English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حکومت نے ٹیکسوں میں اضافہ کیا تو مہنگائی کا طوفان آئیگا

القمر

کراچی (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) حکومت نے ٹیکسوں میں اضافہ کیا تو مہنگائی کا طوفان آئے گا‘ عوام کی قوت خرید میں کمی آئی ہے‘ نئی حکومت سے بھلائی کی توقع نہیں‘ مہنگائی اور سیاسی بحران کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کر رہا ہے‘ کے الیکٹرک نے اووربلنگ، لوڈشیڈنگ اور بجلی کی قیمت بڑھا کر معیشت تباہ کردی۔ان خیالات کا اظہا ر آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کراچی کے صدر محمود حامد، کراچی الیکٹرونکس اینڈ موٹر سائیکل ڈیلرز الائنس اور کراچی سندھ تاجر اتحاد کے چیئرمین شیخ حبیب، صدر کوآپریٹو مارکیٹ ایسوسی ایشن محمد فیروز اور قالین کی صنعت سے وابستہ زاہد محمود نے جسارت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ محمود حامد نے کہاکہ اگر نئی حکومت نے ٹیکسوں میں اضافہ کیا تو اس سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں، اسکولوں کی فیسوں اور یوٹیلیٹی بلوں میں بھی اضافہ ہوگا جس سے عام آدمی کی زندگی بہت مشکلات کا شکار ہو جائے گی‘ مہنگائی اور دیگر معاشی مسائل کے سبب لوگوں کی قوت خرید دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے‘ مارکیٹوں میں تاجر لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شدید اذیت کا شکار ہیں‘ عید کے سیزن میں کے الیکٹرک کی لوڈشیڈنگ سے گارمنٹس کا کام کرنے والے تاجروں کو دشواری کا سامنا ہے‘ کے الیکٹرک نے صنعت کو تباہ کردیا ہے‘گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوگیا ہے‘ کے الیکٹرک ملکی معیشت کے لیے ناسور ہے جو ایک جانب بجلی کے نرخوں میں من مانا اضافہ اور اوور بلنگ کرکے تاجروں اور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا رہی ہے اور دوسری جانب گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کے ذریعے صنعتوں کو تباہ کردیا ہے‘ ملک میں جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث تاجر بہت زیادہ پریشان ہیں‘ ماہ صیام میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ نے تاجروں اور شہریوں کو عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے جس سیشہر بھر میں پینے کا پانی نایاب ہو چکا ہے‘ مساجد میں وضو کے لیے پانی دستیاب نہیں ہے‘ نئی حکومت کے آنے کے بعد بھی کراچی میں عوام کی قوت خرید میں اضافہ نہیں ہوسکا ہے‘ مہنگائی اور سیاسی بحران کراچی کی معیشت کو بہت بری طرح متاثر کرنے کا باعث بن رہا ہے‘ کاروباری اور معاشی سرگرمیاں اس کے منفی اثرات کی زد میں ہیں‘ اقتصادی گروتھ کی رفتار سست ہونے اور مہنگائی میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ آگے چل کر غربت اور بے روزگاری میں بھی اضافہ ہونے کا امکان ہے‘ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ شیخ حبیب نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہیں‘ قوت خرید میں کمی کی وجہ سے کاروبار میں 60 فیصد کمی ہوئی ہے‘ موجودہ حکومت مانگے تانگے کی ہے یہ کسی صورت ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر نہیں کرسکتی‘نئے وزیر اعظم صرف باتوں کے ماہر ہیں‘ عملی طور پر انہوں نے پہلے بھی کچھ نہیں کیا تھا اور آئندہ بھی کوئی امید نہیں ہے کہ وہ کراچی کے تاجر اور عوام کو کوئی ریلیف دے سکیں گے۔ محمد فیروز نے کہا کہ نئی حکومت کے آنے کے بعد صدر کی مارکیٹوں میںصرف50 فیصد کاروبار ہو رہا ہے‘ لوگوں کی قوت خرید انتہائی کم ہوگئی ہے‘ ملکی سیاسی صورتحال اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روز بروز اضافے کے باعث کاروباری صورتحال بہتر نہیں ہو رہی ہے‘ ماضی میں صدر کی مارکیٹوں میں عوام کا رش ہوتا تھا‘ اس بار وہ رش مارکیٹ میں نظر نہیں آرہا ہے اور لوگ کپڑوں کی خریداری میں دلچسپی کم لے رہے ہیں۔ زاہد محمود نے کہا کہ نئے وزیر اعظم کے آنے کے بعد بھی کاروباری صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے بلکہ کاروباری صورتحال پہلے سے زیادہ خراب ہوگئی ہے‘ لوگوں کی قوت خرید میں اضافے کے بجائے کمی واقع ہوئی ہے‘ لوگوں میںقالین خریدنے کا رجحان انتہائی کم ہوگیا ہے جس کی بنیادی وجہ مہنگائی میں اضافہ ہے ‘ لوگوں کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ نئے قالین خرید سکیں‘ کیوں دیگر ضروریات زندگی کی چیزیں بھی انہیں خریدنی ہوتی ہیں‘ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ کاروبار میں بہتری اُس وقت تک نہیں آسکتی جب تک ملک کی سیاسی صورتحال میں بہتری نہیں آئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے