English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حجاب کیلیے عدالت جانے والے نشانے پر، حجابی طالبہ کے بھائی پر 150 آرایس ایس غنڈوں کا دھاوا

القمر

حجاب تنازع کی درخواست گزار طالبہ کے اہل خانہ پر ڈیڑھ سو غنڈوں نے دھاوا بول دیا

حجاب پر پابندی کے خلاف درخواست دائر کرنے والی طالبہ ہاجرہ شفا کا کہنا  ہے کہ پیر کے روز ان کے بھائی پر آر ایس ایس کے غنڈوں نے حملہ کیا، انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ حجاب کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہیں. ہاجرہ  نے حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

ہاجرہ نے کہا کہ “میرے بھائی پر ہجوم نے صرف اس لیے بے رحمی سے حملہ کیا کہ میں اپنے حجاب کے لیے لڑ رہی ہوں، جو میرا حق ہے۔ ہماری املاک کو بھی برباد کیا گیا، کیوں؟ کیا میں اپنا حق نہیں مانگ سکتی؟ ان کا اگلا شکار کون ہوگا؟ میرا مطالبہ ہے کہ سنگھ پریوار کے غنڈوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔‘‘

مقامی مسلم ایکٹیوسٹ مسعود منا نے بھی اوڈوپی پولیس سے مجرموں کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “سیف (ہاجرہ کے بھائی) پر اُڈوپی میں سنگھ پریوار کے 150 غنڈوں کے ہجوم نے حملہ کیا تھا۔ اسے اس لئے نشانہ بنایا گیا کیوںکہ اس کی بہن ہاجرہ شفا اپنے حقوق، اپنے حجاب کے لیے لڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف میری بلکہ میرے اہل خانہ کی جان بھی خطرے میں ہے۔ ملزمان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ نوجوان سیف اڈوپی کے اسپتال میں داخل ہے۔ کرناٹک کے ڈی جی اور اڈوپی پولیس کو ٹیگ کرتے ہوئے انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ “حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔” ایک اور درخواست گزار اے ایچ الماس نے کہا کہ ہاجرہ شفا کے بھائی سیف پر بھیڑ نے وحشیانہ حملہ کیا اور املاک کو بھی تباہ کر دیا گیا، صرف اس لیے کہ وہ ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہے اور اپنا حق مانگ رہی ہے؟ ان کا اگلا شکار کون ہوگا؟ میں سنگھ پریوار کے غنڈوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہوں۔

واضح رہے کہ کرناٹک عدالت میں تاحال حکومتی وکیل کے دلائل جاری ہیں جبکہ یہ معاملہ سڑکوں پر گھمبیر صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے .

The post حجاب کیلیے عدالت جانے والے نشانے پر، حجابی طالبہ کے بھائی پر 150 آرایس ایس غنڈوں کا دھاوا appeared first on Daily Jasarat News.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے