اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اہم سرکاری دورے پر امریکا روانہ ہو گئے،آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے حکام سے مذاکرات کریں گے۔
وزیر خزانہ کے مطابق امریکا میں مرکزی بینکرز، وزرا، نجی شعبے کے ایگزیکٹوز اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے بڑھتے ہوئے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کے علاوہ دیگر اہم مصروفیات کے لیے دورہ امریکا پر روانہ ہونے سے قبل وزیر خزانہ نے پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرام کو تمام شرائط کے ساتھ باعزت طریقے سے مکمل کرنے اور بانڈ ہولڈرز اور پیرس کلب کے قرض دہندگان کو وقت پر ادائیگی کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستان رواں مالی سال 2022-23 کے لیے میکرو اکنامک فریم ورک پر نظرثانی کے لیے باضابطہ درخواست کرے گا، بڑھتی مہنگائی، جی ڈی پی کی شرح نمو میں کمی، بجٹ خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے اہداف میں نرمی کی درخواست کی جائے گی۔
اعلیٰ پاکستانی عہدیدار کے مطابق آئی ایم ایف سے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) سے منسلک شرائط نرم کرنے کی درخواست بھی کی جائے گی جس میں اگلے چند ماہ کے لیے پیٹرولیم لیوی اور بجلی کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ منجمد کرنا بھی شامل ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پیرس کلب کے قرضوں کی ادائیگی میں توسیع کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ان قرض دہندگان کا مجموعی قرض کُل غیر ملکی قرضوں کے 11 فیصد سے زیادہ نہیں ہے اور اس سے سال بھر میں قرضوں میں ملنے والا ریلیف ایک ارب 20 کروڑ ڈالر سے کم ہوگا جبکہ پاکستان پیرس کلب ممالک کا تقریباً 10 ارب 70 کروڑ ڈالر کا مقروض ہے۔
اسحٰق ڈار نے کہا کہ جب ہم بیرونی ادائیگیوں کے لیے 32 سے 34 ارب ڈالر کا بندوبست کرنے جا رہے ہیں تو مزید ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کا بندوبست کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔
میکرو اکنامک فریم ورک پر نظر ثانی کی درخواست رواں مالی سال شدید سیلاب کے پیش نظر کی جائے گی جس نے تباہی مچا دی ہے اور پاکستان کی مشکلات سے دوچار معیشت کے لیے 30 ارب ڈالرز سے زائد کی تعمیراتی لاگت درکار ہے۔
واضح رہے کہ وزیر خزانہ کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کہ پاکستان تاریخ کے بد ترین سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹ رہا ہے جس سے تقریباً سوا 3 افراد متاثر ہوئے ہیں جب کہ لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔
