امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ بوچا میں عام شہریوں کا بہیمانہ قتل، لاشیں ایک اجتماعی قبر میں ڈالنا، ظلم و بربریت اور انسانیت سوز مناظر بلا شبہ دنیا کے مشاہدے کے لیے چھوڑ دیے گئے ہیں۔
لیبر یونین کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ عام شہریوں کا بیہیمانہ قتل، لاشیں ایک اجتماعی قبر میں ڈالنا، ظلم و بربریت اور انسانیت سوز مناظر ،معذرت کے کسی اظہار کے بغیر دنیا کے مشاہدے کے لیے چھوڑ دیے گئے۔
صدر بائیڈن نے کہا کہ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ جنگی جرائم سے کم نہیں ،ذمہ دارانہ رویہ رکھنے والے ممالک کومل کر اس کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے تک لانا چاہئیے۔
امریکی صدر نے یہ الفاظ ایسے وقت میں کہے ہیں جب بوچا کی سڑکوں پر اور اجتماعی قبر میں پڑی لاشوں کی تصاویر منظرِ عام پر آنے کے بعد دنیا بھر میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے۔
بائیڈن نے کہا ہے کہ روس پہلے ہی اپنی ابتدائی لڑائی میں ناکام ہوچکا ہے، اور ان کی فوج یوکرین کے دارالحکومت کیف سے واپس جا رہی ہے۔ تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
انھوں نے کہا کہ لڑائی ایک طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے تاہم، بائیڈن نےاس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ اپنی آزادی کے لیے لڑنے والے یوکرینیوں کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم روس کو اس قابل نہیں چھوڑیں گے کہ وہ کئی سالوں تک سر اٹھا سکے۔
