English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسٹیبلشمنٹ مختلف سیاسی جماعتوں کو اقتدار میں لاتی رہی ،سراج الحق

القمر
پشاور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق المرکز الاسلامی میں صحافیوںکے اعزاز میں دیے گئے افطار ڈنر کے موقع پر پریس کانفرنس کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ مختلف سیاسی جماعتوں اور شخصیات کی پشت پناہی کر کے انھیں اقتدار میں لاتی رہی ہے۔ آزادانہ اور شفاف انتخابات ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ ہیں۔ پی ٹی آئی نے پونے 4 سال میں انتخابی اصلاحات متعارف نہیں کرائیں۔ نئی حکومت نے بھی سابق حکومت کی ڈگر پر چلنا شروع کر دیا۔ نیب اور مختلف الزامات میں مطلوب شخصیات پہلے بھی حکومت کا حصہ تھیں اب بھی کابینہ میں موجود ہیں۔ نیب کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں، ادارے کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ احتساب کے اداروں کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن کو مضبوط اور خودمختار بنایا جائے۔ انتخابات متناسب نمائندگی کے اصولوں پر ہونے چاہییں۔ سیاسی جماعتیں انتخابی اصلاحات کے لیے آپس میں مذاکرات کریں۔ وزیراعظم منصوبوں پر فوکس کرنے کے بجائے الیکشن کے جلد انعقاد کو یقینی بنائیں۔ ملک شدید پولرائزیشن کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو سنجیدگی کا راستہ اپنانا چاہیے۔ سیاست میں گالم گلوچ اور تشدد کے کلچر کو ختم کرنا ہوگا۔ جماعت اسلامی نے مفادات کی لڑائی سے دور رہتے ہوئے عوام کی خدمت جاری رکھنے اور ملک کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کا عزم کیا ہواہے۔ پی ٹی آئی کوئی تبدیلی نہیں لاسکی، تینوں جماعتیں بری طرح ایکسپوز ہو گئیں۔ قوم جماعت اسلامی پر اعتماد کرے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے مرکز اسلامی پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی خیبر پختونخوا عبدالواسع بھی موجود تھے۔ سراج الحق نے کہا کہ ملک کے 23ویں وزیراعظم نے آتے ہی آئی ایم ایف کے 22ویں پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے تگ و دو اور منت سماجت شروع کر دی اور اس کے لیے وزیرخزانہ کو امریکا روانہ کر دیا۔جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ معیشت کی بہتری، سرمایہ دارانہ سودی نظام سے چھٹکارا حاصل کیے بغیر ممکن نہیں، اسلامی معیشت کا ماڈل اپنانا ہوگا۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف عملی طور پر ملک کے حکمران ہیں۔ اسٹیٹ بینک کا گورنر یہاں عالمی مالیاتی اداروں کے وائسرائے کا کردار ادا کررہا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک ترمیمی قوانین ختم کیے جائیں اور اس کے گورنرکو ہٹایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ملک پر چند خاندان گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلط ہیں۔ الیکٹیبلز کی سیاست نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ سیاسی جماعتیں خاندانوں کی جاگیروں میں تبدیل ہو چکی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ملک میں جمہوری اقدار پروان نہیں چڑھ سکیں۔ قانون اور آئین کی بالادستی کو قائم کرنا ہوگا۔ انتخابات میں دھونس، دھاندلی اور دولت کے ریل پیل کے کلچر کا قلع قمع ضروری ہے۔ امیر جماعت نے کہا کہ ملک اور قوم اس وقت عجیب بحرانی کیفیت میں مبتلا جبکہ حکمران اپنے مفادات کی جنگ میں مصروف ہیں۔ پاکستان کا سب بڑا صوبہ وزیراعلیٰ کے بغیر چل رہا ہے، مرکز میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی اقتدار میں ہے۔ خیبرپختونخوا میں بجلی اور گیس کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ کئی کئی گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے جس سے رمضان المبارک کے مہینے میں کاروبار زندگی شدید متاثر ہو رہاہے ۔ ملکی قوانین کے مطابق جہاں گیس اور بجلی پیدا ہوتی ہے وہاں کے عوام کا ان پر سب سے پہلا حق ہوتا ہے، لیکن شدید گرمی کے موسم میں صوبے کے عوام دونوں بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہے ہیں۔ لوڈشیڈنگ نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ ملک کے دیگر علاقوں میں شدت اختیار کر چکی ہے۔ ملک میں بجلی پیدا کرنے کی وافر صلاحیت ہے، لیکن فیول کی کمی کی وجہ سے بجلی پیدا کرنے والے کارخانے بند پڑے ہیں جو کہ حکمرانوں کی نااہلی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کو صالح اور اہل قیادت درکار ہے۔ جب تک آزمائے ہوئے جاگیرداروں اور وڈیروں سے جان نہیں چھوٹے گی پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔ عوام نے تینوں جماعتوں کو آزما لیا، اب ایک موقع جماعت اسلامی ملنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت اور عوام کی طاقت سے اقتدار میں آ کر ملک کے دیرینہ مسائل ختم کریں گے اور پاکستان کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق چلائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے