ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے روس۔ یوکرائن کشیدگی پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ہم، بحیثیت ایک بحیرہ اسود ملک کے، علاقے میں امن و امان کی فضاء کی خاطر تمام فریقین کو اعتدال اور ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کرنے کی دعوت دیتے ہیں”۔
یوکرائن روانگی سے قبل انقرہ ایسن بوعا ائیر پورٹ پر منعقدہ پریس کانفرنس میں صدر ایردوان نے روس۔ یوکرائن بحران کے بارے میں بات کی۔
انہوں نے کہا ہے کہ ” ہم حالات پر بغور نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور ہر پلیٹ فورم سے یوکرائن کی زمینی سالمیت اور خودمختاری کے ساتھ تعاون کا اظہار کر رہے ہیں۔ بحیثیت ایک بحیرہ اسود ملک کے ہم تمام فریقین کو اعتدال اور ڈائیلاگ کی دعوت دیتے ہیں”۔
صدر ایردوان نے اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ کے متوقع دورہ ترکی کے بارے میں کہا ہے کہ اسحاق ہرزوگ مارچ کے وسط میں ترکی کا دورہ کریں گے۔
یونان کی طرف سے واپس دھکیلے گئے 12 نقل مکانوں کی ہلاکت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ” باقی سب ایک طرف چھوڑیں، کیا 12 انسانوں کے ٹھٹھر کر مرنے کا تماشا دیکھنے کو ہضم کیا جا سکتا ہے؟
یورپی کونسل کے عثمان کاوالا فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا ہے "ہمیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ یورپی انسانی حقوق عدالت ECHR نے کیا کہا ہے یا یورپی کونسل نے کیا کہا ہے ہم اپنی عدالتوں کے احترام کے منتظر ہیں”۔
صدر ایردوان یوکرائن کے دارالحکومت کیو میں اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک کونسل میں یوکرائن کے صدر ولادی میر زلنسکی کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں باہمی تعاون کے معاملے میں نئے اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے۔
دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانے کے لئے آزاد تجارتی سمجھوتے پر بھی دستخط متوقع ہیں۔
ملاقات کا مرکزی موضوع روس۔ یوکرائن تناو ہو گا۔ صدر ایردوان اور صدر زلنسکی ماسکو۔ کیو لائن پر حرارت میں کمی کے لئے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیں گے۔ صدر ایردوان زلنسکی کو علاقائی امن و امان کے تحفظ کے لئے تناو میں کمی اور جنگ کی روک تھام کا مشورہ دیں گے۔
صدر رجب طیب ایردوان زمانہ قریب میں بحران کے دوسرے فریق یعنی روس کے صدر ولادی میر پوتن کی بھی ترکی میں میزبانی کریں گے اور انہیں بھی ایسا ہی مشورہ دیں گے۔
