English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سعودی عرب:جازان فیسٹیول میں نیم عریاں رقص پر عوام کی ناگواری ,حکام طرفداری پر بضد

سعودی صوبے جازان  میں نیم عریاں رقص پر مقامی افراد نے اسے مذہبی و سماجی ریاوات کے خلاف قرار دیا جبکہ انتظامیہ نے کہا کہ یہ رقص کی ویڈیو مذہبی و سماجی روایات کے خلاف نہیں .

تاہم بعد ازاں سعودی عرب کے صوبہ جازان میں غیر ملکی مرد و خواتین کی مختصر لباس میں برازیل کے روایتی رقص ’سامبا‘ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔

خبر رساں ادارے  اے ایف پی  کے مطابق سعودی عرب میں جاری ’جازان فیسٹیول 2022‘ کے دوران بنائی گئی ایک ڈانس ویڈیو سوشل میڈیا پر آنے کے بعد لوگوں نے سخت ناگواری کا اظہار کیا ہے۔

وائرل ہونے والی ویڈیو میں رقاصہ نیم عریاں لباس میں دکھائی دیتی ہے جس نے روایتی برازیلی سامبا ڈانسرز کی طرح لباس پہن رکھا ہے۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سعودی عرب کے مقامی لوگوں نے انتظامیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے جازان کی گلیوں میں غیرملکی افراد کے نیم عریاں لباس کے رقص کو مذہبی و سماجی روایات کے خلاف قرار دیا۔

انتظامیہ نے غیرملکی افراد کی وائرل ہونے والی رقص کی ویڈیو کی طرف داری کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ ویڈیو مذہبی اور سماجی روایات کے خلاف نہیں۔

حکام کے مطابق مذکورہ ویڈیو تفریحی میلے کا ایک حصہ تھی اور تفریحی ویڈیو کو غلط رنگ نہ دیا جائے، تاہم لوگوں کی جانب سے سخت تنقید کے بعد گورنر جازان نے معاملے کی تحقیق کا حکم دے دیا۔

مذکورہ ویڈیو کو سعودی عرب کے سوشل میڈیا پر شیئر کرکے جازان حکام اور فیسٹیول کے عہدیداروں پر سخت تنقید کی گئی اور لکھا گیاکہ سعودی عرب میں بھلے خواتین کو آزادی مل چکی ہے، اسکے باوجود تاحال مقامی خواتین اس طرح کا لباس نہیں پہنتیں کہ اسے عمومی لباس قراردیا جاسکے۔

سعودی عرب کے سوشل میڈیا صارفین نے جازان کی گلیوں میں غیر ملکی افراد کے ’سامبا‘ ڈانس کی ویڈیو کو ملکی روایات سمیت مذہبی اقدار کے خلاف قرار دیا، جس کے بعد ہی انتظامیہ نے تحقیقات کا حکم دیا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں گزشتہ چند سال سے جہاں خواتین کو نمایاں آزادیاں دی گئی ہیں، وہیں تفریح کے نام پہ موسیقی، شوبز، فیشن اور آرٹ فیسٹیولز کا بھی انعقاد ہونے لگا ہے۔

سعودی عرب میں اب خواتین غیر محرم مرد حضرات کے ساتھ کام کرنے سمیت اپنے کسی مرد اہل خانہ کی سرپرستی اور اجازت کے بغیر بیرون ممالک سفر بھی کر سکتی ہیں۔

سعودی عرب میں گزشتہ چند سال سے فیشن، شوبز، موسیقی اور تفریحی شعبوں میں نمایاں سرگرمیاں ہو رہی ہیں، جن میں بڑی تعداد میں غیر ملکی افراد بھی شرکت کرتے ہیں۔

مقامی افراد اس بدلتے حالات کو بے حیائی اور فحاشی کے فروغ سے تعبیر کرتے ہیں اور صورتحال کو تشویش ناک سمجھا جارہا ہے .

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے