خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور کے تاریخی قصہ خوانی بازار کی ایک مسجد میں ہونے والے بم دھماکے میں 30 شہید جبکہ کم از کم 50 نمازی زخمی ہو گئے ہیں۔
دہشتگردی کے واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے موقع پر پہنچ کر تمام علاقے کو سیل کر دیا ہے۔ امدادی ٹیموں کی جانب سے زخمیوں کو ایمبیولینسوں کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ اب تک کم از کم 100 زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا جن میں سے 30 کی شہادت ہو چکی ہے۔ زخمیوں میں سے متعدد کی حالت نازک ہے۔
پولیس کے مطابق دھماکا کوچہ رسالدار کے علاقے میں قائم جامع مسجد میں ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکا نمازِ جمعہ کے دوران ہوا۔ دھماکے کے وقت جامع مسجد میں نمازیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے سے قبل نامعلوم افراد کی جانب سے علاقے میں اندھا دھند فائرنگ بھی کی گئی۔
Saddened to learn of the passing of Rodney Marsh who was Australia’s legendary wicket keeper. During my cricketing career I remember him being not just a great cricketer but one who was respected by both his own team and his opponents.
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) March 4, 2022
وزیراعظم عمران خان نے دہشتگردی واقعہ کی شدید الفاظمیں مذمت کرتے ہوئے ہدایات جاری کی ہیںزخمیوں کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے. انہوں نے بم دھماکے میں شہید ہونے والے نمازیوں کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی اور کہا کہ ہم دکھ کی اس گھڑی میں غم زدہ خاندانوںکیساتھ ہیں. پاکستان کی افواج دہشتگردی کا ناسور ملک سے ختم کرکے دم لیںگی.
