وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی برادری افغانستان کی صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کرے۔
انہوں نے کہا کہ افغان عوام کی مشکلات میں تحفیف لانے میں معاونت کے لیے منجمد اثاثوں کی بحالی سمیت فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سے ٹرائیکا پلس کے خصوصی نمائندگان برائے افغانستان کی ملاقات ہوئی جس میں وزیراعظم نے ٹرائیکا پلس (امریکا، چین، افغانستان اور دیگر) میکانزم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے افغانستان کی صورتحال اور چیلنجز پر قابو پانے کے لیے کامیاب ٹرائیکا پلس کے انعقاد پر خصوصی نمائندگان کو مبارک باد دی اور کہا کہ خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے افغانستان میں امن و استحکام ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں تواتر ست اس بات پر زور دیتا رہا ہوں کہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، پاکستان نے ہمیشہ ایک جامع سیاسی تصفیے کی حمایت کی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے انسانی حقوق کے احترام اور انسداد دہشت گردی کے پرعزم اقدامات کی اہمیت پر زور دیا اور عالمی برادری کو افغانستان کے ساتھ عملی اور تعمیری کردار کی اہمیت، افغانستان میں انسانی بحران اور اقتصادی تباہی سے بچنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
وزیراعظم عمران خان سے افغان عبوری وزیرخارجہ ملا امیر متقی نے ملاقات کی۔ ان کے ہمراہ قائم مقام وزراء برائے خزانہ، صنعت و تجارت اور دیگر سینئر ارکان بھی تھے۔ وزیراعظم نے افغانستان اور افغان عوام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں، تمام افغانوں کے حقوق کا احترام افغانستان کے استحکام میں ممد و معاون ثابت ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ عبوری افغان حکومت تعمیری طور پر بین الاقوامی برادری سے منسلک رہے گی، جبکہ پاکستان افغانستان کے لیے فوری انسانی امداد کی فراہمی کے مطالبات پر اٹل رہے گا ۔
