فیس بک نے حال ہی میں اپنی پیرنٹ کمپنی کا نام ’فیس بک انکارپوریٹڈ‘ سے تبدیل کرکے ’میٹا انکارپوریٹڈ‘ کیا تھا اور اب واٹس ایپ میں بھی اس حوالے سے تبدیلی کردی گئی۔
فیس بک کی ملکیت واٹس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کیے جانے کے وقت عام طور پر ’فرام فیس بک’ لکھا آتا تھا، تاہم اب اس میں تبدیلی کردی گئی۔
واٹس ایپ سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ ’ویب ایٹ انفو‘ کے مطابق اب واٹس ایپ کے نئے ورژن میں ’فرام فیس ‘ کی جگہ ’فرام میٹا‘ لکھا ہوا نظر آئے گا۔
فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے 28 اکتوبر کو کمپنی کا نام تبدیل کرکے ’میٹا‘ رکھا تھا اور اب مذکورہ کمپنی کی زیر ملکیت تمام ایپس اور ویب سائٹس کے اپڈیٹ ورژنز پر ’فرام فیس بک‘ کے بجائے ’فرام میٹا’کا پیغام لکھنا شروع کردیا گیا۔
واٹس ایپ نے ایک سال قبل ہی اپنی ایپ پر ’فرام فیس بک‘ شامل کیا تھا، اس سے قبل کئی سال تک وہ اپنی پیرنٹ کمپنی کا پیغام نہیں دکھاتا تھا۔
واٹس ایپ کے بعد اب جلد ہی انسٹاگرام، اوکولس اور خود فیس بک کی ایپلی کیشن پر بھی ’فرام میٹا‘ لکھا ہوا نظر آئے گا۔

کمپنی کے نئے نام سے اس کی ملکیت رہنے والی تمام ویب سائٹس اور ایپلی کیشن کے نام وہی رہیں گے اور وہ اسی طرح کام کرتی رہیں گی، جسے اب تک کرتی آئی ہیں۔
البتہ مستقبل میں ’میٹا‘ کمپنی نئی ٹیکنالوجیز اور ویب سائٹس سمیت ایپس متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس وجہ سے اس کا نام بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
’میٹا‘ کا مستقبل میں سب سے اہم کام ’میٹاورس‘ نامی ورچوئل ریئلٹی کا انٹرنیٹ نظام بنانا ہے، جس کے لیے کمپنی اگلے پانچ سال میں یورپ بھر میں 10 ہزار افراد کو ملازمتیں بھی فراہم کرے گی۔
میٹاورس ابھی صرف خیال ہے اور اس کا خیال سائنس فکشن کتابوں اور فلموں سے لیا گیا ہے اور اسے حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے دنیا بھر کی بڑی انٹرنیٹ ٹیکنالوجیز کمپنیاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی۔
ابھی تک کسی کو معلوم نہیں ہے کہ ’میٹاورس‘ کیسا نظام ہوگا اور وہ کس طرح انسانی زندگی کو آسان بنائے گا یا پھر دنیا پر کس طرح کے اثرات مرتب کرے گا۔
تاہم فیس بک اور مائیکرو سافٹ سمیت تمام بڑی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ماہرین کا کہنا تھا کہ ’میٹاورس‘ ورچوئل ریئلٹی (وی آر) اور آگمنٹڈ ریئلٹی (اے آر) سمیت تھری ڈی ٹیکنالوجی کا مشترکہ اور بہتر ورژن ہوگا اور اس کی تیاری میں 10 سے 15 سال لگیں گے۔
میٹا اسمارٹ واچ کی پہلی تصویر لیک
میٹا یعنی وہ کمپنی جسے پہلے فیس بک کے نام سے جانا جاتا تھا، ایسی اسمارٹ واچ تیار کررہی ہے جو تصاویر اور ویڈیوز لینے کی صلاحیت رکھتی ہوگی۔
بلومبرگ کی رپورٹ میں میٹا اسمارٹ واچ کی ایک تصویر لیک کی گئی ہے جس میں یہ ڈیوائس ایپل واچ سے ملتی جلتی نظر آتی ہے۔
فرق بس ایک ہے اور وہ میٹا واچ میں ڈسپلے پر نوچ میں موجود ایک کیمرا ہے۔
ایپ ڈویلپر اسٹیو موسر نے یہ تصویر کمپنی کی اس ایپ میں دریافت کی جو رے بین اسٹوریز اے آر سن گلاسز کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
اس سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ اسی ایپ کو مستقبل میں یہ نئی اسمارٹ واچ کنٹرول کرنے کے لیے بھی استعمال ہوسکے گی۔
راؤنڈ کارنر اور ایک کیمرے کے علاوہ یہ اسمارٹ واچ اسٹین لیس اسٹیل کیسنگ اور ڈی اٹیچ ایبل اسٹریپ سے لیس نظر آتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایپ کے کوڈ سے عندیہ ملا ہے کہ اس ڈیوائس کو میلان کا نام دیا جاسکتا ہے، جس سے ویڈیوز اور تصاویر لی جاسکیں گی جن کو کسی فون میں ڈاؤن لوڈ کیا جاسکے گا۔

