صدر ایردوان نے سوچی سربراہی اجلاس کے بعد جاری کردہ بیانات اور وزیر خارجہ چاوش اولو کے شام میں حل کے لیے مخالفین اور اسد انتظامیہ کے درمیان صلح لازمی ہونے پر مبنی بیانات کو ان کی اصلیت سے ہٹ کر عکاسی کی گئی ہے اور ترکی کے شام میں اپنی پوزیشن کو بدلنے یا نہ بدلنے کے بارے میں سوالات ایجنڈے میں آئے ہیں۔ کیا شام کے حقائق کی روشنی میں اسد انتظامیہ کو ایک جائز اقتدار کے طور پر قبول کرتے ہوئے اسے معمول کی سطح پرلانا ممکن ہے؟ کیا یہ اقدام ترکی اور شامی شہریوں کے مفادات کے حق میں ہوگا؟
سیتا خارجہ پالیسی محقق جان اجون کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ ۔۔۔
ترکی حالیہ چند ماہ سے انسداد دہشت گردی کے تناظر میں میں PKK ۔ وائے پی جی کے زیر کنٹرول تل رفعت اور منبج جیسے علاقوں میں وسیع پیمانے کی عسکری کاروائی کی تیاریاں کر رہا ہے تو اسے خاصکر سلسلہ آستانہ کے دیگر ضامن ممالک روس اور ایران کی جانب سے مختلف تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ سوچی میں صدر ایردوان کی روسی صدر پوتن سے ملاقات کے بعد جناب ایردوان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پوتن نے انہیں اسد انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے علاقے کو PKK۔ وائے پی جی سے پاک کرنے کے حوالے سے تجاویز پیش کی ہیں۔ تا ہم عالمی میڈیا کو نا پسند ایک دوسرے بیان میں خفیہ اداروں کے درمیان طویل عرصے سے روابط ہونے تا ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی قسم کی پیش رفت حاصل نہ ہونے کا اظہار شامل تھا۔ ایردوان کے بعد چاوش اولو کے دیرپا امن اور ملک کا بٹوارہ نہ ہونے کے لیے اسد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت قائم ہونی چاہیے پر مبنی بیان نے یہ سوال کھڑا کیا ہے کہ آیا ترکی شام میں اپنی پوزیشن تبدیل کر رہا ہے ۔ حتی اس پیش رفت کے بعد شام میں ترکی کے زیر اثر بعض علاقوں میں کچھ مظاہرے بھی ہوئے۔ تا ہم ترک دفترِ خارجہ نے اس صورتحال کو واضح کرتے ہوئے ترکی کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2254 نمبر کی قرار داد اور سلسلہ آستانہ سے وضع ہونے والی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہ آنے اور شامی انقلاب اور انقلابی قوتوں کی حمایت کو جاری رکھنے پر زور دیا گیا ۔
در حقیقت اگر مبالغہ آمیز موقف کو ایک طرف چھوڑیں تو یہ کہنا ممکن ہے کہ ترکی پہلے ہی سے کافی عرصے سے شام میں سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیتا چلا آرہا ہے اور اس تناظر میں اس نے سلسلہ آستانہ میں سیاسی مذاکرات اور نئے آئین سازی کے عمل کی بھر پور طریقے سے حمایت کی ہے۔ تا ہم اس نکتے پر اس عمل کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے عناصر ہمیشہ ملکی انتظامیہ اور اس کے حمایتی روس اور ایران رہے ہیں۔ اسد انتظامیہ اور اس کے اتحادیوں نے ابتک کسی قسم کی رعایت نہ دینے ، نئے آئین کی تشکیل ، اپوزیشن کے ملکی انتظامیہ کے ساتھ انضمام کا موقع فراہم کرنے والے کسی نئے نظام کے قیام کے لیے تیار نہ ہونے کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگر یہ حلقے مذکورہ پوزیشن سے باز آتے ہوئے حل کے حصول کے لیے تیار ہوتے ہیں تو یہ ویسے بھی ترکی اور مخالفین کی طویل عرصے سے خواہش کردہ ایک پوزیشن ہے۔
تا ہم اگر اسد انتظامیہ نے سیاسی سلسلہ حل میں کسی قسم کی رعایت کا مظاہرہ نہ کرنے کے موقف کو جاری رکھا تو اس صورت میں اسے ایک جائزہ ادا کار کی نظر سے دیکھتے ہوئے باہمی تعلقات کو معمول پر لایاجانا قطعی طور پر ایک غلط پوزیشن اور موقف ہو گا۔ میرےخیال میں ترکی بھی ہر گز اس چیز کا ارادہ نہیں رکھتا۔
