قطر میں ہونے والے #Fifa2022 میں ایران اور برطانیہ کے درمیان مقابلے کے آغاز پر ایرانی ٹیم کی جانب سے اپنا قومی ترانہ نہ پڑھنا، تمام عالمی اخبارات کی شہ سرخی بنا ہوا ہے۔ اس حوالے سے اکثر دوست استفسار کررہے تھے تو عرض ہے کہ:
۱۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا، عام حالات میں بھی کئی دفعہ ایرانی ٹیم ترانہ کے وقت خاموش رہی ہے۔
۲۔ ایران کے موجودہ حالات میں سابقہ اور موجودہ سلیبریٹیز (اداکاروں اور کھلاڑیوں) اور ایلیٹ کلاس کی (اگر اکثریت نہ بھی کہا جائے تو) ایک بڑی تعداد معترض، سوشل میڈیا سے متاثر اور مغربی کلچر کی حامی نظر آرہی ہے۔
۳۔ موجودہ ہنگاموں کی لہر کی قیادت اکثر میڈیا اور کھیل کی معروف شخصیات ہی کررہی ہیں جو ایران سے جاچکی ہیں۔ بالخصوص ایران کا سابق معروف فٹبال کھلاڑی علی کریمی جو باقاعدہ ہنگاموں کی قیادت کررہا ہے۔
۴۔ اس سے قبل بھی چند خواتین کھلاڑیوں نے کھیلوں میں حجاب اتارا جس پر بعد میں توضیح دی کہ غلطی سے ہوگیا اور احتجاج مقصد نہیں تھا، اسی طرح واٹر پولو اور بیچ سوکر کی ٹیم نے بھی مقابلوں میں ایران کا قومی ترانہ نہیں پڑھا تھا۔
۵۔ ایران کے حالات میں سارا کھیل سوشل میڈیا پر کھیلا جارہا ہے۔ جس سے معاشرے سے دور رہنے والی ایلیٹ کلاس کی ایک بڑی تعداد متاثر ہورہی ہے۔ دوسری جانب کھلاڑیوں پر ایران کے اسلامی جمہوری نظام کے مخالف قوتوں کی جانب سے بہت زیادہ پریشر ڈالا جارہا ہے۔ گذشتہ دو ماہ سے عالمی ذرائع ابلاغ کا مشہور شخصیات خصوصاً کھلاڑیوں پر پریشر اور پھر اسٹیڈیم میں موجود تماشائیوں کی بڑی تعداد کی جانب سے برطانیہ کی حمایت؛ ایرانی کھلاڑیوں کی مخالفت اور انہیں گالیاں دنیا بھی اس فضا کو سمجھنے میں مددگار ہے جس سے یہ طبقہ دوچار ہے۔ کھیل کے دوران بھی ٹیم کوچ نے تماشائیوں کو مخاطب کرکے درخواست کی کہ اگر حمایت نہیں کرسکتے تو مخالفت نہ کرو اور نہ آو۔ گولکیپر کے زخمی ہونے اور ٹیم کے ہارنے پر بھی تماشائیوں اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر خوشی اظہار کیا گیا۔
۶۔ ایران کے اسلامی جمہوری نظام مخالف قوتوں کی جانب سے یہ تقاضا تھا کہ پہلے مرحلے میں ایران کا فیفا میں جانے کا راستہ روکا جائے، دوسرے مرحلے میں کھلاڑی اگر ایران کی جانب سے میچ کھیلیں تو انکا بائکاٹ کیا جائے انکے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مخالفت کی جائے، جبکہ اسکے برعکس قطر نے ایران مخالف سعودی چینل ایران انٹرنیشنل کو ایران حکومت کی دہشتگرد اداروں کی لسٹ میں ہونے کے سبب ویزا دینے سے منع کردیا اور دوسری جانب بی بی سی فارسی کی ٹیم خود سکیورٹی کے نہ ہونے کے سبب قطر نہ آسکی۔
۷۔ ایرانی حکومت کی جانب سے فی الحال زور اس بات پر ہے کہ قومی ٹیم خود کو ایران کا نمائندہ سمجھے اور عوام اس ٹیم کو قومی ٹیم سمجھیں تاکہ ملک میں گروہ بندی ایجاد نہ ہو، جس میں کافی حد تک کامیابی بھی حاصل ہے۔ لہذا ایران کے موجودہ سیاسی نظام کے حامی تقریبا تمام تحلیل گر قومی ٹیم کی کسی منفی حرکت کو اس عالمی پریشر سے متاثر ہونے کے سبب نظر انداز کررہے ہیں۔ دوسری جانب کھلاڑیوں کی اکثریت بیلینس پالیسی اپنانا چاہ رہی ہے تاکہ پریشر کو کم کیا جاسکے۔
۸۔ ایک تحلیل یہ ہے کہ ایران حکومت کی جانب سے اب تک سوشل میڈیا پر جھوٹی افواہوں کے پھیلانے والوں کو کسی قسم کی تنبیہ نہ کرنا اسلام و اسلامی جمہوریہ کے مخالفین اور یورپ جانے کے خواہشمندوں کو یہ جرئت دے رہا ہے کہ کوئی کچھ بھی کرے اس سے سوال نہیں کیا جائے گا۔ جیسا کہ مہسا امینی کے والد کے جھوٹ واضح ہوجانے کے باوجود اور اسی طرح ملک میں موجود کئی اداکاروں اور کھلاڑیوں سے افواہوں اور جھوٹ پھیلانے پر کسی قسم کی تنبیہ نہیں کی گئی تھی۔
۹۔ حقیقت وہی ہے جس کی جانب پہلے اشارہ کیا کہ ایرانی عوام کی ایک بڑی تعداد گرچہ مجازی دنیا سے جلدی متاثر ہوتی دکھائی دیتی ہے لیکن میدان عمل میں عوام کی اکثریت اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت میں نظر آتی ہے۔ جس کا مشاہدہ شہداءکے جنازے اور ہنگاموں کے خلاف؛ حکومت کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں میں کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ ہنگاموں اور بلووں میں صرف گنی چنی تعداد ہی سڑکوں پر نظر آئی ہے جو تعداد میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔
۱۰۔ ایران فی الحال تمام جانب سے ذرائع ابلاغ کے حملوں کی زد پر ہے۔ جھوٹی خبروں کا طوفان اتنا شدید ہے کہ ایک سمجھدار انسان بھی تشویش کا شکار ہوجاتا ہے۔ خصوصا ایلیٹ کلاس، بے دینی و الحاد کی جانب تمایل رکھنے والے افراد اور سیلبرٹیز اس سے زیادہ متاثر نظر آرہے ہیں یا عمدی طور پر اس ماحول کو بنانے کا سبب بن رہے ہیں۔
۱۱۔ یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایران میں ایک طبقہ حکومتی پالیسیز پر معترض ہے جو طبیعی ہے اور ہر ملک میں موجود ہوتا ہے۔ لیکن ایک تعداد جو گرچہ اقلیت ہے لیکن بعض حلقات میں تاثیر گذار ہے وہ اس نظام کی نظریاتی مخالف ہے، جس میں بائیں بازو والی دہشتگرد تنظیمیں، شاہی نظام کے حامی اور تجزیہ طلب بلوچ، عرب، آذری اور کرد تنظمیں موجود ہیں۔ جو ایران کے ہمسایہ ممالک میں بیٹھ کر دہشتگردانہ فعالیت انجام دے رہی ہیں۔ ایرانی نظام کی ایک بنیادی کوشش یہ ہے کہ ان دو طرح کے مخالفین و معترضین کے درمیان واضح فرق رکھا جائے۔
تحریر: سید محمد روح اللہ رضوی
ہفتہ، 26 نومبر 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post ایران کی فٹ بال ٹیم نے قومی ترانہ کیوں نہیں پڑھا؟ شفقنا بین الاقوامی appeared first on شفقنا اردو نیوز.
