وزیرمملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے ایک روزہ دورہ کابل میں افغان حکمران طالبان کی قیادت سے سیکیورٹی مسائل اور معاشی تعاون سمیت وسیع پیمانے پر مذاکرات کیے۔
وزیرمملکت حنا ربانی کھر کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کے وفد نے افغانستان کا دورہ کیا جو رواں برس وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں اتحادی حکومت کے قیام کے بعد کسی وزیر کا پہلا دورہ کابل ہے۔
دفترخارجہ نے بیان میں کہا کہ حنا ربانی کھر نے دورے میں افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی سے کابل میں پہنچنے کے فوری بعد ملاقات کی جہاں افغانستان کے لیے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق بھی وفد کے ہمراہ موجود تھے۔
افغان عہدیدار کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان مشترکہ مفادات کا جائزہ لینے اور پیش رفت کے لیے مسائل کا مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کے لیے ایک نیا میکنیزم متعارف کروانے پر اتفاق کرلیا ہے۔
افغان وزارت خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیا تکل نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ دونوں فریقین نے مسائل کے حل کے لیے مثبت اور تعمیری حل نکالنے پر بھی اتفاق کر لیا ہے۔
نائب ترجمان نے کہا کہ وزیرخارجہ امیر خان متقی نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات عوام اور خطے کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امیرخان متقی پاکستان میں قید افغان شہریوں کی رہائی، سرحد پر آمد و رفت کے لیے مسافروں کو سہولت دینے اور تجارت اور ٹرانزٹ میں مدد کرنے کا معاملہ بھی اٹھایا۔
اس سے قبل پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر کی سربراہی میں ایک روزہ دورے پر افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچا تھا۔
اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ حنا ربانی کھر نے افغان عبوری حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی۔
Ministry of Foreign Affairs of Taliban announced that a delegation of Ministry of Foreign Affairs of Pakistan led by Hina Rabbani Khar has arrived in Kabul. Pakistani delegation is supposed to discuss various issues with Taliban officials,including girls education and trade pic.twitter.com/6Urx7NdtFI
— Ghulam Abbas Shah (@ghulamabbasshah) November 29, 2022
