English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مسجد نبوی الشریف میں نعرے بازی سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کا اظہارِ افسوس اورمذمت۔

القمر

مدینہ المنورہ میں مسجد نبوی الشریف کے اندرونی وبیرونی صحن میں بڑی تعداد میں زائرین کی موجود گی میں پاکستان کے سرکاری وفد کی حاضری کے دوران نعرے بازی کا جوافسوسناک واقعہ ہوا اور روضہ رسول کے تقدس کو پامال کیا گیا اس پرسعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے بیشتر افراد نے نمائندہ جسارت سید مسرت خلیل سے گفتگو کرتے ہوئے اظہارِ افسوس کیا اورواقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
٭منیجنگ ڈائریکٹر دارالسلام انٹرنیشنل مولانا عبدالمالک مجاہد نے کہا کہ مسجد نبوی کے واقعہ سے پاکستانیوں کا سرشرم سے جھک گیا۔ مسجد نبوی میں سیاسی نعرے بازی کادلدوز واقعہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہر سو پھیل چکا ہے ، کوئی شک نہیں کہ یہ واقعہ پوری پاکستانی قوم کے لیےانتہائی دکھ ، افسوس اور شرم کا باعث بنا ہے ۔ شروع کردی جب پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم مسجد نبوی کی زیارت کے لیے حاضری دے رہے تھے ۔ پاکستان کی خاتون وزیر کو بھی یہاں ریاض الجنہ کے ماحول میں گالیاں دی گئیں۔ افسوس صد افسوس کہ ایسا کرنے والوں نے جوش میں آکر اپنے سیاسی مقاصد کے لیے اور اپنی سیاسی نسبت کے لیے تو یہ سب کیا مگر وہ یہ کرتے وقت اپنی نبی کریم سے اپنی پیاری اور سنہری نسبت کوبھول گئے۔ آپے سے باہر یہ لوگ مسجد نبوی کے آداب سے اپنارشتہ و تعلق بھی وہ بھول گئے اور یہ بات بھی ان نادانوں نے بھلا دی کہ بطورمسلمان یہ فعل خود ان کے اپنے لیےکتنا خوفناک اورخطرناک تھا۔ یہ ایک دل دکھا دینے والا اور اعصاب ہلا دینے والا سانحہ تھا۔ ایک عام مسجد کا مقام و مرتبہ ایسا ہے کہ آدمی وہاں بھی ایسا شور وغل کرنے سے تھرا اٹھتا ہے ، کجا یہ کہ رسول کریم سے نسبت رکھتی اور رسول کریم کے پیارے نام نامی اسم گرامی کے ساتھ مشہورو معروف ہونے والی مسجد میں ایسا شور و غوغا کیا جاتا۔ خودقرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے کہ مسجدیں اللہ کو پکارنے کے لیے ہیں ، یہاں اللہ کے سوا کسی کو نہ پکارو۔ مسجد نبی کے آداب عام مسجدوں سے بھی بڑھ کر ہیں اور نبی کریم کی مسجد ہونے سے اس کا احترام کہیں زیادہ ہے۔ظاہر ہے یہ وہ مسجد ہے جس میں پڑھی گئی ایک نماز علاوہ حرم کے ہر مسجد کی نماز سے زیادہ فضلیت رکھتی ہے۔
سورہ حجرات کی آیات میں واضح الفاظ ہیں کہ مومنو، نبی کے پاس نبی کی آواز سے اپنی آواز بلند نہ کرو، اورنہ ایک دوسرے کو مخاطب کرنے کے انداز میں نبی کو آواز دو،وگرنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارے سارے اعمال برباد کر دئیے جائیں اور تمھیں پتہ بھی نہ چلے۔اندازہ کیجئے یہ بات مقدس ترین صحابہ سے کہی گئی ،جو علم میں ، عمل میں ،رتبے میں اللہ کی نگاہوں میں ہم سےکہیں زیادہ تھے تو ہم کس کھیت کی مولی ہیں؟
علمااس بات کی بھی صراحت کر چکے ہیں کہ رسول کریم کا احترام جیسے آپ کی زندگی میں تھا ، ویسے ہی اب بھی ہے۔اب بھی یہاں وہی آداب لاگو ہوں گے ، جو آپ کی زندگی میں ہوتے تھے ۔یہ آیات اتریں تو سیدنا عمر نے ہمیشہ کے لیے یہاں آہستہ بات کرنا معمول بنالیا، سیدنا عمر اتنا آہستہ بولتے کہ رسول کریم کو ان سے بات دوبارہ پوچھنے کی نوبت آ جاتی،یہ آیات اتریں تو رسول کریم کے ایک صحابی تھے سیدنا ثابت بن قیس ، یہ بڑے بلند آہنگ خطیب تھے، مسجد نبوی میں وفد کی آمد کے جس موقعے پر سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر کی آوازیں بلند ہوئی تھیں اورجس واقعہ کے بعد یہ آیات اتری تھیں ، اس موقع پر آنے والے وفد کو خطبہ بھی سیدنا ثابت بن قیس نے ہی دیا تھا، نزول آیات کے بعد یہ صحابی پریشان ہوکے گھر بیٹھ گے۔رسول کریم نے ان کے بارے دریافت فرمایا،کچھ صحابہ ان کے گھر گئے تو یہ پریشان اور آبدیدہ دکھائی دئیے ، کہنے لگے میری آواز بلند تھی ، میرے تو سارے اعمال برباد ہو گئے اور میں تو اہل نار میں سے ہوگیا۔ اللہ اکبر صحابہ اس قدر سنجیدہ تھے قرآن ، نبی کے احترام اور اپنی آخرت کے ساتھ۔خیر نبی کریم نےفرمایا، نہیں بلکہ ثابت تو اہل جنت میں سے ہے، صحابہ کہتے ہیں کہ پھر ہم ثابت بن قیس کو اپنے درمیان چلتے پھرتے دیکھتے تھے اور غور کرتے تھے کہ ایک جنتی کو دیکھ رہے ہیں ان ساری تعلیمات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک افسوسناک واقعہ تھا، جس کی ہر دین پسند اور محب رسول نے سیاسی وابستگی سے بالا ئےتر ہو کر مذمت کی ۔یقیناً یہی انصاف ، اچھے اخلاق او رایمان کا تقاضاتھا۔ میں سمجھتاہوں کہ صرف مذمت کافی نہیں، ہمیں اپنی قوم کی تربیت کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی۔ اتنے حساس موقعے پر اگر ایسا کیا جا سکتا ہے تو پھر اندازہ کیجئے صورتحال کتنی ہولناک ہو سکتی ہے؟ اس موقع پر یہ بات بھی سامنے آئی کہ چھوٹی سطح مقدس مقامات پر پہلے بھی سیاسی نعرے بازی ہو چکی ہے ، جو بالکل غلط ہے، یہان ہم اپنی مقدس عبادت کے لیے وقت نکال کر اور پیسہ خرچ کرکے آتے ہیں، اپنے گناہوں میں اضافے اور اپنے ملک کی بدنامی کے لیے نہیں،یہاں میں اپنے بچوں ، بڑوں اور بھائیوں سے یہ بھی درخواست کروں گاکہ سیاسی وابستگی ہر ایک کا جمہوری حق ہے مگر اس وابستگی کو اتنا گہرا ور آگے نہیں کر لینا چاہئے کہ آدمی کا دین ، اخلاق اور قوم کا وقار ہی خطرے میں پڑ جائے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایک سچی ، باوفا ، مخلص اور باوقار قوم بننے کی توفیق دے، اللہ ہمارے دل جوڑ دے، ہمیں دین اور وطن کے سپاہی بنائے ، ایسے کہ قوم جن پر فخر کرے ۔ اللہم آمین ٭ محمد مبشر انوار پاکستان کے ممتاز صحافی اورکالم نگار ریاض سے “حرمت روضہ رسول ﷺ کی پامالی کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بحیثیت مسلمان ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہمارے ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتے جب تک کہ ہم نبی آخرالزماں ﷺ سے اپنی جان، مال، آل اولاد غرضیکہ ہر دنیاوی رشتے اور تعلق سے بڑھ کر الفت، محبت و پیار نہیں رکھتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہماری یہ بنیادی تربیت میں شامل ہے کہ ہم نہ صرف اللہ رب العزت، محبوب خداؐ اور مقدس مقامات کی حرمت کا خیال رکھیں اور ان کے تقدس کو پامال نہ کریں۔اس پس منظر میں اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں سورہ حجرات کی دوسری آیت میں واضح طور پر فرمایا ”اے وہ لوگوں جو ایمان لائے نہ بلند کرو اپنی آوازیں نبیؐ کی آواز پر اور نہ زور سے بولوان کے روبروبات کرتے وقت جس طرح بولتے ہو ایک دوسرے سے ایسا نہ ہو ضائع ہو جائیں تمہارے اعمال اور تم کونہ خبربھی ہو“ یعنی احترام ہر حال میں لازم ہے اور اس قدر احترام لازم ہے کہ لاعلمی میں بھی اعمال ضائع ہو سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے گذشتہ دنوں نئے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب اور روضہ رسولؐ پر حاضری کے دوران ایسے واقعات سامنے آئے،جن سے روضہ رسولؐ کا تقدس پامال ہوا ہے، دیکھتے ہیں کہ سعودی عرب میں اس کی حیثیت کیا ہے اور سعودی عرب اس سے کس طرح نبرد آزما ہوا ہے۔اس واقعہ کے بعدسوشل میڈیا پر سعودی وزیرخارجہ کا ایک غیر متعلقہ ویڈیو بیان زیر گردش ہے جن کا داخلی امور سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ویڈیو بھی اسلام آباد میں ہونیوالی کانفرنس کے پس منظر میں ہے۔ تاہم راقم بذات خود اس وقوعہ کا عینی شاہد ہے اور واقعتا یہ نعرے مسجد نبویؐ کے ساتھ متصل مارکیٹ کے برآمدوں میں گونجتے سنائی دئیے البتہ ان کا شور اتنا ضرور تھا کہ اس کی گونج صحن تک آ رہی تھی۔ سعودی قوانین کے مطابق، یہ خبریں بھی گردش میں ہیں کہ سعودی قوانین کے مطابق جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، ان پر مسجد نبویؐ کا تقدس پامال کرنے، سیاسی نعرہ بازی کرنے اور ایک خاتون (مریم اورنگزیب) کو ہراساں کرنے، ان پر آوازے کسنے کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے اور انہی الزامات کی بنیاد پر انہیں یہ سزائیں دی گئی ہیں۔
پاکستان میں اس کو رنگ دیا جارہا ہے وہ معاملے کو سلجھانے کی بجائے مزید پیچیدہ وانتقامی رنگ دے رہا ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت بالخصوص عمران خان، شیخ رشید اور دیگر صف اول کی قیادت کے خلاف ملک بھر میں ایف آئی آردرج ہو رہی ہیں۔ معاملے کو توہین مسجد نبویؐ کے ساتھ ساتھ توہین رسالتؐ پر مامور کیا جارہا ہے اور دانستہ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ عوام کے مذہبی جذبات کو انگیخت کیا جائے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی نے اس معاملے کی مذمت اور خود کو اس سے الگ رکھنے کا اعلان کرنے میں بہرطور معمولی تاخیرضرور کی ہے۔ موجودہ حکومت کے لئے یہ واقعہ کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں اور حکومت اپنی پوری کوشش کرے گی کہ اس سے ایسے فائدہ اٹھائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ نجانے کیوں پاکستانی حکومتیں،قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حکومتیں اپنے اختیارات از خود عوام کو کیوں دے دیتے ہیں؟؟ دوسری طرف سعودی عرب میں سب کو علم ہے کہ یہ خلاف قانون حرکت ہو رہی ہے لیکن کسی عام شہری کی مجال نہیں کہ وہ ازخود ایسے کسی ملزم کو سزا دے بلکہ دنیا کے کسی بھی دوسرے مہذب ملک میں اس کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی بنیادی وجہ صرف اتنی سی ہے کہ دوسرے ممالک کے شہریوں کو اپنے اداروں کی ساخت، کارکردگی اور غیر جانبداری پر بھرپور اعتماد ہے۔ لہذا وہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی جرآت نہیں کرتے۔ اس واقعہ میں بھی پس پردہ یہی حقائق کارفرما رہے ہیں کہ کل تک جن کو پاکستانی ادارے،چور اور کرپٹ گردانتے رہے،سیاسی و ذاتی مفادات کی آڑ میں انہی لوگوں کو تخت پر براجمان کرا دیا،عام پاکستانی شہری کے لئے یہ کس قدر تکلیف دہ بلکہ مایوس کن ہے،اسی کا اظہار مسجد نبویؐ میں ہوا،جس کو کسی بھی صورت قابل ستائش قرار نہیں دیا جا سکتا۔بعد ازاں جو کارروائی اس وقت حکومت کر رہی ہے،جس طرح ایف آئی آرز درج ہو رہی ہیں،جس طرح مذہب کے نام پر عوام کو مشتعل کیا جا رہا ہے،عوام کو قانون ہاتھ میں لینے کی دعوت دی جارہی ہے،کہ کسی طرح پی ٹی آئی کا کانٹا پاکستانی سیاست سے نکلے اور باریوں کی صورت حصول اقتدار کی راہ ہموار ہو جائے،گلیاں ہو جان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے،کے خواہشمند بھول رہے ہیں کہ اس طرح وہ ملک کو کس اندھیری سمت میں دھکیل رہے ہیں۔ان کے نزدیک بس اپنا اقتدار قائم رہے خواہ اس میں ملک کا ستیاناس ہو جائے،لیکن بھول رہے ہیں کہ اگر نعوذ باللہ ملک ہی نہ رہا تو پھر کہاں کا اقتدار؟؟پھر وہی ہو گا جو پڑوسی ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔
اب اس کے مذہبی پہلو پر اپنی کم مائیگی کا احساس کرتے ہوئے کچھ گذارشات ضرور کروں گا اور یہ بھی امید رکھوں گا کہ مجھ پر تبری بھیجنے کی بجائے عالم و دانشور اس پر میری رہنمائی و تصحیح فرمائیں گے۔ سورہ حجرات کی مذکورہ بالا آیت میں اللہ رب العزت نے واضح فرما دیا کہیے اے وہ لوگوں جو ایمان لائے محبوبؐ کے روبرو اپنی آوازیں اونچی نہ کرومبادا تمہارے اعمال ضائع نہ ہو جائیں،یہاں دو باتیں واضح ہیں کہ اللہ رب العزت ان سے مخاطب ہیں کہ جو حلقہ بگوش اسلام ہو چکے تھے اور محبوب خداؐکے صحابہ ؓبن چکے تھے،آپؐ کی ہر بات پر سر تسلیم خم رکھتے تھے،لیکن پھر بھی انجانے کبھی ان کی آواز محبوب خداؐ سے اونچی ہو جاتی،اور یوں بے ادبی کا سبب بنتی۔دوسری طرف گستاخ رسولؐ کے متعلق سزا کا پیمانہ قطعی مختلف ہے لیکن اس کے لیے بھی طریقہ کار اور سزا دینے کا اختیار ذمہ داران کا ہے،کسی بپھرے ہوئے ہجوم کا قطعی نہیں۔اس کا حوالہ اس لیے دے رہا ہوں کہ قارئین بے ادبی اور گستاخی کو سمجھ سکیں کہ اللہ رب العزت نے اپنے محبوبؐ کے روبرو اونچی آواز کو بے ادبی قرار دیتے ہوئے، بے ادبوں کی سزا ان کے اعمال ضائع کرنے پر اکتفا کیا ہے اور اس کے بعد بھی توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے جبکہ گستاخ رسولؐ تو فورا ہی دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے تا آنکہ وہ توبہ نہ کرلے۔اب جس بے ادبی پر سزا کی حد رب نے خود مقرر کر دی ہے،اس پر سعودی حکومت نے بھی جرم کے مطابق ہی سزا دی ہے، جبکہ ماضی میں ہونے والی ایسی نعرے بازی کا میں حوالہ نہیں دینا چاہتاکہ نواز شریف،راحیل شریف،عمران خان اور زرداری کے حوالے سے بھی ایسی نعرہ زنی ہوتی رہی ہے اور موجودہ جگہ کی نسبت روضہ رسولؐ کے زیادہ قریب اور مسجد کے احاطہ کے اندر ہوتی رہی ہے،لیکن تب مؤقف مختلف رہا ہے۔ بہرکیف ہمارا بالعموم یہ رویہ ہے کہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو، اس وقت بھی یہی کوشش ہو رہی ہے کہ کسی طرح بے ادبی،جس کی سزا از خود اللہ کی طرف سے دی جاتی ہے،کو گستاخی بنا کر عوام کے جذبات کو انگیخت کیا جائے اور اپنے سیاسی مخالف سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے،میرے ئ٭شمس الدین الطاف ملک 46 برسوں سے جدہ میں مقیم ہیں اور پاکستان پیپلزکمیونٹی کے سرگرم کے کارکن اور سماجی رہنما ہیں۔ انھوں نے 28ویں رمضان المبارک 1443ھ میں مدینہ الرسول میں پیش آئے واقعہ پر ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا مدینہ منورہ (روشن شہر) جسکی گلیاں اور زمین کا ہر چپہ بحیثیت مسلمان ہمسب کے لیے قابل إحترام و بحیثیت اُمتی رسول باعثِ فخر ہے، اس مقدس شہر میں اسلامی جمہوری پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف اور انکےہمراہ آئے ہوئے سرکاری وفد کے زیارتِ مسجد نبوی کے موقع پر چند ناعاقبت اندیش لوگوں نے اس مقدس مقام پر جو گھٹیا سیاسی نعرہ و ہلڑ بازی کی، تاریخ میں تو اسکی کوئی ایسی مثال بھی نہیں ملتی کہ بندہ مثال بھی دے سکے، ہمیں یہ بات تو اچھی طرح معلوم ہےکہ اگر حرم اللہ اور حرمِ نبوی میں حاضری کی منظوری نہ ہو تو کوئی حاضر نہیںہو سکتا اور یہ بات بھی مشاہدے میں آتی ہےکہ ہر گناہ گار اور سیاہ کار کو یھاں حاضری کے بعد ہییہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید اب بار گناہ کمہو گئے ہیں، اس دلخراش واقعہ سے سب عالمِ اسلام میں سب مسلمانوں کے دل غمگین اور جذبات مجروح ہوئے ہیںایک ایسے موقع پر جب اسلامی جمہوری پاکستان کا وزیرأعظم اپنے وفد کے ھمراہ روضۂ رسول پر حاضری دے رہا تھا یہ امر اور بھی قابل مذمت ہو جاتا ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کمہے۔ مدینہ اس ہستی مقدس محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شہر ہے جس نے فتحِ مکہ کے موقع پر اپنے بدترین دشمنوں کو بھی امان دی،وہ چور ہوں گے مگر حرمِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں کسی شخص کو اختیار نہیں کہ وہ مخالف کو اُونچی آواز میں بات بھی کرے کجا کہ نعرہ بازی کرے..؟ جو وہاں داخل ہو گیا اس کو امان ہے اور یہ میرا، آپ کا نہیں، خدا کا فیصلہ ہے.
رحمتِ سید لولاک پہ کامل إیمان
أمتِ سید لولاک سے خوف آتا هے
اُمّتی باعثِ رُسوائیِ پیغمبرؐ هیں
ادب گاہ هیست زیر آسماں زیر عرش نازک تر،
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا
(آسمان کے نیچے ایک ایسی ادب والی جگہ ہےکہ جس کا معاملہ عرش سے بھی نازک تر ھے، یہاں جاتے ھوئے تو جنید بغدادی اور بایزید بسطامی جیسے اولیاء اللہ کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں، وہ اپنا سانس روک لیتے ہیں)۔
جوہوا بظاہر اور عملاً بہت بُرا هوا، یہ واقعہ ظاہر کرتا هے کہ مقتدر قوتوں نے اس قوم کی کیسی “غیر معیاری” سیاسی، سماجی و مذھبی تربیت فرمائی ہے۔ وقت آن پہنچا کہ سوچا جائے کہ اس سے بڑی تباھی کیا ہو گی کہ امن کے شہر مدینہ میں فساد پھیلایا گیا اور ماہِ أمن یعنی “رمضان المبارک”
میں یہ مذموم و قبیح حرکت کی گئی۔ یہ وہ جگہ ہےجھاں درود و سلام پیش کرنے کے لئے میرے رب کے ستر ہزار فرشتے صبح اور سترہزار فرشتے شام کو نازل ہوتے ہیں۔ ادب کا مقام یہ ہے کہ کوئی اونچی آواز میں بول بھی نھیں سکتا، مسجد نبوی کے اس دلخراش واقعہ پر اسلامی ممالک، أمتِ مسلمہ اورہر دل بھی بہت رنجیدہ ہے، اللہ کریم سب کو اس مقدس مقام کی حرمت اور عظمت کی سمجھ عطا فرمائے۔ جو لوگ حرمین میں نعرے بازی کر رہے تھے ان کو کم از کم یہ سوچنا چایئے تھا کہہ هم کھڑے کہاںہیں؟ اس جگہ لوگ آنے کو ترستے ہیں اور بعض اوقات ترستے ترستے لوگوں کی زندگی/زندگیاں ختم ہو جاتی ہے،ہم سیاسی مخالفت میں اتنے اندھے ھو چکے ہیں/ہو جائیں گے کہہمیںان مقامات کا تقدس بھی یاد نہیں رھا؟ افسوس کا مقام ہےہمارے لئے۔
اے اللہ… ہم سب پر اپنا رحم اور کرم فرما اورہمیںہدایت نصیب فرما. آمیـــــــــن اور اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہو گی.
ہمیں وزیراعظم کے اس مجوزہ دورے سے پھلے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے اس بیان کو بھی مدِنظر رکھنا چاہیئے جس میں اس نے کھلے عام کہا تھا کہ ” انکے ساتھ مکہ اور مدینہ میں جو ہو گا وہ بھی عبرتناک ہو گا۔ یہ بات بلاشبہ ایک سوچی سمجھی سازش کی طرف اشارہ ھے اور جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے اس سازش کے کردار بھی سامنے آنے لگے ہیں امید ہے کہ ہمارےحکام بالا کو شیخ رشید کے اس بیان کے تناظر میں بھی اس واقعہ کی تفتیش کرنا ہو گی اور اس میں شامل دوسرے عناصر کو بھی کیفر کردار تک پہنچانا ھو گا۔”
٭محترمہ تسنیم امجد صاحبہ ریاض سعودی میں پاکستانی کمیونٹی کی مقبول صحافی اور کالم نگارہیں۔ انھوں نے واقعہ پہ گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسجد نبوی ﷺ وہ مقام ہے جسے دنیا بھر میں سب سے زیادہ ادب کا درجہ حاصل ہے۔ دربار نبوی ﷺ میں اونچی آواز سے بولنا بھی جا ئز نہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مدینہ منورہ کی حدود میں گھوڑے پر بیٹھ کر داخل نہیں ہوا جاتا تھا کہ مبادا بے ادبی نہ ہو جائے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے اپنی آوازیں نبی اکرمﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو۔ ترک دور میں توسیع کے لئے مسجد سے ملحقہ پرانے مکان گرانے تھے تو ہتھوڑوں پر کپڑا باندھ کو چوٹ لگائی جاتی تھی۔
ان حقائق کی روشنی میں جوحال ہی میں ہوا اس پر لکھنے کے لئے شدت افسوس سےہاتھ کپکپا رہے
ہیں۔ اللہ نے اپنے گھر میں (خانہ کعبہ) میں تو اجازت دی ہے کہ رب کو اونچی آواز میں پکار سکتے ہیں، مسجد نبوی میں احترام کا تقاضا تا قیامت ہے۔ انسان اشرف المخلوقات ہے اسے ا مپنے اسی شرف کا احترام ہر ہر لمحے ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے، سیاسی نعرے، سیلفیاں، بال کھیچنا وغیرہ، یقیناً جانوروں سے بھی بدتر رویے ہیں۔ ان کے کیا ایمان ہونگے؟ کہا یہ گیا ہے کہ ان میں دوسرے ممالک کے لوگ بھی تھے سب پاکستانی نہ تھے، چلو مان لیتے ہیں لیکن ویڈیوز گواہی دے رہی ہیں۔ ہر ملک میں یہ سیاسی نعرے ہیں یقیناً وہ ساتھ دے رہے ہوں گے۔سیاسی قائدین سے درخواست ہے کہ وہ اپنی اپنی پارٹی کے ورکرز کی سیاسی تربیت کریں، ان کی اس حرکت سے میزبان ملک کو بھی شرمندگی ہوئی ہے۔
٭پاک سعودی فرینڈ شپ فورم چیئرمین چوہدری خالد رشید نےکہا پاکستان سے آئےہوئےحکومتی وفد کے ساتھ مدینہ المنورہ میں جو کچھ ہو ا وہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ ہمارا پاک سعودی فرینڈ شپ فورم اسکی بھر پور مذمت کرتا ہے۔ کیونکہ مکہ المکرمہ یا مدینہ المنورہ میں ہم سب اپنے اپنے گناہوں کی بخشش کی دعائیں کرنے جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو معا کردے، کچھ ایسے نہ سمجھ لوگ جذبات میں آکر ایسے کام کر جاتے ہیں جونہیں ہونے چاہیئے۔دوسری بات یہ ہے کچھ لوگوں کے اپنے اعمال بھی ایسے ہوتے ہیں وہ جدھر بھی جاہیں، انکے نصیب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے شائید ذلت ہی لکھی دی گئی ہو۔
ہاں یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا۔ آس سے پہلے بھی پاکستان سے جتنے بھی سربراہ ائے ہیں سب کے حق میں زندہ باد یا مردہ باد کے بول لوگ کہتے رہے ہیں۔ کوئی خوشی میں کوئی ناراضگی میں، ہاں ایک بات کا افسوس ہوا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس حکومت کو یہ کہا ان سب لوگوں کو پکڑ کر جیل میں ڈال دیں اس سے پتہ چلتا ہے ان بڑے لوگوں کو کبھی بھی غریبوں پر رحم نہیں آیا۔ کاش وہ اس جنگ کا جو حضرتِ علی کرم اللہ وجہہ نے کافرکو کہا تھا جب اس نے ان کے چہرے کی طرف تھوکا تھا تو انھوں نے اس کافر کو قتل کرنے کی بجائے معاف کر دیا۔ اگر اسی طرح وزیراعظم میاں شہباز شریف کہہ دیتا کہ ان سب کو معاف کر دیں لیکن نہیں کہا۔ ایک سابق وزیراعظم عمران خان تھا جس نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو کہا جو آپ کے ملک کی جیلوں میں ہمارے پاکستانی لوگ ہیں آن سب کی رہائی کردیں کیونکہ یہ سب لوگ ہمارے دل کے قریب ہیں۔ یہ فرق ہوتا ہے لیڈروں میں۔ اب تو مدینہ منورہ کے اس واقعہ کولے کر پاکستان میں بھی پکڑ دھکڑ شروع کر دی گئی ہے آللہ تعالیٰ ان کو ہدایت فرمائے اور اللہ تعالیٰ یہاں اور پاکستان میں اپنی رحمت فرمائے۔ آمین۔ ہم پاکستان اور سعودی عرب کے لیے دعا گو ہیں۔
٭میاں عبدالحامد سعودی دالحکومت ریاض میں مجلس پاکستان کے سرپرست اعلیٰ ہیں۔ انھوں نےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں نبی مہربان ﷺ کی مسجد میں لوگوں کے ایک گروہ نے جو ہلڑ بازی کی ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
یہ بات پیش نظر رہنی ضروری ہے کہ پاکستانی مسلمان، نبی کریم ﷺ کی حرمت کے حوالے سے پوری امت مسلمہ میں سب سے زیادہ حساس اور پرجوش ہیں۔ اس لیے چند افراد کے ایک قبیح فعل کو پوری قوم کیلئے شرمندگی کا باعث بنا کر پیش کرنا بھی کوئی مناسب بات نہیں ہے۔ تمام پاکستانی خواہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں، اپنے پیارے نبی ﷺ کی حرمت پر جان قربان کردینے کو تیار ہوجاتے ہیں اسلئے چند افراد کے گناہ کو پوری پاکستانی قوم پرڈالنے کی کوشش بھی قابل مذمت ہے۔ مزید افسوس ناک امر یہ بھی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں میں شامل افراد نے اس معاملے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش میں ایک دوسرے سے بڑھ کر اچھالا ، جو کہ کسی بھی طرح لائق تحسین نہیں ہے۔ قومی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پوی قوم کو ایک بنائے نہ کہ انکی غلط تربیت کرکے سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرے اورعام افراد کو اتنا بے مہار بنا دے کہ وہ ملک کے علاوہ دنیا بھر میں قانون ہاتھ میں لینے اوراخلاقیات کی دھجیاں اڑانے لگ جائیں۔
اس گناہ میں چند جاہل افراد اور سوشل میڈیا کے افراد شامل ہیں جن کے ساتھ سخت ترین قانونی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

The post مسجد نبوی الشریف میں نعرے بازی سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کا اظہارِ افسوس اورمذمت۔ appeared first on Daily Jasarat News.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے