English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اب واٹس ایپ کے نئے ورژن میں ’فرام فیس‘ کی جگہ ’فرام میٹا‘ لکھا ہوا نظر آئے گا

فیس بک نے حال ہی میں اپنی پیرنٹ کمپنی کا نام ’فیس بک انکارپوریٹڈ‘ سے تبدیل کرکے ’میٹا انکارپوریٹڈ‘ کیا تھا اور اب واٹس ایپ میں بھی اس حوالے سے تبدیلی کردی گئی۔

فیس بک کی ملکیت واٹس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کیے جانے کے وقت عام طور پر ’فرام فیس بک’ لکھا آتا تھا، تاہم اب اس میں تبدیلی کردی گئی۔

واٹس ایپ سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ ’ویب ایٹ انفو‘ کے مطابق اب واٹس ایپ کے نئے ورژن میں ’فرام فیس ‘ کی جگہ ’فرام میٹا‘ لکھا ہوا نظر آئے گا۔

فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے 28 اکتوبر کو کمپنی کا نام تبدیل کرکے ’میٹا‘ رکھا تھا اور اب مذکورہ کمپنی کی زیر ملکیت تمام ایپس اور ویب سائٹس کے اپڈیٹ ورژنز پر ’فرام فیس بک‘ کے بجائے ’فرام میٹا’کا پیغام لکھنا شروع کردیا گیا۔

واٹس ایپ نے ایک سال قبل ہی اپنی ایپ پر ’فرام فیس بک‘ شامل کیا تھا، اس سے قبل کئی سال تک وہ اپنی پیرنٹ کمپنی کا پیغام نہیں دکھاتا تھا۔

واٹس ایپ کے بعد اب جلد ہی انسٹاگرام، اوکولس اور خود فیس بک کی ایپلی کیشن پر بھی ’فرام میٹا‘ لکھا ہوا نظر آئے گا۔

اب واٹس ایپ پر فراہم میٹا لکھا ہوا نظر آئے گا—اسکرین شاٹ

کمپنی کے نئے نام سے اس کی ملکیت رہنے والی تمام ویب سائٹس اور ایپلی کیشن کے نام وہی رہیں گے اور وہ اسی طرح کام کرتی رہیں گی، جسے اب تک کرتی آئی ہیں۔

البتہ مستقبل میں ’میٹا‘ کمپنی نئی ٹیکنالوجیز اور ویب سائٹس سمیت ایپس متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس وجہ سے اس کا نام بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

’میٹا‘ کا مستقبل میں سب سے اہم کام ’میٹاورس‘ نامی ورچوئل ریئلٹی کا انٹرنیٹ نظام بنانا ہے، جس کے لیے کمپنی اگلے پانچ سال میں یورپ بھر میں 10 ہزار افراد کو ملازمتیں بھی فراہم کرے گی۔

میٹاورس ابھی صرف خیال ہے اور اس کا خیال سائنس فکشن کتابوں اور فلموں سے لیا گیا ہے اور اسے حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے دنیا بھر کی بڑی انٹرنیٹ ٹیکنالوجیز کمپنیاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی۔

ابھی تک کسی کو معلوم نہیں ہے کہ ’میٹاورس‘ کیسا نظام ہوگا اور وہ کس طرح انسانی زندگی کو آسان بنائے گا یا پھر دنیا پر کس طرح کے اثرات مرتب کرے گا۔

تاہم فیس بک اور مائیکرو سافٹ سمیت تمام بڑی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ماہرین کا کہنا تھا کہ ’میٹاورس‘ ورچوئل ریئلٹی (وی آر) اور آگمنٹڈ ریئلٹی (اے آر) سمیت تھری ڈی ٹیکنالوجی کا مشترکہ اور بہتر ورژن ہوگا اور اس کی تیاری میں 10 سے 15 سال لگیں گے۔

میٹا اسمارٹ واچ کی پہلی تصویر لیک

میٹا یعنی وہ کمپنی جسے پہلے فیس بک کے نام سے جانا جاتا تھا، ایسی اسمارٹ واچ تیار کررہی ہے جو تصاویر اور ویڈیوز لینے کی صلاحیت رکھتی ہوگی۔

بلومبرگ کی رپورٹ میں میٹا اسمارٹ واچ کی ایک تصویر لیک کی گئی ہے جس میں یہ ڈیوائس ایپل واچ سے ملتی جلتی نظر آتی ہے۔

فرق بس ایک ہے اور وہ میٹا واچ میں ڈسپلے پر نوچ میں موجود ایک کیمرا ہے۔

ایپ ڈویلپر اسٹیو موسر نے یہ تصویر کمپنی کی اس ایپ میں دریافت کی جو رے بین اسٹوریز اے آر سن گلاسز کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

اس سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ اسی ایپ کو مستقبل میں یہ نئی اسمارٹ واچ کنٹرول کرنے کے لیے بھی استعمال ہوسکے گی۔

راؤنڈ کارنر اور ایک کیمرے کے علاوہ یہ اسمارٹ واچ اسٹین لیس اسٹیل کیسنگ اور ڈی اٹیچ ایبل اسٹریپ سے لیس نظر آتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایپ کے کوڈ سے عندیہ ملا ہے کہ اس ڈیوائس کو میلان کا نام دیا جاسکتا ہے، جس سے ویڈیوز اور تصاویر لی جاسکیں گی جن کو کسی فون میں ڈاؤن لوڈ کیا جاسکے گا۔

اسمارٹ فون کی لیک فوٹو — فوٹو بشکریہ بلومبرگ

بلومبرگ نے بتایا کہ میٹا کو توقع ہے کہ ایک اسمارٹ واچ 2022 تک متعارف کرائی جاسکتی ہے مگر ابھی سب کچھ طے نہیں ہوسکا ہے۔

مختلف رپورٹس کے مطابق فیس بک کی سرپرست کمپنی کی جانب سے پہلے ہی پراڈکٹ کی 3 جنریشن پر کام کیا جارہا ہے جن کو مختلف اوقات میں ریلیز کیا جائے گا۔

ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ لیک تصویر ان میں سے کسی ایک اسمارٹ واچ کی ہے یا اسے لانچ بھی کیا جائے گا یا نہیں۔

خیال رہے کہ مارک زکربرگ نے 28 اکتوبر کو کمپنی کا نام تبدیل کرکے میٹا رکھ دیا تھا۔

فیس بک کے نام بدلنے سے ایک گمنام کمپنی کو فائدہ

فیس بک نے 28 اکتوبر کو کمپنی کا نام بدل کر میٹا رکھ دیا مگر اس کے نتیجے میں ایک گمنام کینیڈین صنعتی میٹریل کمپنی کے حصص کی قیمتیں ضرور بڑھ گئی ہیں جو بظاہر نام کی مماثلت کا نتیجہ ہے۔

فیس بک کی جانب سے پرانے نام کو الوداع کہہ کر نئے کو خوش آمدید کہنے پر میٹا میٹریل انکارپوریشن کے حصص کی قیمتیں 29 اکتوبر کو ٹریڈنگ کے آغاز سے ہی 6 فیصد اضافہ ہوا جو چند گھنٹوں میں 26 فیصد تک پہنچ گیا۔

اس کے برعکس فیس بک کے حصص کی قیمتوں میں محض 1.6 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

یہ کینیڈین کمپنی مختلف اقسام کی صنعتوں بشمول الیکٹرونکس اور ایرو اسپیس کے لیے استعمال ہونے والے میٹریلز کو ڈیزائن کرنے میں مہارت رکھتی ہے اور اس کی مارکیٹ ویلیو 1.3 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب ناموں کی مماثلت سے کسی کو فائدہ پہنچا ہو۔

زوم ٹیکنالوجیز کمپنی کے حصص کورونا کی وبا کے دوران آسمان پر پہنچ گئے تھے جس کی وجہ اسی کے نام سے ملتی جلتی مقبول ویڈیو کانفرنسنگ سروس زوم کی مقبولیت تھی۔

مگر یہ واضح نہیں اس بار ناموں کی مماثلت سے ایسا ہوا یا ‘میم اسٹاک’ انویسٹرز نے دانستہ میٹا میٹریلز کے حصص کی قیمتوں کو پر لگائے۔

میٹا میٹریلز کے سی ای او جارج پالیکاراس نے بھی اس صورتحال پر پرمزاح تبصرہ کیا۔

انہوں نے ایک ٹوئٹ میں لکھا ‘ @Metamaterialtec کی جانب سے میں فیس بک کا میٹا ورس میں پرجوش استقبال کرتا ہوں’۔

انہوں نے 28 اکتوبر کو اپنی کمپنی کی جانب سے کیے جانے والے ایک اعلان کی طرف توجہ دلائی جس میں ایک آن لائن ٹاک کا بتایا گیا تھا جس میں میٹا میٹریلز ، فیس بک کے ورچوئل رئیلٹی ڈویژن اور دیگر عہدیداران شریک ہوں گے۔

خیال رہے کہ فیس بک کی جانب سے نام میں تبدیلی یا ری برانڈنگ کا مقصد سوشل میڈیا نیٹ ورک کی جانب سے میٹا ورس کی اہمیت کو ظاہر کرنا بھی ہے جسے مارک زکربرگ نے انٹرنیٹ کا مستقبل قرار دیا ہے۔

اس تبدیلی کے بعد اب فیس بک سائٹ یا ایپ اس کمپنی کا مرکز نہیں رہی بلکہ انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی طرح ایک ذیلی شاخ بن گئی ہے مگر سوشل نیٹ ورک کا نام بدستور فیس بک ہی رہے گا۔

مارک زکربرگ میٹا کے سی ای او اور چیئرمین ہوں گے یعنی مکمل کنٹرول ان کے پاس ہی ہوگا۔

بنیادی طور پر یہ نیا نام کمپنی کے اندر ہونے والی تبدیلیوں کا اظہار کرتا ہے اور مارک زکربرگ کی جانب سے کچھ دن قبل 2021 میں ہی میٹاورس کے لیے 10 ارب ڈالرز خرچ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے