اسلام آباد (صباح نیوز/ اے پی پی) پاکستان نے او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لیے کشمیری قیادت کو دعوت دینے پر بھارتی اعتراض مسترد کردیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اس حوالے سے کہا ہے کہ بھارت کے پاس جموں و کشمیر کے متنازع علاقے کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دینے کا کوئی جواز نہیں ہے‘ جموں و کشمیر کا حتمی فیصلہ عوام کی مرضی کے مطابق کیا جائے گا اور اقوام متحدہ کی سرپرستی میں غیر جانبدارانہ رائے شماری کرائی جائے گی۔ ترجمان نے کہا کہ روایتی طور پر کشمیری قیادت کو او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے‘بھارت کشمیری عوام کو ان کا حق خودارادیت استعمال کرنے دے۔ علاوہ ازیں ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان کسی پاور پالیٹکس کا حصہ نہیں بنے گا‘ سپر سانک میزائل لانچ کے حوالے سے بھارتی موقف غیر ذمے دارانہ اور بھارتی دفاعی و تکنیکی نظام پر سوالیہ نشان ہے‘بھارت علاقائی سلامتی اور امن کے خلاف کوششوں سے باز رہے۔جمعے کو ہفتہ وار بریفنگ میں اظہار خیال کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان امت کے اجتماعی مفادات کو فروغ دینے اور مسلمانوں کو درپیش بے شمار چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پوری اسلامی دنیا میں شراکت داری اور تعاون کا پل قائم کرنے کا خواہاں ہے۔ ترجمان نے کہا کہ9 مارچ کو بھارتی سپر سانک میزائل نے جہاں ملکی و بین الاقوامی پروازوں کو خطرے سے دوچار کیا وہاں بے شمار انسانی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا گیا۔ ترجمان نے اس سلسلے بھارتی وزارت دفاع کے جواب کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور واقعے کی مشترکہ تحقیقات کے حوالے سے پاکستان کے مطالبے کا اعادہ کیا۔
