کراچی (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) آئی ایم ایف کی نئی سخت شرائط کو تسلیم کرنا قوم کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہو گا ‘ معاہدے سے مہنگائی اور بیروزگاری کا نیا طوفان آئے گا‘ عالمی مالیاتی ادارہ براہ راست ہماری معیشت کو کنٹرول کر رہا ہے‘پی ڈی ایم قرضے لینے کے خلاف مارچ اور دھرنا دے‘ قرض کی اصل رقم ادا کر نا تو الگ رہا اب تو قرضوں پر عاید شرح سود کی ادائیگی بھی دشوار ہو گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار معروف ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی، ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) کے صدر اور سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایس ایم اے پی) کے چیئرمین، حب سالٹ کے چیف ایگزیکٹیو افسر اور لسبیلہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر اسماعیل ستار، ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور پراچہ ایکسچینج کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ظفر سلطان پراچہ، پی ایچ ڈی اکنامکس اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس اسلام آباد کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالجلیل اور کراچی ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ضلع شرقی کی صدر لالہ رخ نے جسارت کی جانب سے پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’کیا آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا ہوگا؟‘‘ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہوچکا ہے جو بھی شرائط آئی ایم ایف کی جانب سے دی جا رہی ہیں اس پر پاکستان کو من وعن عمل کرنا ہوگا کیونکہ آئی ایم ایف پاکستان سے معاہدہ نہیں بلکہ ہدایت جاری کر رہا ہے‘ آئی ایم ایف سے مزید معاہدہ ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے‘ اس سے وفاقی حکومت اور ریاست مفلوج ہو جائے گی‘ سب سے بڑا مسئلہ آئی ایم ایف سے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کا ہے ہم قرض لیکر قرضوں کی ادائیگی کر رہے ہیں تو قرض تو مزید بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کو اپنے دیگر مطالبات کو ایک طرف کر کے آئی ایم ایف سے قرضے لینے کے خلاف مارچ اور دھرنا دینا چاہیے ‘ آئی ایم ایف کی شرائطِ پر نئے آرڈیننس کا نفاذ معاشی خود مختاری پر حملہ ہوگا‘ پاکستانی عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔ ان کی کڑی شرائط پر عمل درآمد کی وجہ سے پہلے ہی قوم مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہے‘ان نئی سخت شرائط کو تسلیم کرنا قوم کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہو گا۔ انہوں نے تمام اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ جمہوریت کی بقا کے لیے اپنی جدوجہد کا رخ عالمی مالیاتی اداروں کی جانب موڑ دیں جو اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کی آڑ میں پاکستان پر اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتے ہیں‘پاکستان میں آئی ایم ایف براہ راست معیشت کو کنٹرول کر رہا ہے۔اسماعیل ستار نے کہا کہ ہمیں مستقبل کے لیے ایسی معاشی پالیسیاں بنانا ہوں گی جن کی مدد سے ہم خود کفالت کی طرف جائیں تاکہ ہمیں بین الاقوامی اداروں کے آگے کشکول نہ پھیلانا پڑے‘ ملک کے معاشی حالات پہلے ہی دگرگوں ہیں‘ مہنگائی کی وجہ سے عوام کی قوت خرید ختم ہو رہی ہے‘ ڈالر کی قدر جس طرح بڑھ رہی ہے وہ تشویشناک ہے‘آئی ایم ایف پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی اور مختلف اشیا پر ٹیکسوں کی چھوٹ ختم کرانا چاہتا ہے اسکی وجہ سے پاکستانی معیشت کا جنازہ نکل سکتا ہے‘ حالیہ معاہدے کے نتیجے میں روپے کی قدر میں مزید کمی ہوگی، مہنگائی اور بے روزگاری بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے اخراجات کو کنٹرول کرے، ہمیں غیر ضروری درآمدات پر پابندی لگانا ہوگی‘ صنعتوں پر ٹیکس کم کرنا ہوگا اور ٹیکس کی شرح میں بھی کمی کرنا پڑے گی‘ صنعتی شعبہ کی پیداواری لاگت میں کمی لائی جائے تاکہ ملکی برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوسکے اور حکومت معاشی استحکام کی طرف گامزن ہوسکے۔ظفر سلطان پراچہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا لیکن اس میں صرف قصور حکومت کا نہیں ہے بلکہ تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی معاشی صورتحال کا بھی ہے۔ ڈاکٹر عبدالجلیل نے کہا کہ بیرونی امداد اور قرضوں پر انحصار کی وجہ سے پاکستانی معیشت اپاہج ہو کر رہ گئی ہے‘ قرض کی اصل رقم ادا کرنا تو الگ رہا اب تو قرضوں پر عاید شرح سود کی ادائیگی بھی دشوار ہو گئی ہے‘ پاکستان پر قرضوں کے واجبات میں مسلسل اضافہ ہونے کی وجہ سے ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن کا زیادہ تر حصّہ بھی قرضوں کی سودی اقساط کی ادائیگی کی نذر ہو جاتا ہے ‘پاکستان گزشتہ 56 برس کے دوران تقریباً 22 بار آئی ایم ایف کے پاس جا چکا ہے اور ہر2 سے3 سال کے بعد ہم آئی ایم ایف کے پاس بیٹھے ہوتے ہیں جبکہ دیگر ممالک آئی ایم ایف کو چھوڑ چکے ہیں اس کی بنیادی وجہ ان ممالک نے اپنی اکنامی کو ٹھیک کرنے کے لیے بڑی بنیادی تبدیلیاں کی ہیں‘ انہوں نے اپنی معیشت کا اندرونی سسٹم، ٹیکس کے نظام اور ایکسچینج ریٹ پالیسی کو درست کیا ہے اور یہ کام 2 یا 3 سال میں نہیں ہوتا ہے اور نہ کوئی خاص حکومت کر رہی ہوتی ہے اس کے لیے بنیادی اور مستقبل کی صحیح پلاننگ کی ضرورت ہوتی ہے ہم جب تک اپنی معیشت کی بہتری کے لیے مستقبل کے حوالے سے درست منصوبہ بندی نہیں کریں گے جن سے ہماری برآمدات میں اضافہ ہو اور در آمد ات میںکمی ہو تب تک ہم اپنی گروتھ کو نہیں بڑھا سکتے ہیں۔لالہ رخ نے کہا کہ آئی ایم ایف جب بھی قرض دیتا ہے تو وہ اپنی شرائط پر قرضہ دیتا ہے ‘حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ قرض کا پیسہ کہاں لگ رہا ہے‘ آئی ایم ایف سے جب بھی بات کرتے ہیں تو کسی تجارتی باڈی کو اپنے ساتھ مذاکرات میں کیوں نہیں لیتے‘ کراچی میں100 سے زاید ماہر کاروباری خواتین ہیں‘ آپ ان سے رجوع کیوں نہیں کرتے‘ جب آپ مذاکرات کرتے ہیں‘ ان تجارتی خواتین باڈیز سے مشورہ کریںجو تقریباً 52 فیصد خواتین ہیں۔ انڈونیشیا، ملیشیا، بنگلادیش اور دیگر ممالک میں خواتین کو حکومت سہولیات فراہم کرتی ہے‘ پاکستان میں ایسا بالکل نہیں ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ خواتین کو بھی ان تمام کاموں میں شامل کیا جائے اور ان سے مشورہ لیا جائے۔
