وزیردفاع خلوصی آقار کا کہنا ہے کہ اس سال کے آغاز سے اب تک شمالی عراق اور شام میں مجموعی طور پر 3,982 دہشت گردوں کو بے اثر کیا گیا ہے۔
خلوصی آقار نے وزارت کی سالانہ سرگرمیوں کے بارے میں پریس تنظیموں کے انقرہ کے نمائندوں کو آگاہی کرائی۔
انہوں نے بتایا کہ یکم جنوری سے ابتک سرحدوں سے 2 لاکھ 56 ہزار غیر قانونی افراد کے گزر کو روکا گیا ہے ، گرفتار کیے گئے 8 ہزار کے لگ بھگ مہاجرین سمیت 820 دہشت گردوں کو سیکیورٹی قوتوں کے حوالے کیا گیا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے، آقار نے کہا کہ سلسلہ حل کے اختتام (2015)سے لیکر ابتک ، "ملک میں، شمالی عراق اور شام میں مجموعی طور پر 37,285 دہشت گردوں کو بے اثر کیا گیا ہے۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ 17 اپریل کو شمالی عراق میں شروع کیے گئے آپریشن پنجہ کلیدکے دائرہ کار میں 506 دہشت گردوں کو غیر فعال بنایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ کے جنوب میں دہشت گردی راہداری کی تشکیل کے ہدف کا شام کے شمال میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے ذریعے سد باب کیا گیا تھا۔
بحیرہ ایجیئن اور مشرقی بحیرہ روم میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے، آقار نے کہا کہ ترکیہ کی نیک نیتی، حقیقت پسندانہ اور مخلصانہ روش کے باوجود، یونان کشیدگی کو بڑھانے کے لیے اشتعال انگیزی اور جارحانہ اقدامات اور بیان بازی کے ساتھ اپنا غیر قانونی رویہ جاری رکھے ہوئے ہے، اب نیٹو کو چاہیے کہ یہ اس کے شرارتی موقف کو روکے۔
یونان کی ہر طرح کی غیر حق بجانب اور غیر قانونی کاروائیوں کا سفارتکاری اور میدان میں لازمی جواب دیے جانے کی وضاحت کرتے ہوئے جناب آقار نے بتایا کہ ہم یونان کے سیاستدانوں اور فوج کے عہدیداروں سے داخلی پالیسیوں کے لیے اس اشتعال انگیز موقف سے باز آنے کی اپیل کر چکے ہیں۔ اور ہم 9 ستمبر 1922 میں رونما ہونے والے واقعات سے سبق سیکھنے کی توقع رکھتے ہیں۔
صدر ایردوان کی فعال سفارت کاری کے نتیجے میں قیام پذیر ہونے والی بحیرہ اسود میں اناج راہداری کا حوالہ دیتے ہوئے خلوصی آقار نے کہا کہ آج تک، یوکرین کی بندرگاہوں سے تقریباً 15 ملین ٹن اناج محفوظ طریقے سے ضرورت مند ممالک کو بھیجا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے ساتھ 40 عدد ایف۔16 وائپر لڑاکا طیاروں کے حصول اور 79 طیاروں کی تجدید کے حوالے سے کام جاری ہے اور ہم ا مریکہ کی جانب سے اس کام کو مثبت طریقے سے نقطہ پذیر کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔
