English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جاپان اور آسٹریلیا نے دفاعی معاہدہ کیوں کیا ہے؟ شفقنا بین الاقوامی

القمر
بحرالکاہل خطہ میں جو دنیا کا نیا طاقتی مرکز ہے میں حالیہ برسوں میں چین اور مغربی اتحادیوں کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس خطی تصادم کا حالیہ اشارہ آسٹریلیا اور جاپان کے مابین دفاعی معاہدہ ہے اور یہ دونوں پیسفک ممالک چین مخالف رحجان رکھتے ہیں۔ چند روز قبل ہی سڈنی اور ٹوکیو نے ریسیروکل ایکسس ایگریمنٹ ( آر اے اے) پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت دونوں ممالک کے مابین عسکری شعبے میں تعاون میں اضافہ اور مشترکہ فوجی مشقیں آسان ہو جائیں گی، اس کے علاوہ آسٹریلیا اور جاپان قدرتی آفات کے خلاف بھی باہمی تعاون کر سکیں گے ۔
2020 سے اب تک دونوں ممالک نے سیاسی سمجھوتے کے تحت اپنے اپنے خودمختار علاقوں میں ایک دوسرے کے داخلے پر سے قانونی اور باضابطہ پابندیوں کا خاتمہ کیا ہے۔ جاپانی اور آسٹریلوی قیادتوں نے خطے میں مشترکہ مفادات کے حوالے سے اس معاہدے کو اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے بیجنگ کا نام لیے بغیر اس بات پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک مشترکہ تزویراتی چیلنجز کا سامنا کررہے ہیں اور دونوں ممالک اس پر خدشات کا شکار ہیں۔ جاپانی وزیر اعظم فومیو کیشیدا ے دفاعی معاہدے کو بڑی اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آسٹریلیا سے تعلقات دیگر ممالک سے سلامتی کے معاملات میں تعاون کے حوالے سے مثالی حیثیت کے طور پر دیکھے جائیں گے۔
سکاٹ موریسن کی جانب سے جمہوریت اور انسانی حقوق کا تذکرہ اور نئے معاہدے کا مقصد آزاد، کھلے اور لچکدار انڈو پیسفک خطے کی تخلیق درحقیقت بیجنگ کی کمیونسٹ جماعت کے یک جماعتی اقتدار کے لیے ایک پوشیدہ پیغام ہے۔دوسری جانب چین کی طرف سے اس دفاعی معاہدے پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ تائیوان پر چین کے دعوے کے حق میں اپنے عزمِ مصمم کا اظہار کرتے آئے ہیں۔ چین کے دفاعی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن بدھ کو کہا ہے کہ بحرالکاہل اس قدر وسیعہے کہ وہ خطے کے ممالک کی مشترکہ ترقی کے لیے کافی ہو۔
ایسے میں جب چین پوری دنیا میں توسیع پسند پالیسی کو آگے لے کر چل رہا ہے تاہم اس توسیع پسندی کی بنیاد امریکہ اور چین کے برعکس فوجی قبضے یا تصادم پر نہیں ہے یہ مکمل طور سافٹ پاور اپروچ پر ہے جس میں بہت سارے قابل قبول حل بھی موجودہیں ۔ وین بن کا کہنا تھا کہ ریاستی سطح پر تعاون اور تبادلے باہمی سمجھوتے اور اعتماد کے لیے سازگار فضا ہونا ضروری ہے تاکہ خطے کے امن اور قیام کو کوئی خطرہ نہ ہو اور نہ ہی اس سے کسی تیسرے فریق کو کوئی خطرہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم امیدکرتے ہیں کہ بحرالکاہل امن کاسمند ہوگا نہ کہ طغیانی کا۔

پیسفک کا تذویراتی ابھار

روم سے ہیبسبرگس اور سلطنت عثمانیہ تک کئی صدیوں تک بحیرہ روم سیاسی اور معاشی حاکمیت کے لیے مرکزی نکتہ تھا ۔20ویں صدی میں امریکی حاکمیت اور نیٹو کے اتحاد کے ساتھ ہی بحیرہ اوقیانوس نے بہت زیادہ اہمیت اختیار کر لی  اور پھر 21ویں صدی میں مغربی اتحاد کے خلاف چین کے ابھرنے سے ایشیا پیسفک طاقت اور اختیار کا مرکزی مقام بن گیا۔حالیہ برسوں میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے چین کو پیسفک میں محدود کرنے کے لیے سخت محنت کی ہے۔ ستمبر میں ایک اور مغربی اتحاد اوکس کے نام سے وجودمیں آیا جو درحقیقت سہ ملکی معاہدہ تھا اور امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کےمابین طے پایا جس کا مقصد آسٹریلیا کو ایٹمی آبدوزوں کی فراہمی تھی تاکہ چین کا رستہ روکا جاسکے۔
نتیجتََا آسٹریلیا اور جاپان کے مابین حالیہ معاہدہ پیسفک میں چین مخالف مغربی اتحاد کا نیا نمونہ ہے ۔ یہ کواڈ کو بھی مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے۔ کواڈ امریکہ ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کا اتحاد ہے جس کا مقصد بھی وہی ہے یعنی پیسفک خطے میں چین کا رستہ روکنا ہے۔ عالمی قوت کے طور پر چین کے ابھرنے کے ساتھ ساتھ پیسفک ریجن کی اہمیت کی ابھرنے اور بھی وجوہات ہیں۔ جیسا کہ چین، جاپان اور امریکہ پیسفک ساحل رکھتے ہیں اور یہ تینوں ممالک دنیا سب سے بڑی معیشیں ہیں۔ دنیا کی نمو کا دوتہائی درحقیقت انڈوپیسفک ریجن کا ہی مرہون منت ہے جو کہ دنیا کی آبادی کا 60 فیصد بناتے ہیں۔

جاپان کے غیرفوجی سٹیٹس کا کیا ہوا؟

آسٹریلیا جاپان معاہدہ جاپان کے غیر فوجی سٹیٹس کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ جاپان کے آئین کی دفعہ 9 ملک کو فوج چلانے کا اختیار نہیں دیتی۔ جاپان کے وزیر اعظم شنزو اَیبے نے آئین کی دفعہ 9 میں اس ترمیم پر زور دیاتھاجس کے ساتھ جاپان کی فوج کو جو ملکی دفاع کی فوج یعنی ”سیلف ڈیفنس“ فوج کہلاتی ہے بیرون ملک بھیجنے اور ایسی صورت میں بھی جب بیرون ملک کسی تنازع سے جاپان پر براہ راست حملے کاکوئی امکان نہ ہو بیرون ملک بھیجنے کا اختیار دیاگیاہے۔  جاپان کے معروف اور کثیرالاشاعت اخبار اساہی شمبھون نے یہ خبر دیتے ہوئے لکھاہے کہ پارلیمنٹ سے منظور کرائے گئے نئے قانون کے تحت جاپان کی سیلف ڈیفنس فورسز کو دنیا میں کسی بھی جگہ امریکہ اور دیگر ممالک کو بھرپور مدد فراہم کرنے کاپابند بنایاگیا ہے۔ یہ قانون منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کے موقع گزشتہ سال ستمبر میں بھی جاپانی عوام نے سڑکوں پر نکل کر اس قانون کے خلاف زبردست مظاہرہ کیاتھا اور جاپانی پارلیمنٹ کو گھیر لیاتھا۔
اتوار، 9 جنوری 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post جاپان اور آسٹریلیا نے دفاعی معاہدہ کیوں کیا ہے؟ شفقنا بین الاقوامی appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے