English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

‘جنرل باجوہ کو آخری وقت تک لگتا رہا عدم اعتماد نہیں آئے گی، PDM نے انہیں گمراہ کیے رکھا’

القمر

جنرل قمر باجوہ کو آخر تک یقین رہا کہ تحریک عدم اعتماد نہیں آئے گی اور انہوں نے عمران خان کو بھی یہی بتایا تھا۔ جنرل باجوہ کو تحریک عدم اعتماد کے بارے میں گمراہ کیا گیا تھا۔ جنرل باجوہ جن چینل کے ذریعے پی ڈی ایم کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے اس چینل کو پی ڈی ایم والے غلط بتا رہے تھے کہ تحریک عدم اعتماد نہیں لا رہے کیونکہ ہمارے پاس بندے ہی پورے نہیں ہیں۔ اس وقت کی اپوزیشن اور موجودہ حکومتی اتحاد میں شامل سیاست دان جان بوجھ کر جنرل باجوہ کو گمراہ کر رہے تھے اور اسی وجہ سے باجوہ صاحب آخر تک غلط فہمی میں رہے۔ یہ کہنا ہے سینیئر صحافی حامد میر کا۔

جیو نیوز کے پروگرام ‘جیو پاکستان’ میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے بتایا کہ جس دن شہباز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرکے یہ فیصلہ سنایا کہ ہم تحریک عدم اعتماد لے کر آ رہے ہیں اس کے بعد افراتفری پیدا ہو گئی کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے، اہم اداروں کے بہت سارے لوگوں کے تبادلے کر دیے گئے کہ تم نے ہمیں اس بارے میں بتایا کیوں نہیں۔ پی ڈی ایم کا یہ بہت خفیہ اور کامیاب آپریشن تھا۔

تحریک عدم اعتماد جب پیش ہو گئی تو جنرل باجوہ کو یہ مشکل پیش آئی کہ تب تک فوج تین کور کمانڈرز کانفرنسوں میں بحث مباحثے کے بعد اصولی فیصلہ کر چکی تھی کہ وہ سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی تو اب جنرل باجوہ خفیہ ایجنسیوں کو تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کے لیے نہیں کہہ سکتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے ذاتی حیثیت میں فوج کے ادارے کو بائی پاس کرتے ہوئے یعنی فوج سے باہر ہی باہر اپنے رکھے ہوئے لوگوں کے ذریعے سے ایم کیو ایم سے رابطہ کیا، بلوچستان عوامی پارٹی کو کہا کہ عمران خان کا ساتھ نہ چھوڑو۔ حامد میر نے بتایا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماؤں کو اغوا کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں جن کی تفصیل بھی کسی وقت سامنے لاؤں گا۔

پرویز الہیٰ نے جس طرح شہباز شریف کے ساتھ کمٹ منٹ کر لی تھی تو یہ بھی جنرل باجوہ کے لیے بہت بڑا سرپرائز تھا۔ انہیں لگ رہا تھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف پرویز الہیٰ کو کبھی قبول نہیں کریں گے مگر ان کا اندازہ یہاں بھی غلط ہو گیا۔ پھر انہوں نے پرویز الہیٰ کو مونس الہیٰ کے ذریعے پیغام بھیج کر کہا کہ عمران خان کا ساتھ دیں۔ جب تحریک عدم اعتماد پیش ہو گئی تو جنرل باجوہ نے پی ڈی ایم میں شامل 13 جماعتوں کے رہنماؤں کو ملاقات کے لیے بلایا اور ان سے کہا کہ تحریک واپس لے لیں مگر سبھی نے انکار کر دیا۔ اس ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم بھی ان کے ہمراہ تھے۔

اس کے بعد جنرل باجوہ نے شہباز شریف اور آصف زرداری کو علیحدہ سے بلایا، اس بات کا ڈی جی آئی ایس آئی کو علم نہیں تھا۔ جنرل باجوہ نے دونوں سے وہ مطالبہ کیا کہ تحریک عدم اعتماد واپس لیں اور دونوں نے پھر انکار کر دیا۔ جنرل باجوہ عمران خان کو بچانے کی پوری کوشش کرتے رہے مگر عمران خان اپنے رویے کی وجہ سے حکومت نہ بچا سکے اور یہی سمجھتے رہے کہ جنرل باجوہ نے ان کے ساتھ ڈرامہ کیا ہے۔ عمران خان کو یہی لگتا رہا کہ جیسے میں باجوہ صاحب کی ساری باتیں مان جاتا ہوں باقی سیاست دان بھی مان جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے