English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے بعد چین کے دیگر شہروں میں بھی پابندیاں عائد

القمر

شنگھائی میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے بعد چین کے دیگر علاقوں میں بھی پابندیاں عائد کردیں، ملک نے ’ڈائنیمک کلیئرنس‘ کے نقطہ نظر کو برقرار رکھا ہوا ہے جس کا مقصد تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس کے ویرینٹ اومیکرون کو روکنا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق وبا کی صورتحال کے پیش نظر چین کے مرکزی مینوفیکچرنگ علاقے ژینگ ژو ائیرپورٹ زون نےجمعے سے 14 روز کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے۔

شمالی مغربی چین کے شہر ژیان میں شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ غیر ضروری طور پر کمپاؤنڈ سے باہر نہ جائیں، اور ایسی کمپنیاں جو ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کر رہی ہیں، ان کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

ملک میں رواں ماہ کورونا وائرس کے درجنوں کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

ژیان کے سرکاری عہدیدار نے خوراک سمیت شہریوں کے دیگر خدشات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن کا اعلان نہیں کیا گیا ہے نہ ہی شہر پر کسی قسم کی پابندی کا اطلاق کیا گیا ہے۔

حال ہی چین کے مرکزی شہر شنگھائی میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے، 15 اپریل کو یہاں 3 ہزار 590 ایسے کیسز رپورٹ ہوئے جن میں بیماری کی علامات موجود تھیں جبکہ 19 ہزار 923 کیسز غیر علامتی تھے، اس سے ایک روز قبل 19 ہزار 872 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

پورے ملک کے مقابلے شنگھائی میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد سب سے زیادہ ہے، ڈھائی کروڑ آبادی والے شہر میں لاک ڈاؤن کا نفاذ جاری ہے۔

بڑے پیمانے پر پابندیوں کی وجہ سے سپلائی چین میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں، جس سے ایپل سمیت دیگر کمپنیوں کی ترسیلات میں تاخیر کا امکان ہے، اقتصادی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ رواں سال پابندیوں کے سبب ملک کی اقتصادی ترقی کی شرح متاثر ہونے کا امکان ہے۔

چینی الیکٹرک کار مارکر ایکسپینگ کے چیف نے کہا کہ اگر شنگھائی اور آس پاس کے علاقوں میں سپلائی کرنے والے دوبارہ کام شروع نہیں کرسکے تو کار سازوں کو آئندہ ماہ پروڈیکشن معطل کرنی پڑے گی۔

شنگھائی کے قریب واقع سوژوو شہر کے حکام نے کہا کہ تمام ملازمین کو گھر سے کام کرنا چاہیےاور رہائشی کمپاؤنڈز اور کمپنی کے کیمپس میں لوگوں اور گاڑیوں کے غیر ضروری داخلے سے گریز کرنا چاہیے۔

ژینگژو میں صرف وہ لوگ کام کرسکتے ہیں جن کے پاس درست پاسز، ہیتلھ کوڈ اور کورونا وائرس کے منفی ٹیسٹ کا ثبوت موجود ہے، اس دوران کام کے لیے سفر کرنے کے پیش نظر انہیں ’خصوصی گاڑیاں‘ فراہم کی جائیں گی۔

اقتصادی زون کے حکام کی جانب سے یہ پوسٹ ایک وی چیٹ (جلد پیغام بھیجنے والے اکاؤنٹ) پر شائع کی گئی۔

نیشنل ہیتلتھ کمیشن کے مطابق چین میں 15 اپریل کو 24 ہزار 791 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس میں سے 3 ہزار 896 کیسز میں علامت ظاہر ہوئی تھی جبکہ 20 ہزار 895 کیسز غیر علامتی تھے۔

اگر گزشتہ روز رپورٹ ہونے والے 24 ہزار 268 کیسز سے موازنہ کیا جائےتو اس میں 3 ہزار 486 کیسز میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہورہی تھی جبکہ 20 ہزار 782 کیسز میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی۔

منبع: ڈان نیوز

The post کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے بعد چین کے دیگر شہروں میں بھی پابندیاں عائد appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے