English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تجزیہ 51

القمر

صدر  ایردوان  نے  سوچی سربراہی اجلاس کے بعد   جاری کردہ بیانات  اور وزیر خارجہ  چاوش اولو  کے  شام میں حل کے لیے  مخالفین  اور اسد انتظامیہ کے درمیان   صلح  لازمی ہونے   پر مبنی  بیانات کو   ان کی اصلیت سے  ہٹ کر عکاسی کی گئی ہے اور  ترکی  کے  شام میں اپنی پوزیشن  کو بدلنے  یا نہ بدلنے  کے بارے میں سوالات  ایجنڈے میں آئے ہیں۔  کیا شام  کے حقائق  کی روشنی میں اسد انتظامیہ کو  ایک جائز اقتدار   کے طور پر قبول کرتے ہوئے  اسے معمول کی سطح پرلانا ممکن ہے؟  کیا یہ اقدام  ترکی اور  شامی شہریوں کے مفادات کے حق میں ہوگا؟

سیتا  خارجہ پالیسی  محقق جان اجون کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ ۔۔۔

ترکی  حالیہ چند ماہ سے انسداد دہشت گردی  کے  تناظر میں  میں  PKK ۔ وائے پی  جی  کے  زیر کنٹرول   تل رفعت اور منبج  جیسے علاقوں میں   وسیع پیمانے  کی عسکری کاروائی  کی تیاریاں کر رہا ہے تو  اسے خاصکر  سلسلہ آستانہ  کے دیگر ضامن  ممالک  روس اور ایران  کی جانب سے  مختلف تجاویز   پیش کی گئی ہیں۔ سوچی میں صدر ایردوان کی روسی صدر پوتن سے ملاقات کے بعد  جناب ایردوان نے  اپنے بیان میں کہا تھا کہ پوتن نے انہیں اسد انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے  علاقے  کو PKK۔ وائے پی جی   سے پاک کرنے  کے حوالے سے  تجاویز پیش کی ہیں۔  تا ہم  عالمی میڈیا  کو  نا پسند  ایک دوسرے بیان میں   خفیہ اداروں کے درمیان طویل عرصے سے روابط ہونے تا ہم    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی قسم کی پیش رفت حاصل نہ ہونے کا  اظہار شامل تھا۔ ایردوان کے بعد چاوش اولو کے دیرپا امن اور ملک کا بٹوارہ  نہ  ہونے کے لیے اسد حکومت  اور اپوزیشن کے  درمیان مفاہمت قائم ہونی  چاہیے پر مبنی بیان نے   یہ سوال کھڑا کیا ہے  کہ آیا ترکی شام میں اپنی پوزیشن تبدیل کر رہا ہے ۔  حتی اس پیش رفت کے بعد شام میں ترکی کے زیر اثر  بعض علاقوں میں کچھ مظاہرے بھی  ہوئے۔ تا ہم  ترک  دفترِ خارجہ نے اس صورتحال کو  واضح  کرتے ہوئے  ترکی  کی    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2254 نمبر کی قرار داد اور سلسلہ آستانہ  سے وضع ہونے والی پوزیشن  میں کوئی  تبدیلی نہ آنے اور شامی انقلاب   اور انقلابی قوتوں کی حمایت کو جاری رکھنے پر زور دیا گیا ۔

در حقیقت   اگر مبالغہ آمیز موقف کو  ایک طرف چھوڑیں تو یہ کہنا ممکن ہے کہ   ترکی پہلے ہی سے  کافی عرصے سے شام میں سیاسی حل کی ضرورت پر زور  دیتا چلا آرہا ہے اور اس تناظر میں اس نے سلسلہ  آستانہ میں سیاسی مذاکرات اور نئے آئین سازی کے عمل کی  بھر پور طریقے سے  حمایت کی ہے۔ تا ہم  اس نکتے پر   اس عمل کی راہ میں  رکاوٹیں پیدا  کرنے والے عناصر ہمیشہ  ملکی انتظامیہ اور اس کے حمایتی  روس اور ایران  رہے ہیں۔  اسد انتظامیہ اور اس کے اتحادیوں نے ابتک   کسی قسم کی رعایت نہ دینے ، نئے آئین کی تشکیل  ، اپوزیشن   کے  ملکی انتظامیہ کے ساتھ انضمام  کا موقع فراہم کرنے والے   کسی نئے نظام کے قیام  کے لیے تیار نہ   ہونے کا مظاہرہ کیا ہے۔  اگر   یہ حلقے  مذکورہ پوزیشن سے    باز آتے ہوئے  حل  کے حصول  کے  لیے تیار  ہوتے ہیں  تو  یہ ویسے بھی ترکی اور مخالفین   کی طویل عرصے سے خواہش کردہ ایک پوزیشن ہے۔

تا ہم اگر  اسد انتظامیہ  نے سیاسی سلسلہ حل  میں کسی قسم کی رعایت   کا مظاہرہ  نہ کرنے کے موقف کو جاری رکھا تو  اس صورت میں اسے ایک جائزہ   ادا کار   کی نظر سے  دیکھتے ہوئے  باہمی تعلقات کو   معمول پر  لایاجانا قطعی   طور پر ایک  غلط پوزیشن   اور موقف ہو گا۔   میرےخیال میں ترکی  بھی  ہر گز اس چیز کا ارادہ   نہیں رکھتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے