واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر فائرنگ اور بم حملوں کی دھمکیاں سامنے آے پر تعلیمی ادارے بند کردیے گئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق کیلیفورنیا، ٹیکساس، منیسوٹا اور میزوری میں حملوں کے پیش نظر سیکورٹی بڑھا دی گئی،جب کہ مختلف علاقوں میں تدریسی عمل متاثر ہوا۔ ٓریاست الینوائے میں ایک اسکول نے والدین کو ایک ای میل میں اطلاع دی کہ ٹک ٹاک پر 17 دسمبر کو اسکولوں پر حملوں کے حوالے سے ایک ٹرینڈ چل رہا ہے،جس کے تناظر میں جمعے کے روز کلاسیں نہیں ہوں گی۔ ادھر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان دھمکیوں کو غیر مصدقہ قرار دیا ہے۔ ریاست نیو جرسی کے گورنر فل مرفی نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ نیو جرسی میں اسکولوں کے حوالے سے کوئی دھمکی نہیں آئی، پھر بھی ہمارے لیے بچوں کی حفاظت اوّلین ترجیح ہے ۔ اس کے علاوہ ایریزونا، نیویارک، کنیٹیکٹ، الینوئس، مونٹانا اور پنسلوانیا کے اسکولوں کی انتظامیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ دھمکیوں کی وجہ سے اسکولوں کے باہراضافی پولیس موجود رہے گی۔ ادھر ٹک ٹاک انتظامیہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انھیں ایسے ثبوت نہیں ملے ،جن سے پتا چل سکے کہ اسکولوں پر حملوں کی دھمکی کمپنی کے پلیٹ فارم سے دی گئی ہے۔واضح رہے کہ امریکا میں 1996 کے قانون کے تحت ٹک ٹاک یا دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف ان کے پلیٹ فارم پر شائع ہونے والی خبروں کے تناظر میں کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
