اسلام آباد (آن لائن / صباح نیوز) حکومت گرانے کی مبینہ عالمی سازش کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کی درخواست رجسٹرار عدالت عظمیٰ نے اعتراضات لگا کر واپس کردی۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ آرٹیکل69 کے تحت پارلیمانی کارروائی چیلنج نہیں ہو سکتی۔ رجسٹرار آفس نے کمیشن بنانے کی درخواست پر6 اعتراضات عاید کیے ہیں۔ رجسٹرار آفس کا کہنا ہے کہ درخواست میں مفروضوں پر مبنی متضاد باتیںکی گئی ہیں‘ درخواست گزار نے پہلے سے موجود کسی مناسب فورم پر رجوع نہیں کیا ہے‘ نوٹس قانون کے مطابق نہیں‘ نہ یہ بتایا گیا کہ کس مقصد کے لیے درخواست دائر کی گئی ہے‘ آئین کے آرٹیکل 184/3کے تحت سماعت کے لیے مندرجات اطمینان بخش نہیں ہیں‘درخواست گزار نہیں بتاسکا کہ کون سے سوالات عوامی مفاد میں ہیں اور کون سا بنیادی حق مجروح ہوا ہے۔ درخواست اعتراضات لگا کر واپس کیے جانے کے بعد درخواست میں فریق اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ رجسٹرار عدالت عظمیٰ کے اعتراض پر اپیل دائر کر رہے ہیں ۔قبل ازیں عدالت عظمیٰ میں دھمکی آمیز خط کی تحقیقات تک تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ روکنے کے لیے متعدد درخواستیں دائر کردی گئی ہیں جن میں عدالتی کمیشن بنا کر میموگیٹ کی طرز پر خط کی تحقیقات کروانے کی استدعا کی گئی ہے۔ عدالت عظمیٰ میں ایک درخواست سابق اٹارنی جنرل انور منصور اور ایڈووکیٹ اظہر صدیق کے توسط سے نعیم الحسن ایڈووکیٹ نے دائر کی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ایک بین الاقوامی سازش ہے لہٰذا تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے‘وزیر اعظم کے خلاف سازش کرنے والے غداری کے زمرے میں آتے ہیں‘ لندن میں نواز شریف سے خفیہ ملاقاتیں ہوئیں جہاں سازش تیار کی گئی۔ درخواست گزار نعیم الحسن ایڈووکیٹ نے تحریک عدم اعتماد کی کارروائی روکنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ میموگیٹ طرز پر تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے۔ درخواست میں وفاقی حکومت، وزیراعظم آفس، وزارت خارجہ، وزارت داخلہ، وزارت قانون اور وزارت دفاع کو فریق بنایا گیا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی، الیکشن کمیشن، ایف آئی اے، پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور ایم کیو ایم بھی درخواست میں فریق ہیں۔دوسری درخواست خاتون درخواست گزار عذرا درانی نے دائر کی ہے جس میں تحریک عدم اعتماد کو بیرونی سازش قرار دیتے ہوئے عدالت سے تحریک عدم اعتماد کو روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔اس سے قبل ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ نے عدالت عظمیٰ سے تحقیقات کے لیے درخواست دائر کی تھی جسے سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا ہے۔
