکومت کو گھر بھیجا جائے عوام ہمارا ساتھ دے۔ اس موقع پر فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل شہیدوں سے تجدید عہد کریں گے اور آج پیٹرول کی صورت میں عوام پربم گرایا گیا اور ملک میں بجلی بھی مہنگی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان قوم کومثال دیتے تھے کہ ایک ملک کے وزیراعظم سائیکل پرآفس آتے ہیں، اب مہنگائی کر کے پوری قوم کوسائیکل پرآنے پرمجبورکیاجارہا ہے۔ ہم پرامید ہے کہ اپوزیشن کی جماعتیں اس حکومت کیخلاف اکھٹے ہو کر عدم اعتماد کی تحریک لائے تاکہ اس حکومت کا خاتمہ ہو سکے اور پنجاب اور قومی اسیمبلی میں عدم اعتماد تحریک لانی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بلوچستان کے لئے کچھ اورسوچتی ہے جبکہ پنجاب اوروفاق کے لئے کچھ اورسوچتی ہے۔ حکومتیں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر چلتی ہیں جادو ٹونے سے نہیں چلتی ۔
