یورپی یونین نے یوکرین پر حملے کے جواب میں روس کے خلاف نئی پابندیوں کے ایک پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔
ان اقدامات میں روسی تیل پر پابندی بھی شامل ہے۔
یہ پابندی جرمنی جیسے یورپی ممالک کے لیے ایک اہم قدم ہے جو روسی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
تاہم اس منصوبے کو ابھی بھی یورپی یونین کی حکومتوں سے منظوری درکار ہے۔
اس پیکیج میں روسی تیل کی ترسیل رواں سال کے آخر تک مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
ہنگری اور سلواکیہ دونوں ہی توانائی کے حوالے سے روس پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں اور توقع ہے کہ وہ اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق ماسکو یورپ کو توانائی کی برآمدات کے ذریعے اپنی جنگی کوششوں کو بڑے پیمانے پر فنڈز فراہم کر رہا ہے۔
دوسری جانب جمہوریہ چیک کے وزیر اعظم پیٹر فیالا نے بھی یورپی یونین کی اس پابندی کی تجویز پر حمایت کا اعلان کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ روس کے خلاف سخت پابندیوں کی ہم حمایت کرتے ہیں مگر روس کے بجائے دیگر ممالک سے تیل کی درآمد کے لیے ہمیں دو تا تین سال کا عرصہ درکار ہوگا۔
