English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

خصوصی رپورٹ: ساتویں برسی پر سانحہ APS پاکستانی میڈیا کوریج سے غائب

سانحہ اے پی ایس پاکستانی تاریخ کا ایسا دردناک سانحہ ہے جسے نسلیں یاد رکھیں گی لیکن میڈیا نے اس مرتبہ شہدا کے لئے کوئی پروگرام کرنا تک گوارا نہیں کیا۔ عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایسا کرنے سے کیا قوم دہشتگردوں کی بربریت اور معصوموں کے خون میں لت پت لاشے بھول جائے گی؟

پاکستانی اخبارات ہوں یا بڑے بڑے ٹیلی وژن چینلز، کسی نے بھی سانحہ اے پی ایس کو نہ تو نمایاں جگہ دی اور نہ ہی کسی نامی گرامی اینکر نے اس پر بات کرنا مناسب سمجھا۔ کسی کا دل پسیجا بھی تو اس نے ہلکی سی گفتگو کر کے بات کا رخ ہی کسی اور جانب موڑ دیا۔ اگر اس پر کچھ لکھا گیا یا نشر ہوا تو وہ بھی صرف سوشل میڈیا یا نجی نیوز ویب سائٹس پر۔

پاکستان کے تین بڑے اخبارات نے پہلے صفحے پر APS پشاور سانحے یا سقوطِ ڈھاکہ کے حوالے سے کوئی یاد دہانی ضروری نہیں سمجھی۔

نجی ٹیلی وژن چینل کے مانیٹرنگ محکمے سے وابستہ ایک صحافی نے بتایا کہ انہیں سانحہ اے پی ایس پر خبر یا آرٹیکل لکھنے کے لئے اس مرتبہ کوئی ہدایت نہیں کی گئی۔ حالانکہ پچھلے 6 سالوں میں جب بھی 16 دسمبر کی تاریخ قریب آتی، اس پر تفصیلی تحاریر لکھنے کی خصوصی ہدایات جاری کی جاتی تھیں۔

صحافی نے بتایا کہ اس مرتبہ تو خبروں میں واضح طور پر ٹی ٹی پی کا نام لکھنے سے بھی گریز کرتے ہوئے دہشتگردوں کو صرف شرپسند عناصر لکھنے پر ہی اکتفا کیا گیا۔

“ہمارے سامنے مسلسل تمام ٹی وی چینلز کھلے ہوتے ہیں کیونکہ ہمارا کام ہی مانیٹرنگ ہے۔ میں یہ کہے بنا نہیں رہ سکتا کہ مجھے اس سال APS کے حوالے سے کوئی خصوصی پروگرامنگ نظر نہیں آئی۔ لگتا ہے ہم دہشتگردوں سے دوستی کی خواہش میں اپنے بچوں کو بھلا بیٹھے ہیں اور وہ معاہدے کی پاسداری کرنے کو بھی راضی نہیں۔ اب تو ان کا نام بھی نہیں لکھتے۔ بس ‘شرپسند عناصر’ لکھ رہے ہیں”۔

اسلام آباد میں مقیم ایک اور نجی چینل سے وابستہ سینیئر رپورٹر کا کہنا تھا کہ سانحہ اے پی ایس کو بھلانے کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس مرتبہ اسلام آباد میں اس پر کوئی تقریب تک منعقد نہیں کی گئی اور نہ کسی وزیر یا مشیر نے اس پر کوئی بیان جاری کیا۔ “جب تقریب ہی نہیں ہوئی تو کوریج کس چیز کی کرتے؟ ہاں یہ ضرور ہوا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ کر کے اپنے کاندھوں پر لدا ذمہ داری کا بھاری بوجھ اتار دیا”۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں دیکھا گیا تھا کہ حکومت یا پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے اس سانحے کو بھرپور کوریج دی جاتی تھی لیکن اس مرتبہ ایسا نہ ہوا، ہو سکتا ہے کہ ٹیلی وژن چینلز نے ان کی دیکھا دیکھی ایسا کیا ہو، بہرحال انھیں ایسی کوئی ہدایات نہیں تھیں کہ سانحہ اے پی ایس پر پروگرام نہ کیے جائیں۔

ہاں اتنا ضرور ہوا کہ پاکستان کے ایک بڑے ٹیلی وژن چینل اے آر وائی نے شہدا کے والدین کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کا خوب بندوبست کیا۔ انہوں نے خبر چلائی کہ شہید بچوں کے والدین نے حکومت سے لاکھوں روپے اور مراعات حاصل کر لی ہیں۔

یہ خبر نشر ہوتے ہی والدین مشتعل ہو گئے۔ انہوں نے شدید غصے میں آ کر اے آر وائی پشاور کے دفتر کا گھیرائو کر لیا اور گھنٹوں احتجاج کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ چینل اس سانحہ اے پی ایس اور والدین کے حوالے سے مسلسل جعلی خبریں چلاتا ہے۔ مظاہرے میں شریک غمزدہ والدین کا کہنا تھا کہ ہم پہلے ہی اپنے پیاروں کی شہادت پر غمزدہ ہیں لیکن جھوٹی خبریں چلا کر اس میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔

ادھر دنیا نیوز نے بھی خبر لگائی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور پاک فوج کی جانب سے اب تک 1545 ملین روپے سے زائد رقم شہدا کے لواحقین اور متاثرین کی دادرسی کے لئے خرچ کی جا چکی ہے۔

یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ 16 دسمبر کو کسی بڑے ٹیلی وژن کے ٹاک شو پر سانحہ اے پی ایس کو ڈسکس ہی نہیں کیا گیا۔ ان میں کیپیٹل ٹاک (جیو نیوز)، کل تک (ایکسپریس)، آن دی فرنٹ (دنیا نیوز) اور آف دی ریکارڈ (اے آر وائی) نمایاں ہیں۔ ہاں البتہ جاوید چودھری نے سرسری سا ذکر کیا اور پھر موضوع ہی بدل دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے