کراچی: عدالت نے افیون پتھروں اور چرس مٹی میں تبدیل کرنے کے الزام میں سٹی کورٹ مال خانہ کے انچارج کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی ماڈل کورٹ نے ایس ایس پی انویسٹیگیشن (ون) کو مال خانہ پولیس کانسٹیبل عجب خان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کا دیا۔
ملزم خالد کے خلاف دوران سماعت انکشاف ہوا کہ مال خانے میں جمع کرائی گئی 38 کلو گرام افیون پتھروں جبکہ 22 کلو چرس مٹی میں تبدیل کردی گئی۔
عدالت نے مال خانہ انچارج کانسٹیبل عجب خان سے استفسار کیا کہ کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی اور آپ کے خلاف ایڈیشنل آئی جی کراچی کو مس کنڈکٹ کی کارروائی کا حکم دیا جائے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ مال خانہ انچارج کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے ملزم کو فائدہ پہنچے گا، بطور سرکاری ملازم آپ نے رشوت وصول کی ہے۔
کیس کے تفتیشی افسر آصف علی نے کیس پراپرٹی مال خانے میں جمع کرائی تھی۔
عدالت نے 11 فروری کو کیس پراپرٹی پیش کرنے کا حکم دیا تھا، کیس پراپرٹی جب عدالت میں کھولی گئی تو ایک بیگ میں منشیات کی جگہ پتھراور دوسرے میں مٹی پائی گئی۔
پولیس کے مطابق ملزم خالد کو 4 فروری 2021 کو موسمیات پی سی ایس آئی آر لیبارٹری کے قریب سے گرفتار کیا تھا۔ ملزم کا ایک ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا اور ملزمان کی تلاشی لی گئی تو ایک بیگ میں 38 کلو افیون اور دوسرے بیگ سے 22 کلو چرس برآمد ہوئی تھی۔
