زیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے واپس آنا ہے تو انہیں میں اپنی جیب سے ٹکٹ کی پیشکش کرتا ہوں، شریف فیملی کے 3 لوگ یہاں موجود ہیں، وہ بھی آجائیں۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ نواز شریف بیماری کا بہانہ کر کے بیرون ملک گئے، ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ صحت مند ہیں کیونکہ انہوں نے کسی ڈاکٹر کو نہیں دکھایا اور نہ ہی کہیں سےعلاج کرایا ہے، اب سننے میں آرہا ہے کہ وطن واپس آرہے ہیں، اگر نوازشریف نے واپس آنا ہے تو انہیں میں اپنی جیب سے ٹکٹ کی پیشکش کرتا ہوں، شریف فیملی کے 3 لوگ یہاں موجود ہیں، وہ بھی آجائیں، نوازشریف کے پاس اداروں کے خلاف باتیں کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔
مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز صادق کی جانب سے رواں ہفتے بیان دیا گیاکہ وہ 20جنوری کو لندن روانہ ہورہے ہیں اور میاں نواز شریف کو ساتھ ہی واپس لائیں گے۔ مسلم لیگ ن لیگ پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے بھی نواز شریف کی جلد واپسی کا دعویٰ کیاہے، اس بیان کے بعد بعض صحافیوں نے بھی سوشل میڈیا پر خبر دی کہ نواز شریف جلد وطن واپس آرہے ہیں۔ اس کے بعد وزیر اعظم عمران خان اور دیگر وزرا نے ردعمل دیا۔ تاہم یہ محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہوسکتی ہے کیونکہ ’ابھی ملکی حالات ایسے دکھائی نہیں دیتے کہ نواز شریف فوری واپس آئیں گے کیونکہ ابھی تک ان کے خلاف عدالتوں میں کیس بھی زیر سماعت ہیں اور برطانیہ میں ان کے ویزے کی مدت ختم ہونےکے خلاف اپیل کا بھی فیصلہ نہیں آیا۔ لہذا مسلم لیگ ن نے یہ خبریں اس لیے پھیلائی ہیں کہ انہیں بلدیاتی انتخابات اور ممکنہ آئندہ انتخابات سے قبل کارکنوں کی مکمل حمایت حاصل ہوسکے۔
مسلم لیگ (ن) اس واقعہ کو پاکستانی سیاست میں ایک بڑے دھماکے سے تعبیر کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کررہی ہے کہ ایک بار نواز شریف واپس آ گئے تو عمران خان کی حکومت کا خاتمہ نوشتہ دیوار ہوگا۔ دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے نمائیندے نواز شریف کو قصہ پارینہ قرار دیتے ہوئے واضح کر رہے ہیں کہ واپس آکر انہیں جیل جانا پڑے گا اور پاکستانی سیاست میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش کے حوالے سے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے نواز شریف کو پاکستانی سیاسی تاریخ کا ’سیاہ باب‘ قرار دیا اور کہا کہ عمران خان، جناح کے ویژن کے مطابق نیا پاکستان تعمیر کر رہے ہیں۔ کوئی خفیہ ڈیل انہیں اس مشن سے دور نہیں کرسکتی۔ وزیر داخلہ شیخ رشید جو خود کو جی ایچ کے گیٹ نمبر 4 کے ’ چوکیدار‘ کے طور پر پیش کرتے رہتے ہیں، کا دعویٰ ہے کہ اسٹبلشمنٹ اور حکومت کے درمیان کوئی غلط فہمی نہیں ہے اور عمران خان کی حکومت مستحکم ہے۔
نواز شریف کی عوامی مقبولیت اور تمام تر سرکاری کوششوں کے باوجود مسلم لیگ (ن) میں دراڑ ڈالنے میں ناکامی کی وجہ سے بھی انہیں پاکستانی سیاست میں ناقابل تردید اہمیت حاصل ہے لیکن ان کی لندن سے واپسی اور عدالتی سزائیں معاف کرنے کے حوالے سے دو روز پہلے وزیر اعظم عمران خان نے جس پریشان کن لہجے میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ بات کی، اس سے ملکی سیاست میں ڈائینامکس کی تبدیلی کی افواہوں کو تقویت ملی ہے۔ خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ناکامی کے بعد پارٹی لیڈروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے سوال کیا کہ نواز شریف کی سزا کیسے ختم کی جا سکتی ہے؟ اخباری اطلاعات کے مطابق اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ اضافہ بھی کیا کہ اگر نواز شریف جیسا بدعنوان شخص جیل نہیں جائے گا تو پھر جیلوں کے دروازے کھول دینے چاہئیں۔ آج معاون خصوصی شہباز گل نے بھی وزیر اعظم کے اس تاثر کو دہرایا کہ اگر نواز شریف کو جیل میں بند نہیں کیا جاسکتا تو پھر کسی کو بھی جیل میں نہیں ہونا چاہئے۔
سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی لندن سے واپسی کی خبریں اس وقت پاکستانی سیاست میں ارتعاش پیدا کئے ہوئے ہیں۔ ملکی سیاست چونکہ انتخاب سے زیادہ نامزدگیوں کے عمل سے گزرتی رہی ہے لہذا کسی بھی سیاسی وقوعہ کو پس پردہ معاہدے، افہام و تفہیم اور جوڑ توڑ سے منسلک کیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ باور کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کسی لیڈر کی گرفتاری، رہائی، سزا یا اپیل منظور ہونے کا عمل درحقیقت اس خفیہ ڈیل کا نتیجہ ہوتی ہے جو عسکری قیادت اور کسی سیاسی پارٹی کے درمیان طے پاتی ہے۔
نواز شریف کی ممکنہ واپسی کے حوالے سے بھی انہی قیاسات کی بنیاد پر مستقبل قریب میں ملکی سیاست کی تصویر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اس واقعہ کو پاکستانی سیاست میں ایک بڑے دھماکے سے تعبیر کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کررہی ہے کہ ایک بار نواز شریف واپس آ گئے تو عمران خان کی حکومت کا خاتمہ نوشتہ دیوار ہوگا۔ دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے نمائیندے نواز شریف کو قصہ پارینہ قرار دیتے ہوئے واضح کر رہے ہیں کہ واپس آکر انہیں جیل جانا پڑے گا اور پاکستانی سیاست میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش کے حوالے سے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے نواز شریف کو پاکستانی سیاسی تاریخ کا ’سیاہ باب‘ قرار دیا اور کہا کہ عمران خان، جناح کے ویژن کے مطابق نیا پاکستان تعمیر کر رہے ہیں۔ کوئی خفیہ ڈیل انہیں اس مشن سے دور نہیں کرسکتی۔ وزیر داخلہ شیخ رشید جو خود کو جی ایچ کے گیٹ نمبر 4 کے ’ چوکیدار‘ کے طور پر پیش کرتے رہتے ہیں، کا دعویٰ ہے کہ اسٹبلشمنٹ اور حکومت کے درمیان کوئی غلط فہمی نہیں ہے اور عمران خان کی حکومت مستحکم ہے۔
اس دوران وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے نواز شریف کی ممکنہ واپسی کو برطانیہ میں طبی بنیاد پر ان کی ویزا درخواست مسترد ہونے سے منسلک کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ درحقیقت اب برطانیہ نواز شریف کو ڈی پورٹ کرنے والا ہے لیکن مسلم لیگ (ن) ’ ہیرو کی واپسی ‘ کا تاثر پیدا کرنا چاہتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے تسلیم کیا ہے کہ نواز شریف کا میڈیکل ویزا مسترد ہونے کے خلاف امیگریشن ٹریبونل میں اپیل دائر کی گئی ہے تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ نواز شریف مکمل صحت یابی تک پاکستان واپس نہیں آئیں گے۔ مریم نواز نے بھی برطانیہ میں نواز شریف کے ویزا معاملے پر حکومتی ارکان کی بیان بازی کو حکومت کی بدحواسی سے تعبیر کیا اور کہا کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے پاؤں تلے سے زمین سرک رہی ہے جس کی وجہ سے وہ ویزا کے معاملہ پر سیاست کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم لندن میں امیگریشن کے معاملات سے واقف ماہرین کا کہنا ہے کہ امیگریشن ٹریبونل میں دائر درخواستوں کی تعداد کے پیش نظر نواز شریف کی اپیل پر ایک سال سے پہلے کسی فیصلہ کا امکان نہیں ہے۔ اس مدت میں انہیں بدستور برطانیہ میں رہنے کا قانونی حق حاصل ہے۔
یوں تو نواز شریف کی عوامی مقبولیت اور تمام تر سرکاری کوششوں کے باوجود مسلم لیگ (ن) میں دراڑ ڈالنے میں ناکامی کی وجہ سے بھی انہیں پاکستانی سیاست میں ناقابل تردید اہمیت حاصل ہے لیکن ان کی لندن سے واپسی اور عدالتی سزائیں معاف کرنے کے حوالے سے دو روز پہلے وزیر اعظم عمران خان نے جس پریشان کن لہجے میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ بات کی، اس سے ملکی سیاست میں ڈائینامکس کی تبدیلی کی افواہوں کو تقویت ملی ہے۔ خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ناکامی کے بعد پارٹی لیڈروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے سوال کیا کہ نواز شریف کی سزا کیسے ختم کی جا سکتی ہے؟ اخباری اطلاعات کے مطابق اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ اضافہ بھی کیا کہ اگر نواز شریف جیسا بدعنوان شخص جیل نہیں جائے گا تو پھر جیلوں کے دروازے کھول دینے چاہئیں۔ آج معاون خصوصی شہباز گل نے بھی وزیر اعظم کے اس تاثر کو دہرایا کہ اگر نواز شریف کو جیل میں بند نہیں کیا جاسکتا تو پھر کسی کو بھی جیل میں نہیں ہونا چاہئے۔
وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں کے اس طرز تکلم سے ملکی قانونی اور عدالتی نظام کے طریقہ کار پر تو کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن ان بیانات سے عمران خان کی سیاسی پریشانی ضرور عیاں ہوئی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم اپنی باتوں میں نواز شریف کو اہمیت نہ دینا چاہتے ہوں لیکن جب ملک کا وزیر اعظم کسی ’عدالتی مفرور‘ اور ملکی قانون کے شکنجے میں پھنسے ہوئے شخص کے بارے میں ایسی گفتگو کرے گا تو عام شہریوں کو یہی تاثر ملے گا کہ حکمران اس شخص کے سیاسی قد کاٹھ سے پریشان ہیں اور کسی بھی قیمت پر اسے سیاسی منظر نامہ سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ ملکی سیاست میں غیر منتخب اداروں کی مداخلت اور سازشوں کو بھی چونکہ تواتر سے بیان کیا جاتا رہتا ہے، اس لئے وزیر اعظم کی ایسی تشویش کے بعد یہ تاثر بھی قوی ہوتا ہے کہ شاید اصل طاقت ور حلقے درپردہ عمران خان کی بجائے نواز شریف کو واپس لانے کی تیاری کر رہے ہیں۔
حکومت کو ایک طرف معاشی مسائل، منی بجٹ منظور ہونے کے بعد مہنگائی اور ممکنہ عوامی ناراضی میں اضافہ، وزیروں کی ناقص کارکردگی کے سبب گورننس پر اٹھنے والے سوالا ت کا سامنا ہے تو دوسری طرف پارٹی میں اختلافات اور انتخابی ناکامی جیسی مشکلات درپیش ہیں۔ ان حالات میں 2022 کے دوران نواز شریف کی واپسی تحریک انصاف اور عمران خان کی پریشانیوں میں اضافہ کرے گی۔ یوں تو حکومت نواز شریف کو ہر قیمت پر پاکستان واپس لاکر جیل بھیجنے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن ان کی ممکنہ واپسی پر بے چینی اور تشویش کا اظہار حکومت کی بدحواسی کا پتہ بھی دیتا ہے۔
پیر، 27 دسمبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post نواز شریف کی واپسی سیاسی چال یا حقیقت appeared first on شفقنا اردو نیوز.
