مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر قلقیلیہ کے علاقے عزون میں ایک نوجوان گولی لگے سے شہید ہوگیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق صہیونی فوج نے صبح سویرے کارروائی کی،جس میں 28سالہ یحییٰ علی عدوان کو گولیاں ماری گئیں۔ اسی علاقے میں مسلح جھڑپوں کے دوران یہودی آبادی کا ایک سیکورٹی گارڈ بھی ہلاک ہوگیا۔ ادھر قابض اسرائیل فوج نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قلندیہ فوجی چوکی سے 10 نوجوانوں کو گرفتار کیا۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ نوجوان مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کر کے واپس جا رہے تھے۔ ہفتے کے روز صبح سویرے آباد کاروں کے حملے میں کئی نمازی زخمی ہو گئے ۔ ناصرہ شہر سے نمازیوں کو لے جانے والی بس پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ مقبوضہ بیت المقدس میں فرانسیسی پہاڑی کے قریب سے گزر رہی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق آباد کاروں کے ایک گروپ نے بس پر پتھر اور خالی بوتلیں پھینکیں جس سے بس کے شیشے ٹوٹ گئے اور کئی مسافر زخمی بھی ہوئے۔دوسری جانب جمعہ کے روز مسلمانوں پر تشدد اور آنسوگیس کی شیلنگ کے بعد اسرائیلی فوج مسجد اقصیٰ کے صحنوں سے نکل گئی ہے اور اس نے مسجد کے تمام دروازوں کو کھول دیا ہے۔ اس سے قبل جمعہ کے روز فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔ جھڑپوں کے نتیجے میں دونوں جانب کے 42 افراد زخمی ہوئے تھے۔ اسرائیلی پولیس کے مطابق فلسطینیوں نے مسجد کے کمپاؤنڈ کے اندر پولیس پر پتھراؤ کیا تھا۔
