پاکستان کی پہلی نیشنل سائبر سیکیورٹی اکیڈمی کا افتتاح صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایئریونیورسٹی اسلام آباد میں ملک کی پہلی نیشنل سائبر سیکیورٹی اکیڈمی کا افتتاح کیا، جس کا مقصد ماہرین کی تیاری ہے۔
پاک فضائیہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اسلام آباد میں منعقدہ سائبر وارفیئر اینڈ سیکیورٹی-2021 پر بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں ملک کی پہلی نیشنل سائبر سیکیورٹی اکیڈمی کا افتتاح کیا۔
تقریب میں سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، ایئر مارشل (ر) جاوید احمد، وائس چانسلر ایئر یونیورسٹی اور ایئر وائس مارشل عباس گھمن سمیت سول، عسکری اور غیر ملکی معززین نے بھی شرکت کی۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سائبر سیکیورٹی کے مسئلے کو ایک عالمی خطرہ قرار دیا، جس کے قومی سلامتی پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بیان کے مطابق صدر مملکت نے تعلیم اور صنعت کے باہمی تعاون کو سراہا، جس کے تحت پاک فضائیہ نے ایئر یونیورسٹی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ساتھ مل کر ملک کی پہلی سائبر سیکیورٹی اکیڈمی کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔
تقریب کو ایک تاریخی موقع قرار دیتے ہوئے صدر مملکت نے سائبر سیکیورٹی میں بہترین کارکردگی کے حصول پر زور دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کے سلسلے میں سربراہ پاک فضائیہ کا وژن نیشنل سائبر سیکیورٹی پالیسی-2021 کے تحت سائبر سیکیورٹی کے مقاصد کے حصول میں پاک فضائیہ کے کردار کی عکاسی ہے۔
مزید کہا گیا کہ پاک فضائیہ نے سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں افرادی قوت کی مہارت، تحقیق اور ڈیولپمنٹ کی مزید تقویت کے لیے تعلیمی شعبوں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے اور ان اداروں کے تعاون اور صنعت و تعلیم کے مؤثر روابط کے ذریعے پاک فضائیہ ایک انتہائی مؤثر اور ذمہ دار سائبر فورس کی صورت میں ابھر کر سامنے آئے گی۔
ترجمان کے مطابق ایئر وائس مارشل عباس گھمن، ڈائریکٹر جنرل سی فور آئی نے سائبر سیکیورٹی اکیڈمی کے قیام اور سائبر وارفیئر اینڈ سیکیورٹی-2021 کے ساتھ سائبر سیکیورٹی انڈسٹری کی نمائش کے کامیاب انعقاد پر پاک فضائیہ کے کردار پر روشنی ڈالی۔
اس موقع پر ائیر وائس مارشل عباس نے پاک فضائیہ کی اپنی سائبر کمانڈ قائم کرنے کے منصوبے پر بھی روشنی ڈالی، جس سے نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے ماتحت سائبر ٹیکنالوجی پارک اور سائبر سینٹر آف ایکسیلینس کا تعاون حاصل ہوگا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ایئر یونیورسٹی ایئر مارشل (ریٹائرڈ) جاوید احمد نے کہا کہ سائبر سیکیورٹی اکیڈمی کے قیام کا مقصد سائبر سیکیورٹی سے متعلقہ ابھرتے ہوئے خطرات کے پیش نظر حکومتی، صنعتی، سرکاری اور نجی شعبوں کے اداروں کو تربیت یافتہ سائبر ماہرین کی فراہمی ہے۔
پاک فضائیہ کے ترجمان کے بیان کے مطابق سائبر اکیڈمی کے افتتاح کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے ہمراہ سائبر سیکیورٹی انڈسٹری کی نمائش کا دورہ کیا اور سربراہ پاک فضائیہ نے صدر پاکستان کو مقامی اور غیر ملکی ٹیکنالوجی ماہرین کے اشتراک سے پاک فضائیہ کی جانب سے جاری مختلف اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔
قبل ازیں رواں برس جولائی میں وفاقی کابینہ نے قومی سائبر سیکیورٹی پالیسی 2021 کی منظوری دے دی تھی جس کے تحت قومی سائبر سیکیورٹی رسپانس فریم ورک کا قیام عمل میں لانا ہے اور پالیسی پر عمل درآمد کے لیے سائبر گورننس پالیسی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔
پالیسی کے مطابق پاکستان کے کسی بھی ادارے پر سائبر حملہ قومی خودمختاری کے خلاف جارحیت کا اقدام سمجھا جائے گا اور تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور کہا گیا تھا کہ کمیٹی قومی سطح پر پالیسی پر عمل درآمد، بروقت حکمت عملی طے کرے گی اور کارروائی کرے گی۔
عالمی حکمت عملی انڈیکس اور عالمی سلامتی انڈیکس 2018 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو دنیا کی ساتویں بدترین سائبر سیکیورٹی ریاست کا درجہ حاصل ہے۔
پاکستان آئی ٹی کا ابھرتا مرکز، سالانہ 25 ہزار آئی ٹی گریجوئیٹس نکلنے لگے
انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے مطابق ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سے پاکستان میں 2030 تک اقتصادی ترقی میں تقریبا 10 کھرب روپے کا اضافہ ہو سکتا ہے جو کہ ملک کی حالیہ مجموعی پیداوار کے 19 فیصد حصے کے برابر ہے۔
گوگل (GOOGLE) اور پاکستانی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے ادارے پاشا (P@SHA) کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اگر یہی رفتار رہی تو ملک میں ٹیکنالوجیکل انقلاب برپا ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تین لاکھ سے زائد انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) پروفیشنلز کا مرکز ہے اور یہاں اس وقت سالانہ 25 ہزار سے زائد آئی ٹی گریجویٹس پیدا ہو رہے ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران یعنی 2010 سے لے کر اب تک ملک بھر میں 700 سے زائد ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس کی تربیت مکمل ہو چکی ہے جب کہ گزشتہ برس کورونا کی وبا کے باوجود ٹیکنالوجی کی برآمدات میں 15 فیصد اضافہ ہوا اور اسی شرح اس میں سالانہ اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ 2022 میں6 کھرب 10 ارب روپے سے زائد تک پہنچ جائیں گی جب کہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی آن لائن آبادی میں بھی تیزی سے اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے اور رواں سال ہی انٹرنیٹ کے استعمال کی شرح میں 54 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
مذکورہ رپورٹ گوگل کی سرپرست کمپنی الفا بیٹا (AlphaBeta) کے اکنامسٹس نے تیار کی ہے جس میں تین اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جنہیں پاکستان کو ترقی کے لیے استعمال کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔
رپورٹ میں حکومت پاکستان کو تجاویز دی گئی ہیں کہ مقامی ٹیک ایکو سسٹم کی مدد کے لیے انفرا اسٹرکچر کو ترقی دیی جائے، آئی ٹی سیکٹر کی بر آمدات کے لیے سازگار ماحول بنایا جائے اور ملک میں جدت اور ڈیجیٹل اسکلز کو فروغ دینے کے منصوبے شروع کیے جائیں۔
مذکورہ رپورٹ کو اسلام آباد میں ہونے والی ایک تقریب میں سامنے لایا گیا، جس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی خطاب کیا اور انہوں نے رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کی ترقی خوش آئندہ بات ہے۔
ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ رپورٹ کے اہداف کو حاصل کرنے اور ڈیجیٹل پاکستان کا ویژن پورا کرنے کے لیے کل قومیتی طرز فکر کی ضرورت ہوگی جس میں سرکاری و نجی شعبے شریک ہیں۔
منبع: ڈان نیوز
The post پاکستان: صدر مملکت کا پہلی نیشنل سائبر سیکیورٹی اکیڈمی کا افتتاح appeared first on شفقنا اردو نیوز.
