اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میری جان کو خطرہ ہے لیکن میں خاموش نہیں بیٹھوں گا، باہر سے بیٹھ کر حکومت گرانے کی کوشش ہو رہی ہے تو تھریٹ اور کیا ہو سکتی ہے، یہ قومی سلامتی کا ایشو ہے، مراسلے میں حکومت کا نہیں عمران خان کا نام ہے، مراسلے میں کہا گیا روس جانے کا فیصلہ عمران خان کا تنہا تھا۔نجی ٹی وی اے آروائی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوںنے بتایاکہ اسٹیبلشمنٹ نے 3آپشنز دیے ہیں، عدم اعتماد، استعفا یا نئے الیکشن کرائیں، الیکشن ہی بہترین طریقہ ہے، استعفے کا توسوچ بھی نہیں سکتا، عدم اعتماد پر تو کہوں گا میں تو مقابلے والا ہوں، آخری بال تک لڑوں گا،عثمان بزدار کو ہٹانا سیاسی سمجھوتا تھا، کل اتوار کو بڑا سپرائز دوں گا۔وزیراعظمنے کہا تحریک عدم اعتماد میں ناکام ہوتا ہوں تو الیکشن ہوں گے، اور پھر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، یہ ملک کیسے چلائیں گے، کبھی ایسے بھی ملک چلا ہے کہ بندر بانٹ ہو، شہباز شریف سے بات کر سکتا ہوں نہ کروں گا، شہباز شریف وزیر اعظم بننا چاہتا ہے، 8 ارب روپے کا کیس چل رہا ہے، اس قسم کے فراڈ کے ساتھ میں بات کیسے کروں گا۔عمران خان نے کہا کہ اتوار کے دن قوم کو ان لوگوں کی شکلیں دکھانا چاہتا ہوں، سیاست میں ان چوروں کے پیچھے احتساب کے لیے ہی آیا تھا، انہیں سازش اور ڈیل کی وجہ سے بچایا گیا، احتساب کے عمل کو خراب کر کے ملک سے بڑی غداری کی گئی، ان کے کیسز کا کیا ہوا، سب پتا ہے، ہم بے بس تھے، عوام چاہتے ہیں کہ ملک ٹھیک کریں تو ہمیں نئے الیکشن کی صورت میں بھاری اکثریت دیں، اگر ملک دوبارہ الیکشن کی طر ف جاتا ہے تو اکثریت کے ساتھ آؤں تاکہ گند صاف ہو، حالات تب تک تبدیل نہیں ہوں گے جب تک قوم خود بدلنا نہ چاہے، ہم عظیم قوم بننا چاہتے ہیں تو خودداری کے راستے پر چلنا ہوگا۔وزیراعظم نے کہا مجھے اگست سے اندازہ ہو گیا تھا کہ میرے خلاف سازش ہو رہی ہے، ایجنسی کی رپورٹ تھی لوگ یہاں سے لندن جاتے اور آتے تھے، نواز شریف لندن میں بیٹھ کر لوگوں کو مل رہا تھا، حسین حقانی جیسے لوگ نواز شریف سے ملاقاتیں کر رہے تھے، 7 تاریخ ہمیں مراسلہ ملا اور نواز شریف کی آخری ملاقات 3 تاریخ کو ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے دشمن پاکستان کے 3 ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں، عراق، شام کی صورت حال دیکھ لیں، ہم فوج کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں، نواز شریف کی بیٹی نے کھل کر فوج پر تنقید کی، میں کبھی فوج کے خلاف بات نہیں کروں گا، نواز شریف کے ساتھ وہ بھی رابطے میں تھے جو پاک فوج کے خلاف ہیں۔ عمران خان کے بقول یہ لوگ مجھ سے این آراو ٹو مانگ رہے تھے، ان کی کوشش ہے اقتدار میں آئیں، ایسا ہوا تو یہ سب سے پہلے نیب کو ختم کریں گے، مشرف نے اپنی حکومت بچانے کے لیے این آر او دیا تھا، مشرف کی بڑی غداری مارشل لا نہیں این آر او تھا۔وزیراعظم نے بتایا کہ باہر کے ملک کو پہلے سے ہی عدم اعتماد کا پتہ تھا، اس کا مطلب ہے کہ 5،6 ماہ سے پلاننگ ہو رہی تھی، کون سا ملک کہتا ہے کہ عدم اعتماد میں آپ کا وزیر اعظم ناکام ہوا تو تعلقات رکھیں گے،رجیم چینج کی دھمکی دی جا رہی ہے، اس سے زیادہ بڑی بات کیا ہو سکتی ہے، ملک کے لیے اس سے بڑی دھمکی اور کیا ہو سکتی ہے، خوف آتا ہے کہ ہم اس سطح پر آ گئے ہیں کہ دھمکیاں مل رہی ہیں، یہ سازشی میری کردار کشی کریں گے، ابھی سے بتا رہا ہوں، خاتون اول گھر سے نہیں نکلتیں ان کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے، کردار کشی کی الگ مہم تیار کی گئی ہے، خاتون اول، اور ان کی دوست فرح کی کردار کشی کی جائے گی، کردار کشی کے لیے باہر سے پیسہ دیا گیا، 3 ماہ پہلے ایک اینکر ملنے آیا کہاآپ کو پتا ہمیں کردار کشی کے لیے پیسے آفر کیے گئے ہیں، اینکرز کو پیسے کی آفرز دی جاتی ہے اور اچانک ولن بنا دیا جاتا ہے، یہ میڈیا ٹیکٹس ہیں، اخباروں کو پیسے اور میڈیا میں پیسا چلایا جاتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہمیں آخری بال تک لڑنا ہے، سب کو دعوت دی کہ وہ بیرونی سازش دیکھ لیں، شہباز شریف کو بھی دعوت دی وہ میٹنگ میں آئے ہی نہیں، شہباز شریف نے اس لیے بائیکاٹ کیا کیوں کہ وہ سازش کا حصہ ہیں، یہ قوم کے غدار ہیں، قوم ان لوگوں کے چہرے دیکھ لے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی ہونی چاہیے، ذوالفقار بھٹو نے او آئی سی کا اجلاس کرایا،انہیں کیسے مروایا گیا، یہ ہی پارٹیاں اس وقت بھی بھٹو کے خلاف سازش کا حصہ تھیں، یہ ہی فضل الرحمن، نواز شریف کی پارٹی سازش کا حصہ تھی، باہر کے لوگوں کو یہاں کے میر صادق اور میر جعفر کی ضرورت ہوتی ہے،ماضی میں ایک فون کال پر ساری باتیں منوا لی جاتی تھیں، پہلی مرتبہ ایسا شخص آیا جو آزاد خارجہ پالیسی لے کر چل رہا ہے۔وزیر اعظم نے بتایاکہ میرے پاس ساری رپورٹس ہیں، کون کس سفارت خانے میں جاتا تھا، کون سے سیاست دان، اینکر اور صحافی کس سفارت خانے میں جاتے تھے سب پتا ہے، دوسرے ملک میں کوئی سیاست دان دوسرے ملک کے لوگوں سے مل کر دکھائیں، مریم نواز نے زندگی میں ایک گھنٹہ کام نہیں کیا انہیں خارجہ پالیسی کا کیا پتا، مریم نواز سے غیر ملکی سفارت خانے کے لوگ کیوں ملتے تھے۔عمران خان نے یہ بھی کہا کہ میں کون سا پیسہ بنا رہا تھا جو کہوں کہ مجھے فوج سے خطرہ ہے، یہ لوگ کرپشن کرتے تھے اس لیے انہیں فوج کا خطرہ ہوتا تھا، میں نواز شریف کی طرح مودی سے چھپ چھپ کر نہیں ملتا تھا، حسین حقانی کے ذریعے امریکیوں کو مراسلے نہیں بھیجتا تھا۔انہوں نے مزید بھی کہاکہ جنرل فیض کو نومبر تک افغانستان کی وجہ سے رکھنے کی بات کر رہا تھا، آرمی چیف کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی بات ن لیگ کی ڈس انفارمیشن مہم تھی، میں تو چاہوں گا پاکستان کی فوج مزید مضبوط ہو تاکہ پاکستان کے دشمن قریب نہ آئیں، کبھی فوج کے خلاف بات نہیں کروں گا،کوئی ایسا کام نہیں کروں گا جس سے پاکستان کمزور ہو۔
