سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کے معاملات طے نہیں پائے، وہ ابھی پاکستان واپس نہیں آئیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ مجھ سے ملاقات میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جو حکومت بنے گی کیا اسے آزادی کیساتھ کام کرنے کی اجازت دی جائے گی؟ اس لئے لیگی قائد کی باتوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی جب انڈرسٹینڈنگ ہوگی تب ہی وہ پاکستان واپس آئیں گے۔
نواز شریف بار بار اگلی حکومت کے اختیارات کی بات کررہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ ان کی اس معاملے پر انڈراسٹینڈنگ ابھی نہیں ہوئی اس سے پہلے کے معاملات طے ہوچکے ہیں ، سہیل وڑائچ
@suhailswarraich
@pmln_org
#NawazSharif pic.twitter.com/m5Y4kO5iPL— Cʜ 𝐀ᴅɴᴀɴ 𝐒ᴀʀᴡᴀʀ 𝐒ɪᴀʟᴠɪ (@AdnanSialvi) January 17, 2022
سہیل وڑائچ نے کہا کہ کچھ لوگ سمجھتے تھے کہ نواز شریف جلد وطن واپسی کریں گے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہوگا کیونکہ میری ان کیساتھ جو بات چیت ہوئی اس میں انہوں نے کورونا وائرس کے پھیلائو کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ عالمی وبا تھمنے کے بعد ابھی انہوں نے اپنا آپریشن بھی کروانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی باتوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر وہ کورونا وائرس کی وبا تھمنے کا انتظار کر رہے ہیں اور ابھی انہوں نے آپریشن بھی کروانا ہے تو ان کا آئندہ دو سے تین ماہ تک پاکستان واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
نواز شریف پہلے تحریک عدم اعتماد اور پھر عام انتخابات کی بات کرتے ہیں ، سہیل وڑائچ
@suhailswarraich
@pmln_org pic.twitter.com/d8iAvCFw7A— Cʜ 𝐀ᴅɴᴀɴ 𝐒ᴀʀᴡᴀʀ 𝐒ɪᴀʟᴠɪ (@AdnanSialvi) January 17, 2022
24 نیوز چینل کے پروگرام نسیم زہرہ @ 8 میں گفتگو کرتے ہوئے سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ میرے ساتھ ملاقات میں نواز شریف نے اپنی نااہلی کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ تاہم بطور سیاستدان ان کے ذہن میں یہ بات ہوگی کہ وہ پاکستانی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے۔ وہ یہی چاہتے ہیں کہ اس کا کوئی راستہ نکالا جائے۔ وہ ابھی اس راستے کی تلاش میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جبکہ اس کے بعد عام انتخابات کا ذکر کرتے ہیں لیکن اس کے آگے ان کے ذہن میں سوالات ہیں کہ ان کی حکومت کو کتنا اختیار ملے گا۔
